حضرت ابوبکر نے حدیث ”ہم گروہِ انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے“ گھڑ کر فدک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ملکیت سے ضبط کر لیا
❗️حضرت ابوبکر نے حدیث ”ہم گروہِ انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے“ گھڑ کر فدک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ملکیت سے ضبط کر لیا!
یہ اس حال میں ہوا کہ پیغمبرؐ کی میراث ضبط کرنے کا یہ حکم دوہرا معیار اختیار کرتے ہوئے صرف پیغمبر کی بیٹی پر نافذ کیا گیا!
تمام اہلِ سنت کے مصادر میں قطعی طور پر ثابت ہے کہ پیغمبرؐ کی ازواج کے گھروں کی مالک وہ ازواج نہ تھیں، اور فقہی اعتبار سے رسول خداؐ کی غیر منقولہ جائیداد کی اصل وارث حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا تھیں۔ اسی بنیاد پر رسولؐ کی ہر بیوی کا اپنے حجرے میں رہنا، اصلی وارث سے اجازت لینے پر موقوف تھا۔
لیکن سقيفہ کے منصوبہ سازوں نے اپنے اس جعلی قانون کو پیغمبرؐ کی ازواج پر لاگو نہ کیا! اور پیغمبرؐ کی بیویوں جن میں ابوبکر کی بیٹی حضرت عائشہ بھی شامل تھیں نہ صرف وراثت سے فائدہ اٹھاتی رہیں بلکہ ان گھروں پر بھی قابض رہیں جن میں وہ رہتی تھیں؛ اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث ان حجرات کو خرید و فروخت کرنے پر بھی قادر تھیں۔
حضرت عائشہ نے اپنی رہائش گاہ کو ایک مرتبہ عثمان کے دور میں اور ایک بار معاویہ کے دور میں وقت کے حکمرانوں کو فروخت کیا!
ان میں سے ایک فروخت کی قیمت 200,000 درہم تھی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ اپنی زندگی کے آخری دن تک وہیں مقیم رہے!
اس زمانے میں 4 درہم ایک خاندان کے اوسط ہفتہ وار خرچ کے برابر تھے۔
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen