Back to فدک

خطبۂ فدک کتب اہل سنت سے ماخذ

خطبۂ فدک کتب اہل سنت سے ماخذ
خطبۂ فدک کتب اہل سنت سے ماخذ
خطبۂ فدک کتب اہل سنت سے ماخذ
خطبۂ فدک کتب اہل سنت سے ماخذ
خطبۂ فدک کتب اہل سنت سے ماخذ
خطبۂ فدک کتب اہل سنت سے ماخذ
خطبۂ فدک کتب اہل سنت سے ماخذ
خطبۂ فدک کتب اہل سنت سے ماخذ
خطبۂ فدک کتب اہل سنت سے ماخذ

🔴 حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کا خطبۂ فدک جس میں سیدہ نے امت کے انحراف پر دردناک کلام کیا ، جو امت کے مظالم پر اشارہ کرتا ہے

 

👈 کتب اہل سنت سے

 

جب اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے لیے انبیاء کے گھر اور برگزیدگان کے ٹھکانے کو چن لیا (یعنی نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا)، تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے مسجد نبوی میں ایک شاندار اور غرا خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں آپ نے امت کی روش پر گہرے الفاظ میں احتجاج فرمایا:

 

📜 فَلَمّا اختارَ اللهُ لِنَبِيِّهِ دارَ أَنْبِيائِهِ وَ مَأْوي أَصْفِيائِهِ، ظَهَرَ فيكُمْ حَسَكَةُ النِّفاق

 

“جب اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو انبیاء کے مسکن کی طرف بلایا، تو تمہارے اندر نفاق کے کانٹے ظاہر ہو گئے۔”

 

📜 وَ سَمَلَ جِلبابُ الدِّين

 

“اور تمہارے درمیان دین کا لباس پرانا ہو گیا، دین و روحانیت کا نور ماند پڑ گیا۔”

 

📜 وَ أَطْلَعَ الشَّيْطانُ رَأْسَهُ مِنْ مَغْرِزِهِ هاتِفاً بِكُمْ

 

“شیطان نے اپنا سر اپنے چھپنے کی جگہ سے نکالا،

اور تمہیں پکارنے لگا، تمہیں اپنی طرف دعوت دی۔”

 

📜 فَأَلْفاكُمْ لِدَعْوَتِهِ مُسْتَجِيبينَ، فَوَسَمْتُمْ غَيْرَ إِبِلِكُمْ، وَ وَرَدْتُمْ غَيْرَ مَشْرَبِكُمْ

 

“پس اس نے تمہیں اپنی دعوت کا لبیک کہتے پایا 

تم نے دوسروں کے اونٹوں پر اپنا نشان لگایا،

اور غیروں کے آبشخور پر جا اترے!

(یعنی تم نے اپنی حد سے تجاوز کیا، دوسروں کے حق پر قبضہ کیا۔)”

 

📜 هذا وَ العَهْدُ قَريبٌ، وَ الكَلْمُ رَحيبٌ، وَ الجُرحُ لَمّا يَندَمِل، وَ الرَّسولُ لَمّا يُقْبَر

 

“عجبا! ابھی عہدِ رسول قریب ہے،

باتیں تازہ ہیں،

زخم دل بھرے نہیں،

اور رسول خدا ﷺ ابھی دفن بھی نہیں ہوئے تھے

کہ تم نے یہ سب کچھ کر ڈالا!”

 

📜 زَعَمْتُمْ خَوْفَ الفِتْنَةِ، أَلا فِي الفِتْنَةِ سَقَطُوا، وَ إِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرينَ

 

“تم نے خیال کیا کہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو فتنہ برپا ہو جائے گا،

لیکن تم خود فتنے میں جا پڑے!

اور یقیناً جہنم کافروں کو گھیرنے والی ہے۔”

 

📚 مآخذ:

 

دلائل الإمامة (الطبری الشیعی)، ص 116

الاحتجاج (الطبرسی)، ج 1، ص 137

الطرائف (ابن طاووس)، ص 265

بحار الأنوار (العلامہ المجلسی)، ج 29، ص 225

بلاغات النساء (ابن أبی طیفور)، ص 14

أعلام النساء (عمر رضا کحالة)، ج 3، ص 219

السقیفة و فدک (الجوهری)، ص 143

شرح نہج البلاغہ (ابن أبی الحدید المعتزلی)، ج 10، ص 238؛ ج 16، ص 251

الدر النظيم (ابن حاتم العاملی)، ص 472

جواهر المطالب في مناقب الإمام علي (شمس الدین الباعونی الشافعی)، ج 1، ص 160

 

بدر علی

 

۔

 

🔴 وہ خطبۂ جو حضرت فاطمہؑ کا خود اہل سنت کی اپنی کتابوں میں نقل ہوا ہے 

 

جن میں ابن اثیر جزری (وفات 544ھ) کی منال الطالب صفحہ 501، ابن طَیفور (وفات 380ھ) کی بلاغات النساء، عصرِ حاضر کے اہلِ سنت کے ممتاز محقق عمر رضا کحّالہ کی اعلام النساء جلد 3 صفحہ 219، اور جوہری کی السقیفہ و الفدک شامل ہیں ان سب میں یہ الفاظ موجود ہیں:

 

📜 "اور اب تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ ہمارا کوئی میراث نہیں! کیا تم جاہلیت کا حکم چاہتے ہو؟ اور ایمان رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر کس کا حکم ہوسکتا ہے؟ کیا تم جانتے نہیں؟ کیوں نہیں! تم پر بالکل روشن سورج کی طرح ظاہر ہے کہ میں اُس کی بیٹی ہوں۔ کیا میرا اپنے ہی حقِ میراث پر غالب آ جانا روا ہے؟

اے ابو قحافہ کے بیٹے! کیا اللہ کی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ تم اپنے باپ کے وارث بنو گے اور میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں؟ تم تو بہت بڑا بہتان لے آئے ہو، اللہ اور اس کے رسول پر۔

کیا تم نے جان بوجھ کر اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا اور اسے پسِ پشت ڈال دیا؟ جبکہ وہ فرماتا ہے: ‘اور سلیمان نے داود سے میراث پائی’۔ اور یحییٰ بن زکریاؑ کے بارے میں فرماتا ہے: ‘پروردگار! مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا کر جو میرا بھی وارث ہو اور آلِ یعقوب کا بھی وارث’ اور یہ بھی فرمایا: ‘اور رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں’۔

اور فرمایا: ‘اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے’۔ اور فرمایا: ‘والدین اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرنا پرہیزگاروں پر حق ہے’۔

پھر تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ مجھے اپنے باپ سے نہ کوئی حصہ ہے، نہ میراث، نہ رشتہ؟ کیا اللہ نے تمہیں ایسی آیت سے خاص کیا ہے جس نے میرے باپ محمدؐ کو اس سے باہر نکال دیا ہو؟

یا کیا تم یہ کہتے ہو کہ دو مختلف ملتوں والے آپس میں میراث نہیں پاتے؟ تو کیا میں اور میرا باپ ایک ہی ملت سے نہیں ہیں؟"

 

جب ابوبکر نے کہا کہ ’’انبیاء میراث نہیں چھوڑتے‘‘ تو حضرت فاطمہؑ نے فرمایا:

 

“تم گمان کرتے ہو کہ مجھے کوئی میراث نہیں ملے گی؟ کیا تم احکامِ جاہلیت کو زندہ کر رہے ہو؟”

(جاہلیت میں جب کوئی مر جاتا تو سارا ترکہ صرف بیٹے کو ملتا تھا، بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا جاتا تھا)

 

پھر فرمایا:

 

“اے مسلمانو! تم دیکھ رہے ہو کہ زبردستی میرا حقِ میراث لوٹا جا رہا ہے۔”

 

اور ابن ابی قحافہ سے کہا:

 

“اے ابنِ ابی قحافہ! کیا قرآن میں یہ لکھا ہے کہ تم اپنے باپ کے وارث بنو گے اور میں فاطمہؑ اپنے باپ کی وارث نہ بنوں؟ اگر تمہاری یہی رائے ہے تو تم نے اللہ اور قرآن پر جھوٹ باندھا ہے یا پھر تم نے جان کر اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا ہے اور اسے پیچھے پھینک دیا ہے۔

 

تم کہتے ہو: ‘ہم گروہِ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے’۔ کیا قرآن نہیں کہتا کہ سلیمان نے داود سے میراث پائی؟ (نمل 16)

اللہ نے زکریا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ‘پروردگار! مجھے ایک وارث عطا کر جو میرا اور آلِ یعقوب کا وارث ہو’ (مریم 5–6)۔

یا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ میں اپنے باپ سے میراث نہیں پا سکتی، گویا میں اس کی بیٹی ہی نہیں؟

کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا اور میرے باپ کا آپس میں کوئی رشتہ ہی نہیں؟! یا یہ کہ میرا باپ ایک ملت سے تھا اور میں کسی دوسری ملت سے؟!”

 

🔴 ان اہلِ سنت کے ماخذ میں یہ خطبہ موجود ہے:

 

1️⃣ جواهر المطالب في مناقب الإمام علي (ع)

مصنف: شمس الدین ابو البرکات محمد بن احمد دمشقی شافعی (وفات 871 ہجری)

جلد 1، صفحہ 160

 

2️⃣ منال الطالب في شرح طوال الغرائب

مصنف: ابن اثیر جزری (وفات 544 ہجری)

صفحہ 501

 

3️⃣ بلاغات النساء

مصنف: ابن ابی طیفور (وفات 380 ہجری)

صفحہ 14

 

4️⃣ أعلام النساء

مصنف: عمر رضا کحّالہ (معاصر سنّی عالم)

جلد 3، صفحہ 219

 

5️⃣ السقيفة و فدك

مصنف: جوہری (وفات 323 ہجری)

صفحہ 143

 

6️⃣ شرح نہج البلاغہ

مصنف: ابن ابی الحدید معتزلی

جلد 10، صفحہ 238

جلد 16، صفحہ 251

 

🔴 شیعہ مصادر میں حضرت فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیها) کا خطبہ

 

شیعہ علماء نے بھی اس خطبے کو اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے:

 

1️⃣ دلائل الإمامة

مصنف: محمد بن جریر طبری شیعی

صفحہ 116

 

2️⃣ الاحتجاج

مصنف: مرحوم طبرسی

جلد 1، صفحہ 137

 

3️⃣ الطرائف

مصنف: سید بن طاووس

صفحہ 265

 

4️⃣ بحار الأنوار

مصنف: علامہ مجلسی

جلد 29، صفحہ 225

 

۔

 

یہاں شیخ عمر رضا کَحالہ کی کتاب کا حوالہ بھی موجود ہے 

 

جو بیسویں صدی کے مشہور عالم، محدث، اور مورخ تھے۔

انہیں موسوعی (encyclopedic) عالم کہا جاتا ہے،

جنہوں نے عرب و اسلام کی مشہور شخصیات پر کثیر تحقیقی کام کیا۔

 

📘 تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں:

 https://shamela.ws/index.php/author/716

 

#بدر_علی 

#طالب_دعا 

#تبدیلی_ممنوع 

#تعلیمات_اہلبیتؑ  

#استشهاد_فاطمة_الزهراء 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9