Back to سیدہ فاطمہ بنت محمد ص

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں «ابوبکر بن العربی المالکی» کی توہین

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں «ابوبکر بن العربی المالکی» کی توہین

⚠️ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں «ابوبکر بن العربی المالکی» کی عجیب و غریب توہین

 

┄┄┅═✧❁﷽❁✧═┅┄┄

 

🔷 «ابوبکر بن ابن عربی مالکی» (وہ صوفی ابن عربی نہیں) اہلِ سنت کے ایک عالم ہیں۔ ان کا انتقال 543ھ میں ہوا اور اہلِ سنت کے نزدیک ان کا ایک بلند مقام ہے۔

 

ان کی سوانح عمری تاریخی کتابوں اور مفسرین و رواۃ کے حالات پر مشتمل کتب میں ذکر ہوئی ہے۔ ان کے بارے میں لکھا جاتا ہے:

 

«الإمام العلّامة الحافظ القاضي»

ترجمہ: وہ امام، علامہ، حدیث کے حافظ اور منصبِ قضا پر فائز تھے۔

(سیر أعلام النبلاء، 20/197)

 

👈🏻 ابن عربی مالکی کے تعارف کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے اپنی کتابوں جیسے «العواصم من القواصم» اور «عارضة الأحوذي» میں بارہا اہلِ بیت علیہم السلام کی مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کی ہے۔ بعض اہلِ سنت علماء نے بھی انہیں ناصبی قرار دیا ہے۔ ان کے ناصبی ہونے کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے کہ ابن تیمیہ نے اپنی بہت سی باتیں اسی شخص اور اس کی کتاب سے لی ہیں۔

 

❗️ انہوں نے اپنی کتاب «سراج المریدین في سبيل الدين» میں آیتِ مبارکہ «خافِضَةٌ رافِعَةٌ» (الواقعہ: 3) کی ایک عجیب و غریب تفسیر کرتے ہوئے حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شان میں گستاخی کی ہے۔

 

🔷 قیامت کے ناموں کی شرح والے ایک باب میں، انہوں نے «خافضة» (نیچے گرانے والی) اور «رافعة» (اوپر اٹھانے والی) کے 12 معانی بیان کیے ہیں۔

 

ان میں سے چوتھا معنی یہ بیان کرتے ہیں:

 

«...رابعها: الأبرار يُرفعون إلى عليّين ويُخفض المنافقون إلى الدرك الأسفل من النار»

ترجمہ:

چوتھا معنی یہ ہے کہ نیکوکاروں کو “علیّین” کی طرف بلند کیا جائے گا اور منافقوں کو جہنم کے سب سے نچلے درجے میں گرا دیا جائے گا۔

(سراج المریدین، 1/361)

 

یہ ایک ایسا معنی ہے جو بعید از عقل نہیں، بلکہ ہزاروں ممکنہ مصادیق میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

 

🤔 لیکن انتہائی تعجب کی بات یہ ہے کہ وہی شخص بارہویں معنی میں نہایت بے حیائی کے ساتھ کہتا ہے:

 

«ترفع عائشة على فاطمة وهي الرتبة الثانية عشر؛ فإن عائشة مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم وفاطمة مع علي رضوان الله عليه»

 

ترجمہ:

قیامت کے دن عائشہ کو فاطمہ پر فضیلت دی جائے گی — اور یہ بارہواں معنی ہے — کیونکہ عائشہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہیں اور فاطمہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہیں!

(سراج المریدین، 1/362)

 

⁉️ یہاں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں:

 

🔺 کون سا عقلی یا نقلی اصول اس تفسیر کی تائید کرتا ہے؟

 

🔻 کون سا مفسر، اس سے پہلے یا بعد، ایسی گھٹیا تفسیر پیش کرتا ہے؟

 

🔺 اگر عائشہ کو صرف “زوجۂ نبی” ہونے کی وجہ سے یہ مقام دیا جا رہا ہے، تو باقی ازواجِ نبی کو بھی یہی مقام ملنا چاہیے؛ پھر مصنف نے صرف عائشہ کا نام ہی کیوں لیا؟ کیا یہ محض تعصب اور ناصبیت نہیں؟

 

🔻 کیسے ممکن ہے کہ جس کے بارے میں سورۂ تحریم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں، اسے اس ہستی پر فوقیت دی جائے جو آیۂ مباہلہ اور آیۂ تطہیر کا مصداق ہے؟

 

🔻 آخری سوال یہ ہے کہ آخر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اس گروہ کے ساتھ کیا کیا ہے کہ صدیوں سے کچھ لوگ ان کی شان گھٹانے اور ان کی توہین کرنے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں؟

 

🔸 قابلِ ذکر ہے کہ معاصر مغربی عالم «عبد العزیز غماری (متوفی 1418ھ)» نے اس قول کے رد میں ایک رسالہ «الوقاية المانعة من وسوسة أبي بکر بن العربي في قوله تعالى "خافضة رافعة"» تحریر کیا اور سخت تنقید کی، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ خود غماری نے اپنی اس ردّیہ کے آخر میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بارے میں ابوجہل کی بیٹی سے منسوب ایک من گھڑت قصہ بیان کر کے انہی پر جسارت کی!

 

ابن عثیمین کی طرف سے حضرت زہرا کی شان میں گستاخی

 

ابن تیمیہ کا حضرت زہرا پر نفاق کی نسبت دینا

 

ذہبی کا دنیا طلبی کی نسبت دینا

 

لکنوی کا گناہ کی نسبت دینا

 

عثمان الخمیس کی گستاخی

 

╌───┈⊰᯽⊱┈───╌

 

✍🏻 نوٹ: واضح ہے کہ جب ابوبکر اور عمر سیدۂ نساء العالمین سلام اللہ علیہا کی تکذیب کریں اور ان کی توہین کریں، تو اس مکتب کے علماء بھی اپنے پیشواؤں کی پیروی کرتے ہیں۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1