"ام ابیھا"
سیدہ خاتون جنت ص کی سب سے زیادہ حیرت انگیز کنیت ام ابیھا ھے، یعنی (اپنے باپ کی ماں)، یہ لقب اس بات کا ترجمان ھے کہ آپ اپنے والد بزرگوار کو بے حد چاھتی تھیں اور کمسنی کے باوجود اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں ۔
پیغمبر اسلام(ص) نے آپ کو ام ابیھا کا لقب اس لئے دیا . کیونکہ عربی میں اس لفظ کے معنی، ماں کے علاوہ اصل اور مبداء کے بھی ھیں یعنی جڑ اور بنیاد۔
لھذا اس لقب(ام ابیھا) کا ایک مطلب نبوت اور ولایت کی بنیاد اور مبدا بھی ہے۔ کیونکر یہ آپ ھی کا وجود تھا، جس کی برکت سے شجرہ ٴ امامت اور ولایت نے رشد پایا، جس نے نبوت کو نابودی اور نبی خدا کو ابتریت کے طعنہ سے بچایا ۔
زیل میں ان علماء و محدثین اہلسنت کے نام دیئے جارهے هیں. جنہوں نے اپنی کتب میں جناب سیدہ ع کے اس خصوصی لقب کا تذکرہ کیا هے....!!!
1-الإصابة (حافظ ابن حجر عسقلانى)
2-الاسیعاب ( حافظ ابن عبد البر اندلسی)
3-اسد الغابة (حافظ ابن اثیر الجزري)
4-سیر العلام النبلاء (حافظ زهبی دمشقی)
5-تهزیب التهزیب ( حافظ ابن حجر عسقلانى)
6-تاریخ الإسلام ( حافظ زهبی دمشقی)
7-امتاع لاسماع (المقریزی)
8-عمدة القارئ شرح صحيح البخاري (بدر الدین عینی)
9-البداية والنهاية فی التاريخ (حافظ ابن کثیر دمشقی)
10-مجمع الزوائد (حافظ نور الدين علی الهیثمی)
11-مناقب علی ابن ابی طالب (حافظ ابو الحسن بن محمد الواسطی)
12-منتخب من کتاب زیل المزیل ( محمد بن جرير الطبري)
13-تاريخ المدينة و دمشق (حافظ ابن عساکر)
14-عقیدہ فی اہلبیت (حافظ سلمان ن سالم)
15-المعجم الكبير (حافظ ابی القاسم احمد الطبراني)
16-کتاب الکاشف ( حافظ زهبی الدمشقي)
ابو قاسم الفردوسی
منقول
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen