قیامت کے دن حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کے مقامِ عظمت کی تجلی
♥️ قیامت کے دن حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کے مقامِ عظمت کی تجلی ♥️
⭕ اہلِ سنت کے علماء کی روایات میں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
📜 ’’جب قیامت کا دن ہوگا تو ندا کرنے والا ندا کرے گا: اے اہلِ محشر! اپنی نگاہیں نیچی کر لو اور اپنے سر جھکا لو، تاکہ فاطمہ بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزر سکیں۔ پھر وہ گزریں گی، اور ان پر دو سبز چادریں ہوں گی۔‘‘
♦️ بعض روایات کے مطابق: ’’دو سرخ چادریں‘‘
✅ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
📜 ’’جب قیامت کا دن ہوگا تو منادی ندا کرے گا: اے جمعیتِ محشر! اپنی نگاہیں نیچی کرو اور اپنے سر ادب سے جھکا لو، کیونکہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا گزرنا چاہتی ہیں۔ پھر وہ گزریں گی اور ان کے سر پر سبز رنگ کا کپڑا ہوگا۔‘‘
کچھ روایات میں یہ بھی ہے:
♦️’’وہ ستر ہزار حورالعین کی خادماؤں کے ساتھ بجلی کی طرح گزریں گی۔‘‘
📚 المستدرک للحاکم نیشابوری، ج 3، ص 175
📚 کنز العمال، ج 13، ص 91 و 93
📚 منتخب کنز العمال، بهامش المسند، ج 5، ص 96
📚 الخصائص الکبری للسيوطی، ج 2، ص 389
📚 الصواعق المحرقة، ص 190
📚 أسد الغابة، ج 5، ص 523
📚 تذکرة الخواص، ص 279
📚 ذخائر العقبی، ص 48
📚 مناقب الإمام علی لابن المغازلي، ص 356
📚 نور الأبصار، ص 51 و 52
📚 ينابيع المودّة، ج 2، باب 56 و 136
📚 مجمع الزوائد، ج 9، ص 212
📚 اتحاف السائل بما لفاطمة من المناقب والفضائل، ج 1، ص 72
📚 الفتح الكبير للسيوطي، ج 1، ص 141
📚 معرفة الصحابة لأبي نعيم، ج 6، ص 3191 و حدیث 7333
✅ دوسرا متن حدیث صحیح
📚 المستدرك على الصحيحين للحاكم
كتاب معرفة الصحابة رضي الله عنهم
▪️ذكر مناقب فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم
📜 4711 أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي ، ببغداد ، وأبو بكر بن أبي دارم الحافظ ، بالكوفة ، وأبو العباس محمد بن يعقوب ، وأبو الحسين بن ماتي ، بالكوفة ، والحسن بن يعقوب ، العدل ، قالوا : ثنا إبراهيم بن عبد الله العبسي ، ثنا العباس بن الوليد بن بكار الضبي ، ثنا خالد بن عبد الله الواسطي ، عن بيان ، عن الشعبي ، عن أبي جحيفة ، عن علي عليه السلام قال : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : « إذا كان يوم القيامة نادى مناد من وراء الحجاب : يا أهل الجمع ، غضوا أبصاركم عن فاطمة بنت محمد صلى الله عليه وسلم حتى تمر » « هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ، ولم يخرجاه »
🔴 جنت میں سب سے پہلے کون جائے گا؟ 🔴
تاریخ بغدادی کے مصنف نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے جس میں رسول اللہ(ص) نے فرمایا: جب مجھے شب معراج ملکوت اعلٰی کی سیر کرائی گئی تو میں نے جنت کے دروازے پر یہ جملہ لکھا دیکھا:
📜 لا اله الاّ اللّه، محمد رسول اللّه، علی حبیب اللّه، و الحسن و الحسین صفوة اللّه و فاطمة خیرة اللّه، علی باغضهم لعنة اللّه۔
رحمت الہی کے عظیم مرکز،بہشت میں چلے جانا کسی بھی انسان کی سب سے بڑی سعادت ہوتی ہے اور اگر کوئی ذات سب سے پہلے جنت میں داخل ہو تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ کتنی بافضیلت و شرف شخصیت ہوگی؟
اگر ہم شیعہ روایات سے اعراض کرتے ہوئے صرف اہل سنت حضرات کی معتبر کتابوں اور منابع میں جستجو کریں تو ہمیں یہ افتخار خود سرکار رسالتمآب(ص) کی زبانی حضرت فاطمہ زہرا(س) کے لئے ملتا ہے۔
چنانچہ اہل سنت نے یہاں ایک روایت اس مضمون کے ساتھ نقل ہوئی ہے:
📜 «اول شخص یدخل الجنة فاطمة بنت محمد(ص) و مثلها فی هذه الامة مثل مریم فی بنی اسرائیل»۔(1)
📃 ترجمہ: جنت میں سب سے پہلے فاطمہ بنت محمد(س) داخل ہونگی اور اس امت میں ان کی مثال،بنی اسرائیل میں مریم کی طرح ہے۔
اور بہت سی معروف روایات سے یہ بھی استفادہ ہوتا ہے کہ اس عظیم المرتبت بی بی کا حشر کے میدان میں ورود اور پھر وہاں سے جنت جانے کا مرحلہ بھی ایک خاص عظمت و جلال کے ساتھ ہوگا کہ جو خود آپ کے مقام عظمت کا پتہ دیتی ہیں
چنانچہ حضرت علی علیہ السلام رسول اللہ(ص) سے اس طرح نقل کرتے ہیں:
📜 «تحشر ابنتی فاطمة یوم القیامة و علیها حلة الکرامة قد عجنت بماء الحیوان، فتنظر الیها الخلائق فیتعجبون منها»۔(2)
📃 ترجمہ: میری بیٹی فاطمہ(س) میدان قیامت میں اس انداز سے داخل ہونگی کہ لباس کرامت کہ جو آب حیات سے بنا ہوگا پہنے ہوگی اور تمام خلائق آپ کی عظمت اور شان کو دیکھ کر تعجب اور حیرت میں مبتلاء ہوگی۔
اور پھر اسی حدیث کے ذیل میں یہ بھی جملہ ملتا ہے:«فتزف الی الجنة کالعروس لها سبعون الف جاریة»۔(3)
اور پھر آپ کو بڑے احترام کے ساتھ جنت میں ستر ہزار حوریں ایک دلہن کی طرح لے جائیں گی۔
نیز ایک اور حدیث جو علماء اہل سنت نے حضرت عائشہ کی زبانی پیغمبر اکرم(ص) سے نقل کی ہے اس کا مضمون یہ ہے:
📜 «اذا کان یوم القیامة نادی مناد یا معشر الخلائق طأطئوا رؤسکم حتی تجوز فاطمة بنت محمد»۔(4)
📃 ترجمہ: جب قیامت کا میدان سجے گا تو ایک منادی ندا دیگا کہ اے خدا کی مخلوقات اپنے سروں کو جھکا لو تاکہ رسول اللہ(ص) کی بیٹی فاطمہ(س) گذر جائیں۔
اور اسی مضمون کی ایک اور حدیث علماء اہل سنت نے نقل کی ہے:
📜 «فتمرمع سبعین الف جاریة من الحور العین کمر البراق»۔(5)
ترجمہ: حضرت فاطمہ(س) 70 ہزار حوریں کے جھرمٹ میں برق کی مانند گذر جائیں گی۔
اور اس سے بھی عجیب وہ جملہ ہے کہ جسے تاریخ بغدادی کے مصنف نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے جس میں رسول اللہ(ص) نے فرمایا: جب مجھے شب معراج ملکوت اعلٰی کی سیر کرائی گئی تو میں نے جنت کے دروازے پر یہ جملہ لکھا دیکھا:
📜 «لا اله الاّ اللّه، محمد رسول اللّه، علی حبیب اللّه، و الحسن و الحسین صفوة اللّه و فاطمة خیرة اللّه، علی باغضهم لعنة اللّه»۔(6)
ترجمہ: اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی معبود نہیں،محمد اللہ کے رسول،اور علی اس کے محبوب،حسن و حسین اس کے برگزیدہ اور فاطمہ اس کا انتخاب ہیں۔ اور ان کے دشمن کے لئے اللہ کی لعنت ہے۔
📚 حوالہ جات:
1۔کنز العمال،ج 6،ص219۔
2۔ذخائر العقبی،ص48۔
3۔ تاریخ بغداد،ج 1 ،ص141۔
4۔کنز العمال، ج 6،ص218۔
5. تاریخ بغداد،ج 1،ص259۔
6۔سابق حوالہ۔
اللهم صل على فاطمة وأبيها وبعلها وبنيها والسر المستودع فيها بعدد ما أحاط به علمك وعجل لوليك المنتقم الفرج.
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen