♥️ ہماری سیدہ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا و آلِ اطہار پر درود) کا کرم ♥️
جابرؓ نے امام ابو جعفرؑ سے روایت کیا:
📜 رسولِ خدا ﷺ نے فاطمہؑ سے فرمایا:
“اے فاطمہ! اٹھو اور وہ تھالی لے آؤ۔”
پس وہ اٹھی اور وہ تھالی لے آئیں جس میں گوشت اور ہڈی تھی، اور وہ اُبل رہی تھی۔
رسولِ خدا ﷺ، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ نے تیرہ دن تک اس تھالی میں سے کھایا۔
پھر اُمِّ ایمن نے ایک دن دیکھا کہ امام حسینؑ کے پاس کچھ ہے، تو اس نے پوچھا:
“یہ کہاں سے ملا؟”
امام حسینؑ نے فرمایا:
“ہم تو کئی دنوں سے اسی میں سے کھا رہے ہیں۔”
اُم ایمن حضرت فاطمہؑ کے پاس گئی اور کہا:
“اے فاطمہ! جب میرے پاس کچھ ہوتا ہے تو وہ تمہارے اور تمہاری اولاد کے لیے ہوتا ہے،
لیکن جب تمہارے پاس کچھ ہوتا ہے تو اس میں میرا کوئی حصہ نہیں ہوتا؟”
اس کے بعد حضرت فاطمہؑ نے تھالی میں سے کچھ نکال کر اُسے دیا،
اُم ایمن نے اس میں سے کھایا، اور تھالی ختم ہو گئی۔
رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
“اگر تم اسے (اُم ایمن) اس میں سے نہ کھلاتی،
تو تم اور تمہاری نسل قیامت تک اس میں سے کھاتے رہتے۔”
امام ابو جعفرؑ نے فرمایا:
“وہ تھالی ہمارے پاس محفوظ ہے،
اور ہمارا قائمؑ اپنے زمانے میں اسے نکالے گا۔”
📚 الكافي ج١ ص ٤٦٠
📚 الوافي ج٣ ص ٧٤٦
۔
🌹 سیدہ زهراءؑ کے ہار کی برکتیں 🌹
جابر بن عبد اللہ انصاری کا بیان ہے کہ ایک دن نماز عصر کے بعد رسولِخداؐ اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک بوڑھا، بوسیدہ کپڑا پہنے ہوئے کمزوری کی حالت میں وارد ہوا، اس کے آثار سے لگ رہا تھا کہ وہ بھوک کی حالت میں کافی طولانی راستہ طے کرکے آیا ہے.
اس نے عرض کیا: میں ایک پریشان حال انسان ہوں آپ مجھے بھوک، عریانی اور مشکلات سے نجات دلائیے.
رسولِخداؐ نے فرمایا: فی الحال میرے پاس کچھ نہیں ہے لیکن میں تجھے ایک ایسے شخص کی رہنمائی کرتا ہوں جو تیری حاجتوں کو پورا کردے گا اور نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اس شخص
کے مانند ہے کہ جس نے خود اس کام کو انجام دیا ہو.
اس کے بعد آنحضرت نے جناب بلال کو حکم دیا کہ اس بوڑھے کو درِ فاطمہ پر لے جائیں. جب وہ بوڑھا حضرت علی (ع) کے بیت الشرف پر پہنچا تو اس نے اس طرح سلام کیا:
"السلام علیکم یا اھل بیت النبوة"
اے خاندان نبوت آپ پر سلام ہو.
علی (ع) نے سلام کا جواب دیا اور دریافت فرمایا:
تم کون ہو؟
اس نے کہا: میں ایک مرد عرب ہوں، رسولِخداؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور ان سے مدد کا تقاضا کیا تھا. انہوں نے مجھے آپ کے دروازہ پر بھیج دیا.
وہ تیسرا دن تھا جسے آل علی علیہم السلام بھوک کی حالت میں گذار رہے تھے اور رسول خدا بھی اس سے آگاہ تھے، بنت رسول نے جب کوئی چیز نہ پائی تو آپ نے گوسفند کی کھال جس پر حسن وحسین علیھما السلام سوتے تھے اس مرد عرب کو دے دیا اور فرمایا:
خداوندعالم تمہیں آسودگی عنایت فرمائے.
بوڑھے نے کہا: اے بنت رسول! میں بھوک سے بےحال ہوں اور آپ مجھے گوسفند کی کھال عطا کر رہی ہیں.
جیسے ہی جناب فاطمہ نے یہ سنا اپنا ہار جسے عبد المطلب (ع) کی صاحبزادی نے آپ کو ہدیہ کیا تھا، اس مرد عرب کو دے دیا. وہ بوڑھا ہار لے کر مسجد میں آتا ہے. اس نے دیکھا کہ رسولِخداؐ، اصحاب کے درمیان تشریف فرما ہیں اس نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! آپ کی بیٹی نے مجھے یہ ہار عطا کیا ہے اور فرمایا ہے کہ میں اسے بیچ دوں ممکن ہے خداوندعالم میرے کاموں میں وسعت عطا فرمائے.
آنحضرت رونے لگے اور فرمایا:
کیونکر خدا وسعت اور راحت نہ دے جبکہ اولین وآخرین کی عورتوں میں سب سے بہتر خاتون نے تجھے اپنا ہار عطا کیا ہے!
عما ر یاسر (رض) نے عرض کیا:
کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں اس ہار کو خرید لوں؟
آنحضرت نے فرمایا: اس ہار کو خریدنے والے کو خداوندعالم جہنم سے دور رکھے گا.
جناب عمار یاسر(رض) نے مرد عرب سے کہا کہ اس ہار کو کتنے میں بیچو گے.
اس نے کہا:
اتنی قیمت میں بیچوں گا کہ کھانا کھا کر سیر ہوسکوں، پہننے کے لئے ایک یمانی رداء خرید سکوں اور کچھ دینار جسے میں واپسی پر خرچ کر سکوں.
جناب عمار(رض) نے کہا: میں اس ہار کو دوسو درہم میں خریدوں گا اور تجھے روٹی اور گوشت سے سیر کروں گا، اوڑھنے کے لئے یمانی رداء بھی دوں گا اور اپنے اونٹ سے تجھے تیرے گھر تک پہنچاؤں گا.
جناب عمار(رض) کے پاس جنگ خیبر کے مال غنیمت میں سے جو کچھ بچا تھا، بوڑھے کو اپنے گھر لے گئے اور جو وعدہ کیا تھا وفا کردیا.
مرد عرب دوبارہ آنحضرت(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا کہ کیا تو نے لباس لے لیا اور سیر ہوگیا؟
اس نے عرض کیا:
ہاں رسول اللہ اور میں بے نیاز بھی ہوگیا.
اس وقت آنحضرت نے جناب فاطمہ زہرا کے فضائل کا ایک مختصر ساحصہ بیان فرمایا.
آپ نے ارشاد فرمایا: میری بیٹی فاطمہ کو جب قبر میں رکھا جائے گا تو ان سے سوال کیا جائے گا:
تمہارا خداکون؟
وہ جواب دیں گی: "اللّٰہُ رَبِّیْ"
سوال ہوگا: تمہارے رسول کون؟
جواب دیں گی: "میرے والد"
دوبارہ سوال کریں گے: تمہارے امام اور ولی کون ہیں؟
تو آپ جواب دیں گی: "ھذا القائم علی شفیر قبری" میرا امام وہ ہے جو میری قبر کے کنارے کھڑا ہوا ہے. (یعنی حضرت علی علیہ السلام)
جناب عمار(رض) نے ہار کو سونگھا اور ایک چادر یمانی میں رکھ کر "سہم" نامی غلام کو دیا اور کہا کہ اسے رسولِخداؐ کی خدمت میں لے جاؤ اور میں نے تم کو بھی رسولِخداؐ کو بخشا.
آنحضرت(ص) نے اسے جناب فاطمہ زہراء (س) کے پاس بھیج دیا. بنت رسول نے ہار کو لیا اور غلام کو آزاد کردیا.
🌹یہ ماجرا دیکھ کر غلام ہنسا. جناب فاطمہ (س) نے اس کی ہنسی کا سبب دریافت فرمایا تو اس غلام نے کہا:
میں اس ہار کی برکتوں پر ہنس رہا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے کو سیر کردیا، ایک فقیر کو بے نیاز بنادیا، ایک برہنہ کو لباس عطا کیا، ایک غلام کو آزاد کرایا اور دوبارہ اپنے اصل مالک کے پاس واپس آگیا.
📚 حوالہ: کتاب:بشارةالمصطفیٰ، عماد الدین طبری.
التماس دعا
بدر علی
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen