فاطمہ کو فاطمہ کہنے کی علت
فاطمہ کو فاطمہ کہنے کی علت
فاطمہ کو فاطمہ کہنے کی علت
فاطمہ کو فاطمہ کہنے کی علت
فاطمہ کو فاطمہ کہنے کی علت
فاطمہ کو فاطمہ کہنے کی علت
فاطمہ کو فاطمہ کہنے کی علت
فاطمہ کو فاطمہ کہنے کی علت
فاطمہ کو فاطمہ کہنے کی علت

♥️ علت نام گذاری حضرت صدیقہ شہیدہ سلام اللہ علیھا به فاطمہ ♥️

 

احادیث متواترہ سے، خاص اور عام دونوں طریقوں سے روایت ہے کہ:

 

📜 اس حضرت کو فاطمہ اس لیے نام دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے شیعوں کو جہنم کی آگ سے نجات دی۔

 

ابن بابویه نے معتبر سند سے حضرت باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ:

 

📜 حضرت فاطمہ علیہ السلام قیامت کے دن جہنم کے کنارے کھڑی ہوں گی، اور اس دن ہر شخص کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا کہ وہ مؤمن ہے یا کافر۔

پھر اللہ کے حکم سے کسی ایسے محب اہل بیت کو، جس نے بہت گناہ کیا ہو، جہنم کی طرف بھیجا جائے گا۔

جب اسے حضرت فاطمہ کے نزدیک لایا جائے گا، وہ پیشانی پر لکھیں گی کہ یہ ان کی محبت کرنے والا اور ان کی ذریت سے ہے۔

 

پھر وہ کہیں گے:

 

"اے میرے اللہ اور میرے آقا! تُو نے مجھے فاطمہ کہا اور وعدہ کیا کہ میری وجہ سے میرے دوستوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا، اور تیرا وعدہ سچ ہے اور تُو وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔"

 

پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا:

"تو نے درست کہا اے فاطمہ! میں نے تجھے فاطمہ کہا اور تجھے اور جو تجھے اور تیرے اماموں کی ذریت کو دوست رکھتا ہے، ان سب کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دیا۔ میرا وعدہ سچ ہے اور میں وعدے کے خلاف نہیں جاتا۔

میں نے یہ حکم اس لیے دیا کہ یہ بندہ جہنم کی طرف جائے تاکہ تُو اس کی شفاعت کرے اور میں تیرے حق میں اس کی شفاعت قبول کروں۔

اور اس طرح تیرے مقام اور عظمت کو فرشتوں، انبیاء اور رسولوں کے سامنے ظاہر کروں۔

پس جو بھی تُو اپنی نظر میں مؤمن پائے، اس کا ہاتھ پکڑ اور اسے جنت میں داخل کر دے۔"

 

📚 حوالہ: جلاء العیون، ص 165

 

▪️ شیخ صدوق رضوان اللہ علیہ نے کتاب علل الشرائع میں لکھا ہے:

 

📜 محمد بن مسلم نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ:

حضرت فاطمہ علیہ السلام جہنم کے دروازے پر توقف رکھتی ہیں۔

جب قیامت کا دن آئے گا، ہر شخص کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا کہ وہ مومن ہے یا کافر۔

پھر جس شخص نے اہل بیت کی محبت کی لیکن گناہ اس کے بہت زیادہ ہیں، اسے جہنم کی طرف بھیجا جائے گا۔

 

اس وقت حضرت فاطمہ علیہ السلام اس کے درمیان نظر ڈال کر پڑھتی ہیں کہ وہ ان کی محبت کرنے والا ہے۔

پھر وہ کہیں گی:

"اے میرے اللہ اور میرے سرور! تُو نے مجھے فاطمہ کہا، اور میری وجہ سے جس نے میری اور میری اولاد کی محبت کی، اسے جہنم سے جدا کیا۔ تیرا وعدہ سچ ہے۔"

 

اس پر اللہ عزوجل فرماتے ہیں:

"تو نے درست کہا اے فاطمہ! میں نے تجھے فاطمہ کہا، اور جس نے تجھ سے اور تیرے فرزندوں سے محبت کی، اسے جہنم کی آگ سے آزاد کیا۔ میرا وعدہ سچ ہے اور میں وعدے کے خلاف نہیں جاتا۔

میں نے اپنے بندے کو جہنم کی طرف بھیجا تاکہ تُو اس کی شفاعت کرے، اور میں تیرے حق میں اس کی شفاعت قبول کروں۔

اور فرشتوں، انبیاء، رسولوں اور اہلِ قیامت کے سامنے تیرے مقام اور منزلت کو ظاہر کروں۔

پس جسے تُو اپنی آنکھوں میں مومن دیکھے، اس کا ہاتھ پکڑ اور اسے جنت میں داخل کر دے۔"

 

📚 حوالہ: علل الشرائع، ج 1، ص 241، طبع قم المقدسة

 

▪️سیدِی شیخ عباس قمیؒ نے اسمِ مقدس فاطمہؑ کے ذیل میں وجہِ تسمیہ پر درج ذیل روایات نقل کی ہیں:

 

📜 اور متعدد روایات میں ہے کہ اُن کا نام فاطمہ اس لیے رکھا گیا کہ وہ خود اور ان کے شیعہ آگ سے جدا کر دیے گئے، اور وہ علم کے ذریعے جدا کی گئیں، اور حیض سے جدا کی گئیں، اور یہ کہ مخلوق کو ان کی معرفت سے جدا کر دیا گیا، اور اللہ نے انہیں اور ان کی اولاد کو آگ سے جدا کر دیا اُن میں سے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ملے توحید اور اس کے رسول پر ایمان کے ساتھ، اور اللہ نے ہر اُس شخص کو آگ سے جدا کر دیا جو اُن سے محبت کرتا ہے۔

 

📚 بیت الأحزان شیخ عباس قمی ص 24

 

▪️محمد عبد اللہ عقیل زادہ، عالم معاصر عمرے، لکھتے ہیں:

 

📜 امام دیلمی نے ابو ہریرہ سے اور امام ابو عبداللہ حکیم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ:

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کو جہنم کی آگ سے حرام قرار دیا اور ان کے اور دوزخ کے درمیان پردہ ڈال دیا، تب انہیں فاطمہ کا نام دیا گیا۔

گویا یہ نامگذاری پروردگار عالم کی طرف سے الہام تھی۔

 

📚 حوالہ: زندگی نامه حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنها، تالیف محمد عبد اللہ عقیل زادہ، ص 24

 

▪️ناسبی عالم لکھتا ہے

 

رسول اللہ (ص) نے فرمایا :

 

📜 " میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لئے رکھا کہ قیامت کے روز اللہ نے اسے، اسکی اولاد اور اسکے محبوں کو آگ سے چھڑوا لیا ہے"

 

📚 کتاب : الصوائق المحرقة صفحہ: 517 اور 540

 

جبران علی کی پوسٹ سے 

 

▪️شیخ صدوق ؓ نے اپنی کتاب علل الشرائع میں اپنی سند سے حضرت محمد بن مسلم ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے حضرت امام باقر (علیه السلام) کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے : 

 

📜 لفاطمة عليها السلام، وقفة على باب جهنم، فإذا كان يوم القيامة كتب بين عيني كرجل مؤمن أو كافر فيؤمر بمحب قد كثرت ذنوبه إلى النار فتقرأ فاطمة بين عينيه محبا فيقول: إلهي وسيدي سميتني فاطمة وفطمت بي من تولاني وتولى ذريتي من النار ووعدك الحق وأنت لا تخلف الميعاد، فيقول الله عز وجل، صدقت يا فاطمة إني سميتك فاطمة وفطمت بك من أحبك وتولاك وأحب ذريتك وتولاهم من النار ووعدي الحق وأنا لا اخلف الميعاد، وإنما أمرت بعبدي هذا إلى النار لتشفعي فيه فأشفعك وليتبين لملائكتي وانبيائي ورسلي وأهل الموقف موقفك مني ومكانتك عندي فمن قرأت بين عينيه مؤمنا فخذي بيده وادخليه الجنة.

 

📃 حضرت فاطمہ (عليها السلام) کیلئے جہنم کے دروازے پر ایک پڑاؤ ہوگا اور جب قیامت کا دن ہوگا تو ہر شخص کے ماتھے پر مـومن یا کـ ـافـ ـر لکھ دیا جائے گا، پھر اسی اثناء میں ایک محبِ اھلبیت (ع) کو جس کے گناہ سب سے زیادہ ہونگے حکم دیا جائے گا کہ اس کو جہنم کی طرف پہنچاؤ تو جب وہ دروازہ پر پہنچے گا تو حضرت فاطمہ (عليها السلام) اس کے ماتھے پر لکھا ہوا پڑھیں گی کہ یہ محبِ اھلبیت (ع) ہے، تو بارگاہ الہی میں عرض کریں گی کہ اے میرے الله، اے میرے مالک تُو نے میرا نام " فاطمه " رکھا ہے اور میری وجہ سے تُو نے مجھ سے تولا رکھنے والوں اور میری ذریت سے تولا رکھنے والوں کو جہنم سے بری کر دیا ہے اور تیرا وعدہ یہی ہے تُو وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ تو الله تعالی ارشاد فرمائے گا کہ اے فاطمہ ؑ تم نے سچ کہا میں نے ہی تیرا نام " فاطمه " رکھا اور تیری ہی وجہ سے تجھ سے محبت اور تولا رکھنے والوں کو اور تیری ذریت سے محبت اور تولا رکھنے والوں کو جہنم سے بَری کر دیا ہے۔ میرا وعدہ سچا ہے اور میں اپنے وعدہ کے خلاف کبھی نہیں کرتا۔ میں نے اس بندے کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم صرف اس لئے دیا تھا کہ تم اسکی شفاعت کرو اور میں تمھاری شفاعت قبول کروں تاکہ میرے ملائکہ، میرے انبیاء و رسول اور تمام اہل موقف پر واضح ہو جائے کہ میرے نزدیک آپ ؑ کا کیا مقام ہے۔ اب آپ ؑ جس کی پیشانی پر مومن لکھا ہوا دیکھو اس کا ہاتھ پکڑو اور جنت میں داخل کرو 

 

✅ حدیث کی سند : حدثنا محمد بن موسى بن المتوكل رحمه الله قال: حدثنا سعد بن عبد الله عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن محمد بن سنان، عن عبد الله بن مسكان عن محمد بن مسلم الثقفي قال: سمعت أبا جعفر " ع " يقول …

 

📚 علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ١٧٩

 

📜 وَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ صَالِحِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ: لَمَّا وُلِدَتْ فَاطِمَةُ ع أَوْحَى اللَّهُ إِلَى مَلَكٍ فَأَنْطَقَ بِهِ لِسَانَ مُحَمَّدٍ ص فَسَمَّاهَا فَاطِمَةَ ثُمَّ قَالَ إِنِّي فَطَمْتُكِ بِالْعِلْمِ وَ فَطَمْتُكِ مِنَ الطَّمْثِ ثُمَّ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع وَ اللَّهِ لَقَدْ فَطَمَهَا اللَّهُ بِالْعِلْمِ وَ عَنِ الطَّمْثِ فِي الْمِيثَاقِ.

 

 فرمایا امام محمد باقر علیہ السلام نے جب فاطمہ سلام اللہ علیہا پیدا ہوئیں تو خدا نے ایک فرشتے کو وحی کی۔ اس نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر جاری کیا کہ میں نے اس کا نام فاطمہ رکھا ۔ پھر خدا نے کہا میں نے تم کو علم کا جدا کرنے والا بنایا یعنی تمہاری ذریت میں علم ہمیشہ رہے گا اور ناپاکی سے دور رہیں گے۔

 پھر امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کے علم کو جدا کرنے والا بنایا یعنی تعلیم کرنے والا بنایا اور ناپاکی سے دور رہنے والا قرار دیا یوم میثاق میں ۔

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9