♥️ کوثر در قرآن ♥️
📜 تیسری بات یہ کہ "کوثر" سے مراد آپ ﷺ کی اولاد ہے۔
کیونکہ یہ سورت اُن لوگوں کے جواب میں نازل ہوئی تھی جو یہ گمان کرتے تھے کہ آپ ﷺ بے اولاد ہیں۔
پس اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ آپ کو فاطمہؑ کے ذریعے ایسی نسل عطا کرے گا جو زمانوں تک باقی رہے گی۔
📚 تفسیر نیشاپوری، غرائب القرآن ورغائب الفرقان، ج 6، ص 576
فخر رازی
📜 "اور تیسرا قول یہ ہے کہ کوثر سے مراد نبی ﷺ کی اولاد ہے۔
انہوں نے کہا: اس لیے کہ یہ سورت اُن لوگوں کے جواب میں نازل ہوئی جو آپ ﷺ کو بے اولاد ہونے پر طعنہ دیتے تھے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ آپ کو ایسی نسل عطا کرے گا جو زمانوں تک باقی رہے گی۔
اب دیکھو کہ اہلِ بیت میں سے کتنے قتل کیے گئے، مگر دنیا اب بھی ان سے بھری ہوئی ہے۔
اور بنی امیہ میں سے کوئی قابلِ ذکر باقی نہیں رہا۔
پھر دیکھو کہ انہی اولاد میں کتنے بڑے بزرگ اور علما ظاہر ہوئے:
جیسے امام باقر، امام صادق، امام کاظم، امام رضا علیہم السلام اور نفسِ زکیہ، اور ان جیسے دیگر بزرگ۔"
📚 تفسیر فخر رازی، ج 32، ص 313
۔
۔
♥️ سیدہؐ تفسیر سورۃ الکوثر ♥️
__________________________
رسالت ماب کو اولاد نرینہ نہ ہونے کا طعنہ دیا گیا اور کہا گیا کہ رسول اللہ ابتر ہیں ان کی نسل آگے نہیں بڑھے گی یہ مشرکین کی خوش فہمیاں تھیں جو سمجھتے تھے کہ محمد کے بعد اسکا دین ختم ہوجائے گا کیونکہ اسکی کوئی اولاد نرینہ نہ ہے۔ بتقاضہ بشری رسالت ماب ان طعنوں سے مضطرب ہوئے تو اللہ جل جلالہ نے سورۃ الکوثر نازل فرما کر آپ کو تسلی دی۔
فرمایا بے شک ہم نے تجھے کوثر (فاطمہؑ) عطاء کی ہے سیدۃ نساء العالمین کی اولاد کو رسول اللہ کی اولاد قرار دیا گیا ہے
________________________
عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لِکُلِّ بَنِي أُمٍّ عُصْبَةٌ يَنْتِمُوْنُ إِلَيْهِمْ إِلَّا ابْنَي فَاطِمَةَ فَأَنَا وَلِيُّهُمَا وَعُصْبَتُهُمَا رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَأَبُوْيَعْلَي.
الحديث رقم 25 أخرجه الحاکم في المستدرک 3 / 179 الرقم 4770 وأبو يعلي في المسند 2 / 109 الرقم 6741 والطبراني في المعجم الکبير 3 / 44 الرقم l 2631 2632
وَقَالَ الْحَاکِمُ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر ماں کے بیٹوں کا آبائی خاندان ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں سوائے فاطمہ کے بیٹوں کے پس میں ہی ان کا ولی ہوں اور میں ہی ان کا نسب ہوں۔
___________________________
عَنْ عُمَرَ رضي الله عنه قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ کُلُّ بَنِي أُنْثَي فَإِنَّ عُصْبَتَهُمْ لِأَبِيْهِمْ مَا خَلَا بَنِي فَاطِمَةَ فَإِنِّي أَنَا عُصْبَتُهُمْ وَأَنَا أَبُوْهُمْ. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ.
الحديث رقم 26 أخرجه الديلمي في مسند الفردوس 3 / 234 الرقم 4787 والهيثمي في مجمع الزوائد 4 / 224.
حضرت عمر سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہر عورت کی اولاد کا نسب اپنے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہ کے کیونکہ میں ہی ان کا نسب اور میں ہی ان کا باپ ہوں۔
___________________________
عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِنَّ اﷲَ عزوجل جَعَلَ ذُرِّيَةَ کُلِّ نَبِيٍّ فِي صُلْبِهِ وَإِنَّ اﷲَ جَعَلَ ذُرِّيَتِي فِي صُلْبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
الحديث رقم 27 أخرجه الطبراني في المعجم الکبير 3 / 43 الرقم 2630 والديلمي في مسند الفردوس 1 / 172 الرقم 643 والهيثمي في مجمع الزوائد 9 / 172 والمناوي في فض القدير 2 / 223.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یقیناً اﷲ تعالیٰ نے ہر نبی کی اولاد اس کی صلب میں رکھی اور بیشک اﷲتعالیٰ نے میری اولاد علی بن ابی طالب کی صلب میں رکھی ہے۔
___________________________
اس مطلب پر کثیر احادیث مروی ہیں اور قران حکیم ان احادیث کی تصدیق کرتا ہے جیسا کہ آیت مباہلہ سے ظاہر ہے
فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ
ہم جانتے ہیں کہ آنحضرت کی اولاد نرینہ نہ تھی پھر اللہ نے ندع ابنانا کیوں کہا؟ اگر کہا جائے کہ امت کے بیٹے مراد ہیں تو اسکی نفی خود قران نے کی مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ فلحاظہ جو ابنانا آیت مباہلہ کا مصداق ہیں وہ حسن و حسین علیھم سلام ہیں جنہیں رسول اللہ نے اپنے بیٹے قرار دیا اور خدا نے اس پر مہرتصدیق ثبت کردی۔
___________________________
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضي الله عنه قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَآءَ نَا وَ أَبْنَآءَکُم) (آل عمران 3 : 61) دَعَا رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم عَلِيًا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.
حديث رقم 20 أخرجه مسلم في الصحيح کتاب فضائل الصحابة باب من فضائل علي بن أبي طالب رضي الله عنه 4 / 1871 الرقم 2404 والترمذي في السنن کتاب تفسير القرآن عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم باب ومن سورة آل عمران 5 / 225 الرقم 2999 وفي کتاب المناقب عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم باب (21) 5 / 638 الرقم 3724 وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 185، الرقم 1608،والنسائي في السنن الکبري 5 / 107 الرقم 8399 والبيهقي في السنن الکبري 7 / 63 الرقم 13169 - 13170 والحاکم في المستدرک 3 / 163 الرقم 4719.
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیتِ مباہلہ نازل ہوئی آپ فرما دیں کہ آ جاؤ ہم (مل کر) اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنے آپ کو بھی اور تمہیں بھی (ایک جگہ پر) بلا لیتے ہیں۔ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی حضرت فاطمہ حضرت حسن اور حسین علیہم السلام کو بلایا پھر فرمایا یاﷲ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔
___________________________
حسن و حسین کی اولاد سے حضرت محمد رسول اللہ کا نسب چلا ہے اسی لیے انہیں آل محمد کہا جاتا ہے اور یہ سادات پوری دنیا میں کثرت کے ساتھ پھیلے ہوئے ہیں۔
واضح ہو کہ یہاں حاسد اگر حسنین کریمین شریفین کا اولاد رسول ہونے سے انکار کرے تو اسکا مطلب وہ قران کا انکار کررہا ہے اور اسکا شمار ان لوگوں میں ہوگا جو رسول اللہ کو ابتر کہتے تھے ایسے حاسدین کے منہ پر خدا نے کیا طمانچہ رسید کیا ہے واللہ اسکی جتنی حمد کی جائے کم ہے۔ فرماتا ہے ان شانئک ھو البتر بے شک تیرا دشمن ابتر ہے یعنی اے محمد تو ابتر نہیں بلکہ تیرا دشمن ابتر ہے۔
اب حاسد خود فیصلہ کرلے اپنے آپ کو دشمن رسالت کی کیٹیگری میں رکھنا ہے یا بفرمان خدا رسول اللہ کو صاحب کوثر سمجھنا ہے۔ یہ بھی جان لے کہ خدا نے نص کردی ہے دشمن رسول کے ابتر ہونے پر اگر وہ رسول اللہ کو ابتر سمجھتا ہے تو اپنا ڈی این ٹیسٹ کروائے اللہ کی قسم وہ ابتر ہے اور اگر اسکی بظاہر اولاد ہے تو وہ اسکی بیوی کی خیانت ہے
منقول
التماس دعا
Gallery
Tap any image to view full screen