Back to شہادتِ سیدہ فاطمہ زھراء (س)

حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کا ایک اور صحیح سند کے ساتھ اثبات

حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کا ایک اور صحیح سند کے ساتھ اثبات
حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کا ایک اور صحیح سند کے ساتھ اثبات
حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کا ایک اور صحیح سند کے ساتھ اثبات

🔴 حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کا ایک اور صحیح سند کے ساتھ اثبات 

 

▪️ اس روایت میں جو امام صادق علیہ السلام سے صحیح سند کے ساتھ وارد ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا پر ظلم کرنے والوں، قاتلوں اور جابر پر لعنت فرمائی اور کہا کہ وہ ہمیشہ کی آگ کے مستحق ہیں۔

 

روایت درج ذیل ہے:

شیخ فقیہ ابو الحسن بن شاذان رحمه اللہ نے فرمایا: مجھے میرے والد نے روایت کی، انہوں نے ابن الولید محمد بن الحسن سے، انہوں نے الصفار محمد بن الحسن سے، انہوں نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے مفضل بن عمر جعفی سے، انہوں نے یونس بن یعقوب سے روایت کی، جنہوں نے فرمایا کہ میں نے امام صادق علیہ السلام کو فرماتے سنا…

 

🔴 امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

 

📜 "اے یونس! میرے جد، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لعنت ہو، لعنت ہو اس پر جو میرے بعد میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا پر ظلم کرے، اس کا حق غصب کرے اور اسے قتل کرے۔ پھر فرمایا: اے فاطمہ! خوشخبری ہے تمہارے لیے کہ تمہارا اللہ کے ہاں مقام محمود ہے، جس میں تم اپنے محبین اور شیعیان کے لیے شفاعت کروگی۔ اے فاطمہ! اگر تمام انبیاء اور تمام مقرب فرشتے تمہارے دشمن کے بارے میں شفاعت کریں، تو بھی اللہ تعالیٰ اسے دوزخ سے نہیں نکالے گا۔"

 

📚 حوالہ: کنز الفوائد، ج1، ص150، مصنف: ابو الفتح شیخ محمد بن علی بن عثمان الکراجکی الطرابلسی (وفات 449 ہجری)، تحقیق و تعلیق: شیخ عبد اللہ نعمة، ناشر: دار الاضواء، بیروت، لبنان، پہلی اشاعت 1985 ہجری۔

 

⭕ سند کی تصحیح:

 

1⃣ ابو الحسن بن شاذان:

 

📜 ثقة ہیں کیونکہ وہ شیخ النجاشی کے شاگرد تھے، اور ان کے تمام مشائخ ثقات ہیں۔

 

📚 حوالہ: معجم رجال الحدیث ج16، ص17

 

2⃣ احمد بن علی بن الحسن:

 

📜نجاشی فرماتے ہیں کہ یہ شیخ فقیہ اور حسن المعرفة ہیں۔

کتابیں: زاد المسافر اور الأمالی۔

 

📚 حوالہ: رجال النجاشی، ج1، ص84

 

3⃣ محمد بن الحسن بن احمد بن الولید: 

 

📜 ثقہ

 

📚 حوالہ: معجم رجال الحدیث ج16، ص219-220

 

4⃣ محمد بن الحسن بن فروخ الصفار: 

 

📜 ثقة

 

📚 حوالہ: معجم رجال الحدیث ج16، ص263

 

5⃣ محمد بن زیاد، مشہور به ابن ابی عمیر: 

 

📜 من اوثق الناس

 

📚 حوالہ: معجم رجال الحدیث ج15، ص291-292

 

6⃣ مفضل بن عمر جعفی: 

 

📜 جلیل، ثقة

 

📚 حوالہ: معجم رجال الحدیث ج19، ص330

 

7⃣ یونس بن یعقوب بن قیس البجلی: 

 

📜 ثقة

 

📚 حوالہ: معجم رجال الحدیث ج21، ص238

 

⭕ نتیجہ:

 

اگر حضرت زهرا سلام اللہ علیہا شہید نہ ہوئیں، اگر ان پر ظلم نہ ہوا، اگر ان کا حق غصب نہ ہوا، تو پھر رسول اللہ ﷺ نے قاتل، جابر اور حق غاصب پر لعنت کیوں کی؟ ❓❕❗️⁉️‼️❔

 

🔴 مفضل بن عمر 🔴

 

📜[ حدیث ٤٤٧ ] عن المفضل بن عمر، قال: قال أبو عبد الله (عليه السلام): يا مفضل، أنت وأربعة وأربعون رجلا تحشرون مع القائم، أنت على يمين القائم تأمر وتنهى، والناس إذ ذاك أطوع لك منهم اليوم. 

 

📃 مفضل بن عمر سے منقول ہے۔ ابو عبد اللہ (امام جعفر صادق علیہ السلام ) نے فرمایا

اے مفضل تم اور چوالیس (44) دیگر مرد قائم آل محمد ع کے ساتھ اٹھائے جاو گے۔

تم (مفضل) قائم ع کے دائیں طرف ھو گے اور لوگوں کو احکامات دے رہے ہوگے۔

اس وقت لوگ آج سے زیادہ تمہارے اطاعت گزار ہوں گے۔

 

📚 إثبات الهداة 7: 146 / 709

 

🔴 مفضل بن عمر کی توثیق 🔴

 

✔️ ہم شیعہ آلِ محمدؐ کی ایک اہم رجالی قاعدہ ہے:

 

جب اصحابِ اجماع کسی سے روایت کریں، تو وہ شخص ثقه (قابلِ اعتماد) ہوتا ہے۔

 

اور مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ اصحابِ اجماع میں سے دو بزرگ ابن ابی عمیر اور یونس بن عبدالرحمن دونوں نے مفضل سے روایت کی ہے۔

 

💯 “طائفہ نے اس بات میں فرق کیا ہے کہ محمد بن ابی عمیر، صفوان بن یحیی، احمد بن محمد بن ابی نصر اور دیگر ثقہ اصحابِ اجماع ایسے افراد سے روایت نہیں کرتے نہ مسند اور نہ مرسل سوائے اس کے جو ان کے نزدیک قابلِ اعتماد ہو۔

 

اسی لیے اگر یہ حضرات کسی حدیث کو منفرد طور پر مرسل بھی بیان کریں تو اس پر عمل کیا جاتا ہے۔”

 

📜 “امامی طائفہ کا اجماع ہے کہ محمد بن ابی عمیر، صفوان بن یحیی، احمد بن محمد بن ابی نصر اور دیگر ثقہ اصحابِ اجماع ایسے لوگوں سے روایت نہیں کرتے (مسند ہو یا مرسل) مگر اس سے جو ان کے نزدیک موثّق ہو۔”

 

📚 العدة فی أصول الفقه، ج 1، ص 154

 

✅ مفضل بن عمر پر جو تضعیفات ذکر کی گئی ہیں وہ قابلِ قبول اور قابلِ احتجاج نہیں ہیں، 

 

جیسا کہ علامہ سید خوئیؒ نے بھی ان اقوالِ ضعف کو رد کیا ہے اور شیخ مفیدؒ کی تعدیل کو مقدم قرار دیا ہے۔

 

📜 “لیکن یہ کہنا کہ وہ (مفضل) فاسد المذہب ہے اس کا معارض وہ بات ہے جو شیخ مفیدؒ نے بیان کی کہ وہ فقہائے صالحین میں سے تھے، امام صادقؑ کے خاص ساتھیوں میں سے، اور ان کی قربت حاصل تھی۔ اس لیے ہمارے لیے ممکن نہیں کہ ہم نجاشی کے قول کو شیخ مفیدؒ کے قول پر ترجیح دیں، کیونکہ معصومینؑ سے مفضلؒ کی مدح میں جو روایات آئی ہیں وہ شیخ مفیدؒ کے قول کی تائید کرتی ہیں، اور ان میں اجمالی تبادر کا دعویٰ بھی بعید نہیں ہے۔”

 

📚 معجم رجال الحدیث، ج19، ص329

 

لیکن شیخ مفیدؒ کا اصل بیان کیا ہے؟

 

📜 “امام جعفر صادقؑ کے اصحاب میں سے ان کے مشائخ، خاص ساتھی، ان کے باطنی خواص اور ان کے قابلِ اعتماد فقہاء صالحین میں رضوان اللہ علیہم مفضل بن عمر جعفی، معاذ بن کثیر، عبدالرحمن بن حجاج، فیض بن مختار، یعقوب سراج، سلیمان بن خالد، صفوان جمال اور دیگر لوگ شامل ہیں جن کا ذکر کرنے سے کتاب طویل ہو جائے گا۔”

 

📚 الارشاد – شیخ مفید – جلد 2، صفحہ 216

 

اور سید خوئیؒ مختلف اقوالِ جرح و تعدیل کو نقل کرنے اور تضعیف کرنے والے اقوال کا رد کرنے کے بعد آخر میں مفضل بن عمر کے بارے میں یہ نتیجہ بیان کرتے ہیں:

 

📜 “نتیجہ یہ ہے کہ مفضل بن عمر جلیل القدر اور ثقہ ہے۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔”

 

📚 معجم رجال الحدیث جلد 19، صفحہ 330

 

---

کچھ لوگ مفضل بن عمر کو تضعیف کرنے کے لیے ابن غضائری کی کتاب کا حوالہ دیا، جس کا ہم نے پہلے جواب دے دیا کہ یہ کتاب شرعی حجت بالکل بھی نہیں رکھتی اور ثابت بھی نہیں ہے کہ یہ کتاب ابن غضائری کی ہے

 

❌ لہٰذا یہ دعوی باطل ہے۔

 

🔹 پھر کچھ لوگ آیت اللہ مکارم شیرازی حفظہ اللہ کے حوالے سے مفضل کی تضعیف کرتے ہیں؛ 

 

اب دیکھیں کہ ان کا مطلب کیا ہے۔

 

▪️آپ نے اپنی کتاب "انوار الفقاہہ" میں یوں فرمایا ہے:

 

📜 ويرد عليه أوّلًا: ضعف السند؛ فإنّ عمر بن فرات الراوي مع الواسطة عن المفضّل بن عمر ضعيف

 

📃 "اس پر ردّ کے دلائل میں اوّلًا: ضعف السند ہے؛ کیونکہ راوی عمر بن فرات جو واسطہ ہے مفضل بن عمر کے ساتھ، وہ ضعیف ہے۔"

 

👈 یعنی ان کے رد کے دلائل میں پہلا دلیل یہ ہے کہ سند کمزور ہے؛ کیونکہ واسطی راوی عمر بن فرات ضعیف ہے۔

 

✅ یہاں وہ خود مفضل بن عمر کو تضعیف نہیں کیا بلکہ واسطی راوی عمر بن فرات کو ضعیف کہا 

 

▪️ پھر لوگوں نے کہا کہ شیخ بحرانی نے کہا کہ مفضل بن عمر ضعیف ہے، 

 

حالانکہ یہ بات شیخ بحرانی کی اپنی رائے نہیں ہے بلکہ انہوں نے دوسروں کے قول کو اپنی معتبر کتاب سے نقل کیا ہے، نہ کہ اپنی رائے دی ہے۔

 

▪️ آگے وہ کہتے ہیں سید محمد موسی عاملی نے بھی مفضل کو تضعیف کیا، حالانکہ انہوں نے بھی دوسروں کے قول کو کتابِ معتبر سے نقل کیا ہے اور فرمایا "قال المصنّف فی المعتبر" یعنی یہ بھی ان کی خودمختار رائے نہیں۔

 

🎁 پھر کہتے ہیں کہ شہید ثانی نے بھی کہا کہ وہ ضعیف ہے، درحقیقت وہ نجاشی کا حوالہ دے رہے ہیں، نہ کہ اپنی رائے دے رہے ہوں۔

 

👈 جیسا کہ آپ نے دیکھا، مفضل کی تضعیف خود ان افراد کی ذاتی رائے نہیں تھی بلکہ سبھی نے دوسرے لوگوں کے اقوال نقل کیے اور یہ ان کی اجتهادی رائے نہیں۔

 

⭕ مگر مفضل بن عمر کی وثاقت کے حوالے سے مجھے عرض ہے کہ ہم نے اسی ٹاپک میں پہلے بھی ان کی توثیق بیان کی تھی اور اب دوبارہ دیگر علماء کے اقوال پیش کریں گے۔

 

1⃣ اوّلًا یہ کہ ایک طریقہ توثیق، اہلِ بیتؑ کی طرف سے کسی شخص کے بارے میں اظہارِ مدح ہے اور جیسا کہ علماء نے، مثلاً شیخ عباس قمی نے واضح کیا ہے کہ مفضل کو معصومین کی طرف سے مدح حاصل ہوئی ہے؛ لہٰذا اس پر ذم کرنا محلِ احتجاج نہیں اور باطِل ہے۔

 

2⃣ دومًا بزرگانِ دین جیسے شیخ مفید نے انہیں توثیق کیا اور انہیں ائمہؑ کے خواص میں شمار کیا ہے۔

 

📜 من شيوخ أصحاب الإمام الصادق(عليه السلام) وخاصّته وبطانته وثقاته الفقهاء الصالحين

 

📚 الإرشاد ج2 ص216

 

3⃣ ثالثًا علامہ مامقانی نے بھی انہیں توثیق کیا ہے:

 

📜 مفضل بن عمر الثقة على الأقوى

 

📚 تنقيح المقال في علم الرجال مامقانی ج21 ص372

 

4⃣ ثالثًا جو جرح و تعدیل اس پر وارد ہوئے، علماء نے تعدیل کو مقدم رکھا اور جرح کو مردود قرار دیا اور یہ بے وقعتی اس لیے ہے کہ اہلِ بیتؑ کی طرف سے جو موافقاتِ مدح ہیں، وہ خود بخود جرح کے دعوے کو باطل کرتے ہیں۔

 

📜 والنتيجة أن المفضل بن عمر جلیل، ثقة۔

 

📃 نتیجہ یہ ہے کہ جرح و تعدیل کے مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مفضل بن عمر ایک جلیل القدر، ثقة اور مورد اطمینان راوی ہیں۔

 

📚 معجم رجال الحدیث سید ابوالقاسم خوئی ج19 ص330

 

http://lib.eshia.ir/14036/19/330

 

بدر علی 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3