سیدہ فاطمہؑ کے جنازے اور مخفی تدفین کا واقعہ (شیعہ کتاب)
⭕ سیدہ فاطمہؑ کے جنازے اور مخفی تدفین کا واقعہ
▪️شیخ أبو جعفر محمد بن جرير الطبري الإماميؒ نے دلائل الإمامہ میں اپنی سند سے أبو علي محمد بن همام بن سهيلؓ سے روایت نقل کی:
📜 وأخرجها إلى البقيع في الليل، ومعه الحسن والحسين، وصلى عليها، ولم يعلم بها، ولا حضر وفاتها، ولا صلى عليها أحد من سائر الناس غيرهم، ودفنها في الروضة، وعفى موضع قبرها، وأصبح البقيعُ ليلةَ دُفِنَتْ وفيه أربعونَ قبراً جُدُداً.
وإنّ المسلمين لما عَلِموا وفاتها جاؤوا إلى البقيع، فوجدوا فيه أربعين قبراً، فأشكل عليهم قبرُها من سائر القبور، فَضَجَّ الناس ولَامَ بعضهم بعضاً، وقالوا: لم يُخلِّف نبيُّكم فيكم إلا بنتاً واحدة، تموت وتُدفن، ولم تشهدوا وفاتها ولا دفنَها ولا الصلاةَ عليها! بل ولم تعرفوا قبرها!
فقال وُلاةُ الأمر منهم: هاتوا من نساءِ المسلمين من يَنبِشْنَ هذه القبور حتى نجدها فنصليَ عليها ونزور قبرَها.
فبلغ ذلك أميرَ المؤمنين (عليه السلام)، فخرج مُغضباً قد احمرّت عيناه، ودَرَّت أوداجُه، وعليه قباؤه الأصفر الذي كان يلبسه في كلّ كريهة، وهو يتوكأ على سيفه ذي الفقار، حتى ورد البقيع، فسار إلى الناس من أنذرهم، وقال: هذا عليّ بن أبي طالب قد أقبل كما ترون، يُقسِم بالله لئن حُوِّل من هذه القبور حجرٌ ليَضَعَنَّ السيفَ في رِقاب الآمرين.
فَتَلَقّاه عمرُ ومن معه من أصحابه، وقال له: ما لك يا أبا الحسن؟ والله لَنَنبُشَنَّ قبرها ولَنُصَلِّيَنَّ عليها.
فأخذ عليٌّ (عليه السلام) بمجامع ثوبه فهزّه، ثم ضرب به الأرض، وقال له: يا ابنَ السوداء، أمّا حقّي فقد تركتُه مخافة أن يَرتَدَّ الناسُ عن دينهم، وأمّا قبرُ فاطمة، فوالذي نفسُ عليٍّ بيده، لئن رَمْتَ وأصحابُك شيئاً من ذلك، لأسقينّ الأرضَ من دمائكم، فإن شئت فاعرِض يا عمر.
فَتَلَقّاه أبو بكر فقال: يا أبا الحسن، بحق رسول الله وبحقّ من فوق العرش إلا خَلَّيْتَ عنه، فإنّا غيرُ فاعلين شيئاً تكرهُه.
📃 حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے رات کی تاریکی میں سیدہ کونین سلام اللہ علیہا کا جنازہ جنت البقیع کی طرف لے جایا۔ اس وقت صرف امام حسنؑ اور امام حسینؑ آپ کے ہمراہ تھے۔
آپؑ نے خود جناب سیدہؑ کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اور لوگوں میں سے کسی کو اس کی اطلاع نہ تھی۔ نہ کسی اور نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی، نہ وفات کے وقت حاضر تھا۔
اس کے بعد آپؑ نے حضرت فاطمہؑ کو روضۂ رسولؐ یعنی قبرِ رسولؐ اور منبر مبارک کے درمیان دفن کیا، اور ان کی قبر کا نشان مٹا دیا۔
اسی رات امیرالمؤمنینؑ نے بقیع میں چالیس نئی قبریں بنائیں تاکہ اصل قبر کی پہچان نہ ہو سکے۔
جب مسلمانوں کو جنابِ سیدہؑ کے انتقال کی خبر ملی تو وہ بقیع آئے اور چالیس نئی قبروں کی وجہ سے قبر کی پہچان نہ کر سکے۔
لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے:
"تمہارے نبیؐ نے تم میں ایک ہی بیٹی چھوڑی تھی، وہ دنیا سے چلی گئی، اسے دفن بھی کر دیا گیا، اور تم نہ اس کے جنازے میں تھے، نہ دفن میں، اور نہ تم اس کی قبر جانتے ہو!"
پھر حکومتی لوگوں نے کہا:
"مسلمان عورتوں کو لاؤ، ہم ان قبروں کو کھدوا کر اصل قبر تلاش کریں گے، تاکہ نمازِ جنازہ پڑھیں اور قبر کی زیارت کریں۔"
یہ بات جب مولا کائنات علیہ السلام تک پہنچی تو آپ سخت غضب میں نکلے۔
آپ نے وہ زرد قبا پہنی جو آپ جنگوں میں پہنتے تھے، آپ کی آنکھیں غصے سے سرخ تھیں، رگیں پھول رہی تھیں، اور آپ ذو الفقار کے سہارے بقیع کی طرف تشریف لے گئے۔
لوگوں کو جب خبر ہوئی تو خوف طاری ہو گیا، اور کسی نے آواز دی:
"دیکھو! علیؑ آ رہے ہیں۔ قسم کھا کر کہہ رہے ہیں کہ اگر کسی قبر کی ایک اینٹ بھی ہلائی گئی تو حکم دینے والوں کی گردنیں اڑا دیں گے!"
عمر آگے بڑھا اور کہا:
"اے ابوالحسنؑ! ہمیں روکنے کا کیا حق ہے؟ خدا کی قسم! ہم قبر ضرور کھدوا کر نماز پڑھیں گے۔"
امیرالمؤمنینؑ نے اس کا گریبان پکڑ کر جھٹکا دیا اور زمین پر پٹخ دیا، فرمایا:
"اے فلاں کی اولاد! میرا حق میں نے اس ڈر سے چھوڑ دیا کہ لوگ دین سے واپس نہ ہو جائیں، لیکن جہاں تک فاطمہؑ کی قبر کا تعلق ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں علیؑ کی جان ہے — اگر تو اور تیرے ساتھی اس کی طرف ذرا نظر بھی اٹھاؤ گے تو زمین کو تمہارے خون سے بھر دوں گا۔"
ابوبکر آگے آیا اور کہنے لگا:
"اے ابوالحسنؑ! رسول خداؐ کے حق کا واسطہ، اور اس ذات کا واسطہ جو عرش کے اوپر ہے اسے چھوڑ دیں۔ ہم کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے آپ ناراض ہوں۔"
پس امیرالمؤمنینؑ نے اسے چھوڑ دیا اور لوگ منتشر ہو کر واپس چلے گئے، اور کوئی اس طرف پھر نہ آیا۔
📚 المصدر: دلائل الإمامة، ص ١٣٦–١٣٧
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen