🔴 وفات کے بعد بھی عفت کی حفاظت…

 

⭕ حضرت فاطمہ زہرا سلامُ اللہ علیہا، سیّدۂ نساءِ العالمین، نے فرمایا:

 

📜 “میں ناپسند کرتی ہوں وہ طریقہ جو عورتوں کے ساتھ (وفات کے بعد) کیا جاتا ہے۔ کہ ایک کپڑا ان کے جسم پر ڈال دیا جاتا ہے، اور یوں ان کے جسم کی ساخت اور حجم دیکھنے والے کے سامنے ظاہر ہو جاتا ہے۔

لہٰذا مجھے ایسے کھلے تخت پر مت اٹھانا جس سے میرا جسم نمایاں ہو۔

مجھے پردے میں رکھ کر تشییع کرنا۔

اللہ تمہیں جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے۔”

 

📜 یعنی حضرت فاطمہ زہرا سلامُ اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ عورت کے جنازے کو صرف ایک چادر سے ڈھانپ کر لے جانا درست نہیں، کیونکہ اس سے اس کے جسم کی بناوٹ ظاہر ہو جاتی ہے اور لوگ اس کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔

لہٰذا مجھے مکمل پردے کے ساتھ، ایسے تابوت میں اٹھانا جس میں میرا جسم چھپ جائے۔

جو ایسا کرے گا اللہ اسے جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔

 

📚 تهذیب الأحکام، ج 1، ص 429

📚 کشف الغمّة، ج 2، ص 67

📚 بحارالأنوار، ج 43، ص 189، ح 19

 

🔴 حضرت فاطمہ سلام الله علیها کے تابوت کا تمسخر…🔥

 

حضرت فاطمہ سلام الله علیها نے شہادت سے پہلے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے وصیت کی اور آپ سے درخواست کی کہ میرے لیے ایک ڈھکا ہوا تابوت بنائیں۔

 

وصیت کے بعض حصوں میں یہ الفاظ ہیں:

"اے چچا زاد! میرے لیے ایک سرپوش والا تابوت تیار کرو، کیونکہ فرشتوں نے مجھے اس کی شکل دکھائی ہے۔"

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: "اس کی خصوصیات بیان کرو۔"

حضرت نے تفصیل بیان کی، اور امیرالمؤمنین نے ویسا ہی تابوت تیار کیا۔

 

📚 حوالہ: بحارالانوار، ج 43، ص 191، ح 20

 

ظاہر یہ ہوتا ہے کہ اس وقت عرب میں تابوت بنانا رائج نہ تھا، اور حضرت کی وصیت ایک نئی صورت تھی۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ سلام الله علیها نے اپنی بے مثال حیا و عفت کی بنا پر — حتیٰ کہ کفن کے نیچے بھی بدن کا حجم نظر نہ آئے — اس لیے تابوت کی وصیت فرمائی۔

 

لیکن حضرت فاطمہ سلام الله علیها کے فضائل کا ظاہر ہونا ہمیشہ کچھ لوگوں پر گراں گزرتا رہا ہے۔ مختلف مواقع پر انہوں نے اس حسد اور کدورت کا اظہار کیا اور تمسخر کیا۔

 

روایت ہے:

"جب حضرت فاطمہ سلام الله علیها کا انتقال ہوا تو عائشہ داخل ہونا چاہتی تھی۔ اسماء نے کہا: تم اندر نہیں آ سکتیں۔

عائشہ نے ابوبکر سے شکایت کی اور کہا: یہ خثعمیہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی بیٹی تک پہنچنے سے روک رہی ہے، اور اس نے اس کے لیے دلہن کی محمل جیسی چیز بنا دی ہے۔"

 

---

 

حوالہ جات (شیعہ و اہلِ سنت)

 

الغدیر، ج 14، ص 100

 

الذریعة الطاهرة، ص 154

 

بحار الانوار، ج 43، ص 97

 

أعیان الشیعة، ج 3، ص 307

 

کشف الغمة، ج 2، ص 126

 

اعلام النساء المؤمنات، ص 145

 

الموسوعة الکبری، ج 15، ص 124

 

وفاء الوفاء، ج 3، ص 92

 

الرد الکبیر، ج 3، ص 263

 

نهایة الأرب، ج 19، ص 127

 

ذخائر العقبی، ص 53

 

سِمط النجوم، ج 1، ص 563

 

الاستیعاب، ج 4، ص 1897

 

أسد الغابة، ج 5، ص 524

 

بدر علی