سیدہ ص کا شیخین سے اپنی معرفت کا اقرار لے کر یعنی حجت پوری کرکے اپنی ناراضگی کا فیصلہ سنانا
🔴 سیدہ ص کا شیخین سے اپنی معرفت کا اقرار لے کر یعنی حجت پوری کرکے اپنی ناراضگی کا فیصلہ سنانا
📜 جب حضرت فاطمہ زہراءؑ بیمار ہو گئیں تو ابوبکر اور عمر نے امیر المومنین ع سے کہا “ہم سے جو کچھ ہوا، تم جانتے ہو۔ اگر اجازت دو تو ہم اس سے معافی مانگ لیں۔”
امیرالمؤمنینؑ نے حضرت زہراءؑ سے فرمایا:
“اے بنت رسولؑ! ابوبکر اور عمر دروازے پر ہیں، معافی مانگنا چاہتے ہیں۔ اجازت دوں؟”
فرمایا: “یہ آپکا گھر ہے اور میں آپکی زوجہ ہوں، جو چاہو کریں۔”
امامؑ نے فرمایا: “اپنا نقاب مضبوط باندھ لیں۔”
حضرتؑ نے نقاب باندھا اور چہرہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔
وہ دونوں اندر آئے اور بولے:
“ہم سے راضی ہو جاؤ، اللہ تم سے راضی ہو جائے۔”
حضرتؑ نے پوچھا: “کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا؟”
بولے: “ہم نے اپنی خطا مانی ہے، امید ہے آپ معاف کر دو گی اور ناراضی ختم کرو گی۔”
حضرتؑ نے فرمایا:
“اگر سچے ہو تو میرے ایک سوال کا جواب دو۔
میں وہی پوچھوں گی جس کا تمہیں علم ہے، تاکہ تمہاری سچائی ظاہر ہو۔”
بولے: “پوچھو جو چاہو۔”
فرمایا:
“میں تمہیں خدا کی قسم دیتی ہوں، کیا تم نے رسولِ خداؐ سے سنا کہ
‘فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے، جو اسے اذیت دے وہ مجھے اذیت دیتا ہے؟’”
بولے: “ہاں، سنا ہے۔”
تب حضرت زہراءؑ نے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا:
📜 “اے اللہ! انہوں نے مجھے اذیت دی ہے، میں انہیں تیرے اور تیرے رسولؐ کے حضور شکایت کرتی ہوں۔
خدا کی قسم! میں کبھی تم دونوں سے راضی نہیں ہوں گی،
یہاں تک کہ اپنے والد رسولِ خداؐ سے ملاقات کروں
اور تمہارے ظلم و اذیت کی شکایت ان سے بیان کروں،
پھر وہ تم دونوں کے بارے میں فیصلہ فرمائیں گے۔”
📚 کتاب سلیم بن قیس، جلد 1، ص 391–392
(تحقیق: محمد باقر الأنصاری الزنجانی)
🔗 lib.eshia.ir/15224/1/391
📚 ترجمہ تاریخ سیاسی صدر اسلام / کتاب سلیم بن قیس، ص 319
🔗 lib.eshia.ir/71763/1/319
📚 کامل بهائى – عمادالدین طبری، ص 312
📚 حدیقة الشیعة – محقق اردبیلی، ج1، ص46–47
📚 جلاء العیون – شیخ محمد باقر مجلسی اول، ص149
اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ
حضرت فاطمہ زہراءؑ نے ابوبکر اور عمر سے کبھی رضامندی ظاہر نہیں کی
بلکہ فرمایا کہ قیامت میں رسولِ خداؐ سے شکایت کریں گی۔
🔴 علامہ مجلسی (رحمۃ اللہ علیہ) لکھتے ہیں:
عامہ (اہلِ سنت) اور خاصہ (اہلِ تشیع) دونوں کی روایات سے یہ بات واضح ہے کہ
حضرت فاطمہ زہراءؑ اور حضرت امیرالمؤمنینؑ
ان دونوں کو ظالم، غاصب اور نافرمان سمجھتے تھے،
خاص طور پر واقعۂ غصبِ فدک میں۔
اور وہ دونوں ان دو بزرگواروں (علیؑ و فاطمہؑ) کو جھوٹا، باطل دعویٰ کرنے والا، اور خلیفہ وقت کے مقابل آنے والا سمجھتے تھے۔
اب ان دو گروہوں میں سے ایک ضرور حق پر ہوگا
دونوں ایک ساتھ حق پر نہیں ہو سکتے۔
حالانکہ خود مخالفین (اہل سنت) نے اپنی صحاح میں
بہت سی سندوں سے روایت کی ہے کہ:
📜 "جو امام کی اطاعت سے نکل جائے اور جماعت سے الگ ہو جائے
اور اسی حالت میں مر جائے، وہ جہالت کی موت مرے گا۔"
اور یہ بھی روایت کی ہے کہ:
📜 "جو ذرا سا بھی حکومتِ حق کی اطاعت سے ہٹے
وہ بھی جہالت کی موت مرے گا۔"
اور یہ بھی کہا ہے کہ:
📜 "جو اس حال میں مرے کہ اس کی گردن میں امامِ وقت کی بیعت نہ ہو،
وہ جہالت کی موت مرا۔"
اب ظاہر ہے کہ صدیقہ طاہرہؑ
ابوبکر سے کبھی راضی نہیں ہوئیں
اور ہمیشہ اسے باطل، گمراہ اور ظالم سمجھتی رہیں
یہاں تک کہ دنیا سے پردہ فرما گئیں۔
لہٰذا اگر کوئی ابوبکر کی خلافت کو حق مانے
تو اسے لازماً یہ بھی ماننا پڑے گا کہ
(نعوذباللہ) سیدہ نساء العالمینؑ،
وہ جنہیں خدا نے ہر رجس و گناہ سے پاک کیا،
کفر و ضلالت کی حالت میں دنیا سے گئیں!
اور
ایسا عقیدہ نہ کوئی مومن، نہ مسلمان، بلکہ
کوئی مُلحد یا زندیق بھی نہیں مان سکتا۔
حقّ الیقین — علامہ محمد باقر مجلسیؒ
صفحہ: 331–332
لہذا واضح ہے کہ سیدہ انہیں مسلمان ہی نہیں سمجھتی تھیں
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen