Back to سیدہ فاطمہ بنت محمد ص

جنابِ سیدہ فاطمہ ص کی تدفین رات کو کیوں کی گئی؟

🔴 جنابِ سیدہ فاطمہ ﷺ کی تدفین رات کو کیوں کی گئی؟

 

❓ سوال: کہا جاتا ہے کہ حضرت زہرا (س) کو رات میں دفن کیا گیا تھا۔ کیا یہ صرف اس وجہ سے تھا جو آپ نے جناب اسما بنت عمیس کو وصیت کی تھی، تاکہ نامحرم آپ کے جسد کو نہ دیکھ سکیں؟

 

✅ جواب: جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا رات کے عالم میں دفن ہونا، خلفاء کا جنازے میں شریک نہ ہونا، قبر کا مخفی ہونا، یہ تمام وہ راز ہیں جن کے پس پردہ بہت سارے حقائق پوشیدہ ہیں۔ ٹھیک ہے جناب زہرا (س) نے وصیت فرمائی تھی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں جناب زہرا ایسی وصیت کرنے پر مجبور ہوئیں؟ 

 

❓ کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ اپنی اس وصیت کے ذریعہ اپنے دشمنوں کی نسبت ناراضگی کا اظہار کرنا چاہتی تھیں؟ اور قیامت تک کے محققین کے لیے یہ سوال چھوڑ کر جانا چاہتی تھیں کہ کیوں جناب زہرا (س) کا جنازہ رات میں اٹھایا گیا؟ 

 

❓کیوں جناب زہرا (س) کی قبر مخفی ہے ؟ 

 

❓کیوں حضرت علی (ع) نے خلفاء وقت کو خبر کئے بغیر آپ کے جنازہ پر نماز ادا کر دی؟ وغیرہ وغیرہ کیا وہ شخص جو جانشین پیغمبر (ص) تھا وہ دختر رسول (ص) کے جنازہ پر نماز پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا؟

 

جی ہاں، جناب زہرا(س) نے وصیت کی کہ انہیں رات کے عالم میں دفنایا جائے ، آپ ان لوگوں کو باخبر نہیں کرنا چاہتی تھیں جنہوں نے آپ پر ظلم و ستم کے طوفان ڈھائے۔ یہ شیعت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے رسول اسلام (ص) کے بعد جانشین رسول (ص) ہونے کا دعویٰ کیا تھا دختر رسول (ص) دنیا سے جاتے وقت ان سے ناراض تھیں لہذا جناب فاطمہ (ص) کی محبت دل میں رکھنے والے اور ان کی سیرت پر چلنے والے کیسے ان سے راضی ہو سکتے ہیں؟

 

جناب زہرا (س) کے خلفاء راشدین سے ناراضگی پر شیعہ سنی کتابوں میں کثرت سے روایات موجود ہیں ہم یہاں پر صرف چند ایک کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

 

🔴 اہلسنت کی کتابوں میں: 🔴

 

⭕ رات میں دفن کرنا اور خلفاء کو اطلاع نہ دینا

 

▪️محمد بن اسماعیل بخاری لکھتے ہیں:

 

📜 وعَاشَتْ بَعْدَ النبي صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عليها.

 

📃 فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول خدا (ص) کے بعد چھ مہینے زندہ رہیں جب دنیا سے رخصت ہوئیں تو آپ کے شوہر علی (ع) نے رات کے عالم میں آپ کو دفن کر دیا اور ابوبکر کو اطلاع نہیں دی۔

 

📚 البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1549، ح3998، كتاب المغازي، باب غزوة خيبر، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

 

▪️ابن قتیبہ دینوری نے تاویل مختلف الحدیث میں لکھا ہے:

 

📜 وقد طالبت فاطمة رضي الله عنها أبا بكر رضي الله عنه بميراث أبيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما لم يعطها إياه حلفت لا تكلمه أبدا وأوصت أن تدفن ليلا لئلا يحضرها فدفنت ليلا.

 

📃 فاطمہ(س) نے ابوبکر سے اپنے باپ کی میراث کا مطالبہ کیا ابوبکر نے قبول نہیں کیا تو فاطمہ(س) نے قسم کھائی کہ ابوبکر کے ساتھ بات نہیں کریں گی اور وصیت کی کہ انہیں رات کو دفن کیا جائے اور وہ (ابوبکر) ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو۔

 

📚 الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، تأويل مختلف الحديث، ج 1، ص 300، تحقيق: محمد زهري النجار، ناشر: دار الجيل، بيروت، 1393هـ، 1972م.

 

▪️عبد الرزاق صنعانی لکھتے ہیں:

 

📜 عن بن جريج وعمرو بن دينار أن حسن بن محمد أخبره أن فاطمة بنت النبي صلى الله عليه وسلم دفنت بالليل قال فرَّ بِهَا علي من أبي بكر أن يصلي عليها كان بينهما شيء.

 

📃 ابن جریح اور عمرو بن دینار سے نقل کیا ہے کہ انہیں حسن بن محمد نے خبر دی کہ فاطمہ (س) بن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ کو رات میں دفن کیا گیا اس نے کہا کہ فاطمہ (س) اور ابوبکر کے درمیان جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے علی (ع) نے اسے نماز پڑھنے کے لیے مطلع نہیں کیا۔

نیز لکھتے ہیں:

 

📜 عبد الرزاق عن بن عيينة عن عمرو بن دينار عن حسن بن محمد مثله الا أنه قال اوصته بذلك

 

📃 حسن بن محمد سے اس کے مشابہ ایک اور روایت بھی نقل ہوئی ہے اس میں صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں آیا ہے کہ فاطمہ(س) نے خود اس کام کی وصیت کی تھی۔

 

📚 الصنعاني، أبو بكر عبد الرزاق بن همام (متوفاي211هـ)، المصنف، ج 3، ص 521، حديث شماره 6554 و حديث شماره: 6555، تحقيق حبيب الرحمن الأعظمي، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1403هـ.

 

▪️ابن بطال نے شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے:

 

📜 أجاز أكثر العلماء الدفن بالليل... ودفن علىُّ بن أبى طالب زوجته فاطمة ليلاً، فَرَّ بِهَا من أبى بكر أن يصلى عليها، كان بينهما شىء.

 

📃 اکثر علماء نے جنازہ کو رات میں دفن کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔۔۔ اور علی بن ابی طالب نے اپنے زوجہ فاطمہ کا جنازہ رات کو دفن کیا تاکہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھ سکے چونکہ ان دونوں ( فاطمہ اور ابوبکر) کے درمیان کوئی اختلاف تھا۔

 

📚 إبن بطال البكري القرطبي، أبو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفاي449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج 3، ص 325، تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

 

▪️ابن ابی الحدید نے جاحظ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

 

📜 وظهرت الشكية، واشتدت الموجدة، وقد بلغ ذلك من فاطمة ( عليها السلام ) أنها أوصت أن لا يصلي عليها أبوبكر۔

فاطمہ کی شکایت اور نارضگی اس حد تک تھی کہ انہوں نے وصیت کی کہ ابوبکر ان کے جنازہ پر نماز نہ پڑھے۔

 

📚 إبن أبي الحديد المدائني المعتزلي، أبو حامد عز الدين بن هبة الله بن محمد بن محمد (متوفاي655 هـ)، شرح نهج البلاغة، ج 16، ص 157، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1418هـ - 1998م.

 

▪️دوسری جگہ لکھتے ہیں:

 

📜 وأما إخفاء القبر، وكتمان الموت، وعدم الصلاة، وكل ما ذكره المرتضى فيه، فهو الذي يظهر ويقوي عندي، لأن الروايات به أكثر وأصح من غيرها، وكذلك القول في موجدتها وغضبها.

 

📃 فاطمہ (س) کی قبر کا مخفی ہونا، موت کو چھپانا، اور ابوبکر کا نماز جنازہ نہ پڑھنا، اور مزید جو کچھ سید مرتضی نے لکھا ہے وہ سب میرے نزدیک واضح اور مورد تائید ہے۔ اس لیے کہ اس موضوع پر کثرت سے روایات موجود ہیں اور باقی روایتوں سے صحیحتر ہیں اور اس طرح ( شیخین کے سلسلے میں ) آپ کی ناراضگی اور غضب کی بات بھی میرے نزدیک مورد تائید ہے۔

 

📚 شرح نهج البلاغة، ج 16، ص 170.

 

🔴 شیعوں کی کتابوں میں 🔴

 

⭕ جناب فاطمہ (س) کا رات میں دفن ہونا

 

اگر چہ جناب زہرا (ص) کی رات میں دفن کے سلسلے میں وصیت شیعہ علماء کے نزدیک مسلم اور قطعی ہے لیکن ہم یہاں پر صرف ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

 

▪️مرحوم شیخ صدوق نے رات کو دفنانے کی وجہ کے بارے میں لکھا ہے:

 

📜 عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام لِأَيِّ عِلَّةٍ دُفِنَتْ فَاطِمَةُ (عليها السلام) بِاللَّيْلِ وَ لَمْ تُدْفَنْ بِالنَّهَارِ قَالَ لِأَنَّهَا أَوْصَتْ أَنْ لا يُصَلِّيَ عَلَيْهَا رِجَالٌ [الرَّجُلانِ].

 

📃 علی بن ابو حمزہ نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: کیوں فاطمہ زہرا(س) کو رات میں دفن کیا گیا دن میں نہیں؟ فرمایا: فاطمہ سلام اللہ علیہا نے وصیت کی تھی کہ انہیں رات میں دفن کیا جائے تاکہ کچھ لوگ( دو آدمی) ان کے جنازہ پر نماز نہ پڑھ سکیں۔

 

📚 الصدوق، أبو جعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، علل الشرايع، ج1، ص185، تحقيق: تقديم: السيد محمد صادق بحر العلوم، ناشر: منشورات المكتبة الحيدرية ومطبعتها - النجف الأشرف، 1385 - 1966 م .

 

▪️مرحوم صاحب مدارک لکھتے ہیں:

 

📜 إنّ سبب خفاء قبرها ( عليها السلام ) ما رواه المخالف والمؤالف من أنها ( عليها السلام ) أوصت إلى أمير المؤمنين ( عليه السلام ) أن يدفنها ليلا لئلا يصلي عليها من آذاها ومنعها ميراثها من أبيها ( صلى الله عليه وآله وسلم ).

 

📃 جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو رات میں دفن کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ دوست و دشمن سب نے نقل کیا ہے کہ آپ (س) نے امیر المومنین علی (ع) کو وصیت کی تھی کہ انہیں رات کو دفنایا جائے تاکہ وہ لوگ جنہوں نے آپ کو اذیت و آزار دیں اور آپ کو اپنے باپ کی میراث سے محروم کیا آپ کے جنازہ میں شریک نہ ہوں اور آپ پر نماز نہ پڑھ سکیں۔

 

📚 الموسوي العاملي، السيد محمد بن علي (متوفاي1009هـ)، مدارك الأحكام في شرح شرائع الاسلام، ج 8، ص279، نشر و تحقيق مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، الطبعة: الأولي، 1410هـ.

 

⭕ نتیجہ

مذکورہ روایات اور اہلسنت کے علماء کے اعتراف کی روشنی میں جناب زہرا (س) کو رات کے عالم میں دفنانا آپ کی وصیت کی وجہ سے تھا جو آپ نہیں چاہتی تھیں کہ جن لوگوں نے آپ کے بابا کے بعد آپ کو اس قدر ستایا کہ اٹھارہ سال کی عمر میں سر کے بال سفید ہو گئے، کمر خمیدہ ہو گئی، پسلیاں توڑ دی گئی، شکم میں محسن کو شہید کر دیا گیا، وہ لوگ آپ کے جنازے میں شریک ہوں۔ وہ لوگ کیسے جناب زہرا (س) کی جنازہ میں شریک ہو سکتے تھے؟ جناب زہرا (س) ہرگز انہیں اجازت نہیں دے سکتی تھی کہ وہ آپ کے جنازے پر نماز پڑھیں۔ ایسے میں اگر رات کو دفنانے کی وصیت نہ کرتی اور دن میں جنازہ اٹھتا تو یقینا رسم نبھانے وہ لوگ بھی جنازہ میں شریک ہو جاتے جس سے ایک تو جناب زہرا(س) کی روح کو اذیت ہوتی۔ دوسرے اگر علی علیہ السلام انہیں منع کرتے تو نیا ہنگامہ کھڑا ہو جاتا۔ ممکن تھا تلواریں نکل آتیں تو جنازہ کی بے حرمتی ہوتی۔

Posted 12th May 2016 by Unknown

 

https://khaibershikan.blogspot.com/2016/?m=1

 

●▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬▬▬●

 

🔴 *حضرت فاطمہ سلام اللّٰه علیہا کا دفن اہلسنت کا اقرار*

 

 رات کو دفن کرنا، خلیفہ وقت سے خفیہ طور پر، قبر کا بھی خفیہ رہنا ایسا راز ہے جو اپنے اندر کئی پیغام اور درس لیے ہوئے ہے۔ اگرچہ خود جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے ایسے وصیت کی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں ایسی وصیت کرنا پڑی؟ کیا جو شخص خلافت کا دعویدار تھا، وہ آپؑ کے جنازہ پر نماز پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا؟

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے وصیت کی تھی کہ آپؑ کو رات کے وقت دفن کیا جائے اور جنہوں نے آپؑ پر ظلم کیا ہے ان میں سے کسی کو اطلاع نہ دی جائے اور یہ بہترین ثبوت ہے شیعہ کے پاس اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی مظلومانہ طریقہ سے شہید ہوئیں اور جنہوں نے آپؑ پر ظلم کیا تھا، آپؑ ان سے ناراض تھیں۔

 

▪️ اسکی صراحت میں مصنف عبد الرزاق کی روایت بھی ہے۔ جو یہ ہے:

 

📜 ٦٥٥٤ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ حَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَهُ، «أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُفِنَتْ بِاللَّيْلِ» قَالَ: فَرَّ بِهَا عَلِيٌّ مِنْ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا، كَانَ بَيْنَهُمَا شَيْءٌ "

 

📃 ابن جریج سے، جس نے عمرو بن دینار سے روایت کی کہ حسن بن محمد نے اسکو خبر دی کہ فاطمہ بنت محمد کو رات کو دفن کیا گیا۔ اور کہا کہ علی اس سے اجتناب کرتے رہے کہ وہ (ابو بکر) ان (فاطمہ) کی نماز پڑھیں اور انکے درمیان کوئی اَن بَن تھی (یعنی ابو بکر و فاطمہ س کے درمیان مسائل تھے کوئی جس وجہ سے نماز نہ پڑھنے دی اور رات کو دفن کیا)۔ 

 

📚 مصنف عبد الرزاق، رقم الحدیث: 6554

 

🔴 *خفیہ دفن اہلسنت علماء کی نظر میں*

 

▪️اہلسنت کے علامہ محمد ابن اسماعیل بخاری نے لکھا ہے: 

 

📜 "وَعَاشَتْ بَعْدَ النبي صلي الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّي عليها"[1]

 

📃 "فاطمہ (س)، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد چھ مہینے زندہ رہیں، تو جب ان کا انتقال ہوا، ان کو ان کے شوہر علی نے انہیں رات کے وقت دفن کیا اور ابوبکر کو اطلاع نہ دی اور خود ان پر نماز پڑھی"۔

 

▪️مسلم نے اپنی کتاب صحیح میں لکھا ہے:

 

📜 "فلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بن أبي طَالِبٍ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَکْرٍ وَصَلَّى عليها عَلِيٌّ"[2]

 

📃 "جب فاطمہ کا انتقال ہوا تو ان کے شوہر علی ابن ابی طالب نے ان کو رات کے وقت دفن کیا اور ابوبکر کو اطلاع نہ دی اور ان پر علی نے نماز پڑھی"۔

 

▪️علامہ اہلسنت ابن قتیبہ نے لکھا ہے: 

 

📜 "وقد طالبت فاطمة رضي الله عنها أبا بكر رضي الله عنه بميراث أبيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما لم يعطها إياه حلفت لا تكلمه أبدا وأوصت أن تدفن ليلا لئلا يحضرها فدفنت ليلا "[3]

 

📃 "فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر سے اپنے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا، تو جب ابوبکر نے ان کو میراث نہ دی تو فاطمہ نے قسم کھائی کہ ہرگز ابوبکر سے بات نہیں کریں گی اور وصیت کی کہ ان کو رات کے وقت دفن کیا جائے تا کہ ابوبکر ان کے جنازہ پر نہ آئے، لہذا انہیں رات کے وقت دفن کیا گیا"۔

 

اہلسنت کے علامہ ابن بطّال نے شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے:

 

📜 " اجاز اکثر العلماء الدفن باللیل... و دفن علىُّ بن ابى طالب زوجته فاطمه لیلاً، فَرَّ بِهَا من ابى بکر ان یصلى علیها، کان بینهما شىء "[4]

 

📃 "اکثر علماء نے رات کے وقت دفن کرنے کی اجازت دی ہے... اور علی ابن ابی طالب نے اپنی زوجہ فاطمہ کو رات کے وقت دفن کیا تھا تاکہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھے، (کیونکہ) ان دونوں کے درمیان کوئی حادثہ پیش آیا تھا"۔

 

▪️ابن ابی الحدید نے جاحظ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

 

📜 "و اما اخفاء القبر، وکتمان الموت، وعدم الصلاه، وکل ما ذکره المرتضى فیه، فهو الذی یظهر ویقوی عندی، لان الروایات به اکثر واصح من غیرها، وکذلک القول فی موجدتها وغضبها"[5]

 

📃 "فاطمہؑ کی قبر کو مخفی کرنا اور موت کو چھپانا اور ابوبکر اور عمر کا نماز جنازہ نہ پڑھنا اور جو کچھ سید مرتضی (جو چوتھی صدی کے نامور شیعہ علامہ تھے) نے کہا ہے، وہ میری نظر میں واضح اور مضبوط ہے، کیونکہ اس سلسلہ میں روایات، دیگر روایات سے تعداد کے لحاظ سے زیادہ اور زیادہ صحیح ہیں اور نیز فاطمہؑ کی شیخین (ابوبکر و عمر) سے ناراضگی اور غضب بھی دیگر نظریات سے زیادہ معتبر ہے"۔

 

▪️نیز ابن ابی الحدید نے جاحظ سے نقل کیا ہے:

 

📜 "وظهرت الشكية، واشتدت الموجدة، وقد بلغ ذلك من فاطمة (عليها السلام) أنها أوصت أن لا يصلي عليها أبوبكر"[6]

 

📃 "اور فاطمہ (علیہاالسلام) کی شکایت اور ناراضگی اس حد تک پہنچ گئی کہ آپؑ نے وصیت کی کہ ابوبکر آپؑ پر نماز نہ پڑھے"۔

 

▪️ابن ابی الحدید نے یہ بھی لکھا ہے: 

 

📜 "بل یقع الاحتجاج بذلک علی ما وردت به الرّوایات المستفیضة الظاهرة الَّتی هی کالتَّواتر، انَّها اوصت بان تدفن لیلا حتّی لایصلّی الرّجلان علَیها و صرَّحتْ بذلک و عهِدت فیهِ... قالت: فإني أنشدك الله ألا يصليا على جنازتي ولا يقوما على قبري"،[7]

 

📃 "بلکہ مستفیضہ روایات کے ذریعے جو تواتر کی حد تک ہیں اور ان کی دلالت ظاہر ہے، یہ دلیل پیش کی جاسکتی ہے کہ فاطمہ نے وصیت کی کہ آپ کو رات کے وقت دفن کیا جائے تا کہ وہ دو مرد آپ پر نماز نہ پڑھیں اور آپ نے اس وصیت کو واضح طور پر بتایا اور اس پر عمل کرنے کا عہد لیا... آپ نے فرمایا: میں آپ (علی) کو اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ وہ دونوں میرے جنازے پر نماز نہ پڑھیں اور میری قبر پر کھڑے نہ ہوں"۔

 

🔴 *حضرت فاطمہ زہراؑ کا غضبناک ہونا، اہلسنت علماء کی نظر میں*

 

بخاری نے اپنی کتاب صحیح کے دو مقامات پر (کتاب فرض الخمس اور کتاب المغازی) حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کا ابوبکر پر غضبناک ہونا اور رات کو دفن ہونا، بیان کیا ہے:

 

📜 ۱۔ فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ[8]"…، "فاطمہ 

 

بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوئیں اور ابوبکر سے رخ موڑ لیا اور آپؑ نے مسلسل اس سے رخ موڑے رکھا یہاں تک کہ وفات پاگئیں"۔

 

📜 ۲۔ "فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا"...[9]، "فاطمہ ابوبکر پر اس کے کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے غضبناک ہوئیں اور اس سے رخ موڑ لیا اور اس سے بات نہ کی یہاں تک کہ وفات پاگئیں اور آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ مہینے زندہ رہیں، تو جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کے شوہر علی نے آپ کو رات کے وقت دفن کیا اور آپ کے بارے میں ابوبکر کو اطلاع نہ دی اور آپ پر نماز پڑھی"…۔

 

▪️علامہ اہلسنت بدرالدین عینی نے صحیح بخاری کے اس فقرہ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

 

📜 "(وَلم يُؤذن بهَا أَبَا بكر) أَي: وَلم يعلم بوفاتها أَبَا بكر"، یہ جو بخاری نے کہا ہے: "وَلم يُؤذن بهَا أَبَا بكر" اس کا مطلب یہ ہے کہ علی نے ابوبکر کو فاطمہ کی وفات کی اطلاع نہ دی۔ اور یہ جو بخاری نے کہا ہے: (وَصلى عَلَيْهَا) أَي: صلى عَليّ، رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ، على فَاطِمَة[10]، اس کا مطلب یہ ہے کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فاطمہ پر نماز پڑھی۔

نتیجہ: اہلسنت علماء کے اقرار اور اعتراف کے مطابق سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کو آپؑ کی وصیت کے مطابق رات کے وقت خفیہ طور پر دفن کیا گیا اور آپؑ کی اس وصیت کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے آپؑ پر ظلم و ستم ڈھایا تھا۔

 

*حوالہ جات*

 

[1]صحيح بخاري، ج 4، ص 1549، ح3998۔

[2] صحيح مسلم، تحقيق : محمد فؤاد عبد الباقي ) ج 3، ص 1380، حديث 1759۔

[3] تأويل مختلف الحديث، ابن قتيبه الدينوري، تحقيق: محمد زهري النجار، ج 1، ص 300۔

[4] ابن بطال البکری القرطبی، شرح صحیح البخاری، ج 3، ص 325.

[5] شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، جلد 16، صفحه 170۔

[6] شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، ج16، ص 157۔

[7] شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، ج 16، ص 281۔

[8] صحيح البخاري، ج 3، ص 1126، ح2926، باب فَرْضِ الْخُمُسِ۔

[9] صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوة خیبر، ح4240۔

[10] عمدة القاري شرح صحيح البخاري، بدر الدين العينى، ج17، ص259۔

 

          *•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*

     *_┈••❃🌺 شیعه شناسی 🌺❃••┈_*

 

●▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬▬▬●

 

🔴 سوال. حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے رات کے وقت دفن ہونے کی وصیت کیوں کی؟ 🔴

 

جواب. حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنی مظلومیت کے بعد حالت احتضار میں وصیت کی کہ انہیں رات کے وقت دفن کیا جائے.

 

یہ ایک عجیب کام تھا جو انبیاء کرام ع کے کاموں کی طرح تھا کیونکہ وہ شخص جس کے ساتھ جھگڑا کیا جائے اسے مغلوب کرکے شہید کیا جائے, اس کے خلاف فیصلہ سنایا جائے اتنی مصیبتیں دیکھنے کے باوجود وہ ایسا راستہ اختیار کرے جس میں وہ دوسروں کو دکھائے کہ وہ (مغلوب نہیں بلکہ) غالب ہے یہ کام انبیاء کرام کے کاموں اور اعجاز کے مشابہ ہے.

 

آپ کا یہ وصیت کرناکہ آپ کو تشییع جنازہ کے بغیر دفن کیا جائے اسے سمجھنے سے انسان کی فکر عاجز ہے.

 

اگر حکومت و خلافت کو معلوم ہو جاتا کہ حضرت زہرا س اس طرح کرنا چاہتی ہیں تو وہ آپ کے گھر میں آکر ایسا کرنے سے روکتے .

 

آپ کی تدفین کے بعد ان کے پاس صرف ایک راستہ تھا اور وہ تھا نبش قبر , لیکن امیر المومنین ع نے ایسا نہ کرنے دیا.

 

عارف باللہ حضرت آیت اللہ العظمی تقی بہجت دام ظلہ.........

(٦٠٠, نکتہ:١٢٩/١)

 

🔴 ﻗﺒﺮ ﻣﺒﺎﺭﻙ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﺍﻟﺰﻫﺮﺍﺀ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻬﺎ کہاں ہے؟ 

 

ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ) ﻧﮯ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﻛﻴﺎ ﺗﮭﺎ ﻛﮧ ﺁﭖ ﻛﻰ ﻗﺒﺮ ﻣﺨﻔﻰ ﺭﮨﮯ ﺍﺳﻰ ﻟﺌﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﻰ ( ﻉ) ﻧﮯ ﺁﭖ ( ﺹ )ﻛﻮ ﺭﺍﺕ ﻛﻰ ﺗﺎﺭﻳﻜﻰ ﻣﻴﮟ ﺩﻓﻦ ﻛﻴﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻛﻰ ﻗﺒﺮ ﻛﻮ ﺯﻣﻴﻦ ﺳﮯﮨﻤﻮﺍﺭ ﻛﺮﺩﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻟﻴﺲ ﺗﺎﺯﮦ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﻛﻰ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﺩﻯ ﺗﺎ ﻛﮧ ﺩﺷﻤﻦﺍﺷﺘﺒﺎﮦ ﻣﻴﮟ ﺭﮨﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻛﻰ ﺣﻘﻴﻘﻰ ﻗﺒﺮ ﻛﻰ ﺟﮕﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧﻛﺮﺳﻜﻴﮟ ﮔﺮﭼﮧ ﺧﻮﺩ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﻰ ( ﻉ ) ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﻰ ﺍﻭﻻﺩ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹﺍﺻﺤﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﺁﭖ ﻛﻰ ﻗﺒﺮ ﻛﻰ ﺟﮕﮧ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ _ ﻟﻴﻜﻦﺍﻧﮩﻴﮟ ﺟﻨﺎﺏ ﺯﮨﺮﺍﺀ ( ﻉ ) ﻛﻰ ﺷﻔﺎﺭﺵ ﺗﮭﻰ ﻛﮧ ﻗﺒﺮ ﻛﻮ ﻣﺨﻔﻰ ﺭﻛﮭﻴﮟﻟﮩﺬﺍ ﺍﻥ ﻣﻴﮟ ﺳﮯ ﻛﻮﺋﻲ ﺑﮭﻰ ﺣﺎﺿﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻛﮧ ﺁﭖ ( ﻉ) ﻛﻰ ﻗﺒﺮﻛﻰ ﻧﺸﺎﻧﺪﮨﻰ ﻛﺮﺗﺎ ﻳﮩﺎﮞ ﺗﻚ ﻛﮧ ﺍﻳﺴﮯ ﻗﺮﺍﺋﻦ ﺍﻭﺭ ﺁﺛﺎﺭ ﺑﮭﻰ ﻧﮩﻴﮟﭼﮭﻮﮌﮮ ﮔﺌﮯ ﻛﮧ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺁﭖ ﻛﻰ ﻗﺒﺮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻛﻰ ﺟﺎﺳﻜﮯ _ ﺁﺋﻤﮧﻃﺎﮨﺮﻳﻦ ﻳﻘﻴﻨﻰ ﻃﻮﺭ ﺳﮯ ﺁﭖ ﻛﻰ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﺗﮭﮯ ﻟﻴﻜﻦ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺑﮭﻰ

ﺍﺱ ﻛﻰ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﻰ ﻛﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺭﺍﺯ ﺍﻟﮩﻰ ﻛﻮ ﻓﺎﺵ ﺍﻭﺭ ﻇﺎﮨﺮ

ﻛﺮﻳﮟ ﻟﻴﻜﻦ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﮨﻞ ﺗﺤﻘﻴﻖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻛﻰ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣﻴﮟ

ﻛﻤﻰ ﻧﮩﻴﮟ ﻛﻰ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﻴﺸﮧ ﺍﺱ ﻣﻴﮟ ﺑﺤﺚ ﻭ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻟﮩﺬﺍ

ﺑﻌﺾ ﻗﺮﺍﺋﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺁﭖ ﻛﮯ ﺩﻓﻦ ﻛﻰ ﺟﮕﮧ ﻛﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ

ﺑﺘﻼﻳﺎ ﮨﮯ _

 

_1 ﺑﻌﺾ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺁﭖ ﺟﻨﺎﺏ ﭘﻴﻐﻤﺒﺮ ( ﺹ) ﻛﮯ ﺭﻭﺿﮧ ﻣﻴﮟﮨﻰ ﺩﻓﻦ ﮨﻴﮟ _ ﻣﺠﻠﺴﻰ ﻧﮯ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﮨﻤﺎﻡ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﻛﻴﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﻭﮦﻛﮩﺘﮯ ﮨﻴﮟ ﻛﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﻰ ( ﻉ) ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ) ﻛﻮ ﺭﺳﻮﻝ( ﺹ) ﻛﮯ ﺭﻭﺿﮧ ﻣﻴﮟ ﺩﻓﻦ ﻛﻴﺎ ﮨﮯ ﻟﻴﻜﻦ ﻗﺒﺮ ﻛﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻛﻮ ﺑﺎﻟﻜﻞ ﻣﭩﺎﺩﻳﺎ _

ﻧﻴﺰ ﻣﺠﻠﺴﻰ ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﻀﮧ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﻛﻴﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﺟﻨﺎﺏﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ) ﻛﻰ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺭﻭﺿﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﻣﻴﮟ ﭘﮍﮬﻰ ﮔﺌﻲ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻛﻮﺭﺳﻮﻝ ( ﺹ ) ﻛﮯ ﺭﻭﺿﮧ ﻣﻴﮟ ﮨﻰ ﺩﻓﻦ ﻛﺮﺩﻳﺎ ﮔﻴﺎ _

 

ﺷﻴﺦ ﻃﻮﺳﻰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ) ﻛﻮ ﺟﻨﺎﺏ

 

ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ( ﺹ) ﻛﮯ ﺭﻭﺿﮧ ﻣﻴﮟ ﻯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻴﮟ ﺩﻓﻦ ﻛﻴﺎ ﮔﻴﺎ ﮨﮯﺍﺱ ﺍﺣﺘﻤﺎﻝ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺰﻳﺪ ﺩﻟﻴﻞ ﺟﻮﻻﺋﻲ ﺟﺎﺳﻜﺘﻰ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺭﻭﺍﻳﺖﮨﮯ ﻛﮧ ﺟﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ( ﺹ) ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﻛﻰ ﮔﺌﻲ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎﻛﮧ ﻣﻴﺮﻯ ﻗﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﻴﺮﮮ ﻣﻨﺒﺮ ﻛﮯ ﺩﺭﻣﻴﺎﻥ ﺟﻨﺖ ﻛﮯ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﺳﮯﺍﻳﻚ ﺑﺎﻍ ﮨﮯ

ﺩﻭﺳﺮﻯ ﺩﻟﻴﻞ ﻳﮧ ﮨﮯ ﻛﮧ ﻟﻜﮭﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﻰ ( ﻉ) ﻧﮯ ﺭﻭﺿﮧ

ﭘﻴﻐﻤﺒﺮ ﭘﺮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ) ﻛﻰ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻰ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﻴﻐﻤﺒﺮ ﻛﻮ

ﻣﺨﺎﻃﺐ ﻛﻴﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ ﻣﻴﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻛﻰ ﺩﺧﺘﺮ ﻛﺎ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺳﻼﻡ ﮨﻮﺟﻮ ﺁﭖ ﻛﮯ ﺟﻮﺍﺭ ﻣﻴﮟ ﺩﻓﻦ ﮨﮯ _

 

_2 ﻣﺠﻠﺴﻰ ﻧﮯ ﺍﺑﻦ ﺑﺎﺑﻮﻳﮧ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﻛﻴﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ ﻛﮧ

 

ﻣﻴﺮﮮ ﻧﺰﺩﻳﻚ ﻳﮧ ﺑﺎﺕ ﺻﺤﻴﺢ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ) ﻛﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻣﻴﮟ ﺩﻓﻦ ﻛﻴﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺑﻨﻰ ﺍﻣﻴﮧ ﻧﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﻯ ﻛﻰ ﺗﻮﺳﻴﻊ ﻛﻰﺗﻮ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ) ﻛﻰ ﻗﺒﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﻴﮟ ﺁﮔﺌﻲ _ ﻣﺠﻠﺴﻰ ﻧﮯ ﻣﺤﻤﺪﺍﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻧﺼﺮ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﻛﻴﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﻣﻴﮟ ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺏﺍﺑﻮﺍﻟﺤﺴﻦ ( ﻉ) ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻛﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ) ﻛﻰ ﻗﺒﺮ ﻛﮩﺎﮞ ﮨﮯ ﺗﻮﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ ﻛﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻴﮟ ﻣﺪﻓﻮﻥ ﮨﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺪ ﻣﻴﮟ ﻣﺴﺠﺪﻣﻴﮟ ﺁﮔﺌﻲ ﮨﻴﮟ ﺟﺐ ﻣﺴﺠﺪ ﻛﻰ ﺗﻮﺳﻴﻊ ﻛﻰ ﮔﺌﻲ _

 

_3 ﺻﺎﺣﺐ ﻛﺸﻒ ﺍﻟﻐﻤﮧ ﻟﻜﮭﺘﮯ ﮨﻴﮟ ﻛﮧ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻳﮩﻰ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺟﻨﺎﺏ

 

ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ) ﻛﻮ ﺑﻘﻴﻊ ﻣﻴﮟ ﺩﻓﻦ ﻛﻴﺎ ﮔﻴﺎ _ ﺳﻴﺪ ﻣﺮﺗﻀﻰ ﻧﮯ ﺑﮭﻰ ﻋﻴﻮﻥﺍﻟﻤﻌﺠﺰﺍﺕ ﻣﻴﮟ ﻳﮩﻰ ﻗﻮﻝ ﺍﺧﺘﻴﺎﺭ ﻛﻴﺎ ﮨﮯ

ﺍﺑﻦ ﺟﻮﺯﻯ ﻟﻜﮭﺘﮯ ﮨﻴﮟ ﻛﮧ ﻳﮧ ﺑﮭﻰ ﻛﮩﺎ ﮔﻴﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ )ﺑﻘﻴﻊ ﻣﻴﮟ ﻣﺪﻓﻮﻥ ﮨﻴﮟ ﻳﮧ ﻣﻄﻠﺐ ﺷﺎﻳﺪ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮔﻴﺎ ﮨﻮ ﻛﮧﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﻰ ( ﻉ) ﻧﮯ ﭼﺎﻟﻴﺲ ﺗﺎﺯﮦ ﻗﺒﺮﻳﮟ ﺑﻘﻴﻊ ﻣﻴﮟ ﺑﻨﺎﺋﻲ ﺗﮭﻴﮟ ﺍﻭﺭﺟﺐ ﺑﻌﺾ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﻣﻴﮟ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ) ﻛﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻛﻮﻧﻜﺎﻟﻨﮯ ﻛﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﻛﻴﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﻰ ( ﻉ) ﺧﺸﻤﻨﺎﻙ ﺍﻭﺭ ﻏﺼّﮯ ﻣﻴﮟﺁﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﻗﺘﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﻰ ﺩﮬﻤﻜﻰ ﺑﮭﻰ ﺩﮮ ﺩﻯ ﺗﮭﻰ ﭘﺲﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺍﻥ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﻣﻴﮟ ﺳﮯ ﺍﻳﻚ ﻗﺒﺮ ﺟﻨﺎﺏ ﺯﮨﺮﺍﺀ ( ﻉ) ﻛﻰﺗﮭﻲ _

 

_4 ﺍﺑﻦ ﺟﻮﺯﻯ ﻟﻜﮭﺘﮯ ﮨﻴﮟ ﻛﮧ ﺑﻌﺾ ﻧﮯ ﻟﻜﮭﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺟﻨﺎﺏ 

 

ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ )ﻛﻮ ﻋﻘﻴﻞ ﻛﮯ ﮔﮭﺮ ﻛﮯ ﻗﺮﻳﺐ ﺩﻓﻦ ﻛﻴﺎ ﮔﻴﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﻛﻰ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯﺗﻚ ﺳﺎﺕ ﺫﺭﻉ ﻛﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﮨﮯ _ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺟﻌﻔﺮ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺍﺱﻣﻴﮟ ﻛﻮﺋﻲ ﺷﻚ ﻧﮩﻴﮟ ﻛﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﻉ) ﻛﻰ ﻗﺒﺮ ﻋﻘﻴﻞ ﻛﮯ ﮔﮭﺮﻛﮯ ﻗﺮﻳﺐ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﮯ _ ﺍﻥ ﭼﺎﺭ ﺍﺣﺘﻤﺎﻻﺕ ﻣﻴﮟ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍﺍﺣﺘﻤﺎﻝ ﺗﺮﺟﻴﺢ ﺭﻛﮭﺘﺎ ﮨﮯ

 

ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻻﻧﻮﺍﺭ، ﺝ 43 ﺹ _185

 

Invisibleislam.com