پیغمبرِ اکرم ص کی وفات کے چالیس دن بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت واقع ہوئی
🔴 پیغمبرِ اکرم ﷺ کی وفات کے چالیس دن بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت واقع ہوئی
شیعہ و سنی کتب سے دلائل
روایت:
▪️ سلیم بن قیس (76ق) نے سلمان اور ابن عباس سے روایت کی:
جب رسولِ خدا ﷺ کا وصال ہوا، حضرت فاطمہؑ اپنے والد کی وفات کے بعد چالیس دن زندہ رہیں۔
جب بیماری نے شدت اختیار کی تو حضرت نے علیؑ کو بلایا اور فرمایا:
📜 "اے ابنِ عم! مجھے لگتا ہے اب میرا وقت قریب ہے۔ میں تمہیں وصیت کرتی ہوں کہ میری بھانجی زینب کی بیٹی سے نکاح کر لینا تاکہ وہ میرے بچوں کے لیے ماں جیسی ہو۔
میرے لیے ایک خاص تابوت تیار کرنا کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ فرشتے مجھے اس کا نمونہ دکھا چکے ہیں۔
اور میرا جنازہ، دفن یا نمازِ جنازہ میرے دشمنوں کے سامنے نہ کرنا۔"
ابن عباس کہتے ہیں: یہی بات امیرالمؤمنینؑ نے بھی فرمائی کہ:
📜 "کچھ امور ایسے ہیں جنہیں میں چھوڑ نہیں سکتا، کیونکہ قرآن انہی کے بارے میں نازل ہوا — یعنی ناکثین، قاسطین اور مارقین سے جنگ، جس کا مجھے میرے خلیل رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا۔
اور اُمَامہ بنتِ زینب سے نکاح فاطمہؑ کی وصیت تھی۔"
پس فاطمہؑ اسی دن انتقال فرما گئیں۔
📚 کتاب سلیم بن قیس الهلالی، ص392
▪️ ابن خشّاب بغدادی (567ق) نے ہَیثَم بن عَدِی (207ق) سے نقل کیا:
📜"حضرت فاطمہؑ اپنے والد کی وفات کے بعد پچھتر دن زندہ رہیں،
اور بعض روایتوں میں آیا ہے: چالیس دن۔"
📚 تاریخ موالید الأئمّة، ابن خشّاب بغدادی، ص10
▪️ حسین بن حمدان خصیبی (334ق) نقل کرتے ہیں:
📜 "حضرت فاطمہؑ نے مکہ میں آٹھ سال، مدینہ میں دس سال بسر کیے۔
رسولِ خدا ﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی،
اور آپ کے بعد پچھتر دن زندہ رہیں۔
بعض روایتوں (ثقفی، صاحب الغارات، 283ق) میں ہے کہ چالیس دن
اور یہی روایت صحیح ہے۔"
📚 الهدایة الكبرى، ص176
▪️ یعقوبی لکھتے ہیں:
📜 "حضرت فاطمہؑ رسول ﷺ کے بعد چالیس راتوں میں وفات پا گئیں۔"
📚 تاریخ یعقوبی، جلد 2، ص115
▪️ علامہ مجلسی (1110ق) نے وہب بن منبہ سے نقل کیا:
📜 "ابن عباس سے روایت ہے کہ فاطمہؑ رسول ﷺ کے بعد چالیس دن زندہ رہیں۔"
📚 بحار الأنوار، جلد 43، ص216
📚 مرآة العقول، جلد 5، ص318
⭕ یہ تمام روایات اس بات پر متفق ہیں کہ
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت، رسولِ خدا ﷺ کے بعد 40 دن میں واقع ہوئی۔
مزید روایت:
رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
📜 "میری امت میرے بعد علیؑ پر ظلم کرے گی، اس کا حق چھینے گی۔
وہ مظلومانہ قتل کیا جائے گا لیکن صبر کرے گا۔"
یہ سن کر فاطمہؑ پردے کے پیچھے سے آ کر رونے لگیں۔
رسول ﷺ نے پوچھا:
"اے بیٹی! تم کیوں رو رہی ہو؟"
حضرت نے عرض کیا: "میں نے آپ کو اپنے شوہر اور بیٹوں کے بارے میں یہ فرماتے سنا!"
رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
"اے فاطمہ! تم پر بھی ظلم کیا جائے گا،
تمہیں تمہارا حق نہیں دیا جائے گا،
اور تم میرے اہلِ بیت میں سب سے پہلے ہو جو چالیس دن بعد مجھ سے آ ملو گی۔
📚 طرف من الأنباء والمناقب، سید ابن طاووس، ص376
📚 الیقین، ص487-488
▪️مقاتل بن عطیہ (505ق) نے بھی یہی روایت نقل کی:
📜 "حضرت فاطمہؑ اپنے والد کی وفات کے بعد چالیس راتیں زندہ رہیں..."
📚 أبهى المداد، جلد 2، ص8
▪️خوارزمی (598ق) نے فرمایا:
📜 "رسولِ خدا ﷺ کے تمام اہلِ بیت آپ کی زندگی میں وفات پا گئے
سوائے فاطمہؑ کے،
جو آپ کے بعد چالیس دن زندہ رہیں۔"
📚 مقتل الحسین، جلد 1، ص130
▪️ابن شہر آشوب (588ق) لکھتے ہیں:
📜 "رسولِ خدا ﷺ کے وصال کے وقت فاطمہؑ کی عمر اٹھارہ سال اور سات ماہ تھی،
اور آپ کے بعد بہتر دن، یا پچھتر دن، یا چار ماہ زندہ رہیں۔
لیکن قُربانی (الفریابی) کے مطابق چالیس دن ہی درست قول ہے۔"
📚 مناقب آل ابی طالب، جلد 3، ص132
یعنی اہلِ سنت اور شیعہ دونوں روایتوں کے مطابق
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت، رسولِ خدا ﷺ کے بعد تقریباً چالیس دن میں ہوئی۔
بدر علی