جب امیرالمؤمنین ؏ کو جناب سیدہ س کی شہادت کی خبر ملی امیرالمؤمنین ؏ بےتاب ہو کر زمین پر گرپڑے ۔آپ ؏ کے چہرہ اطہر پر پانی ڈالا گیا۔جب آپ ؏ کی طبیعت کچھ سنبھلی تو آپ ؏ نے درد مندانہ لہجے میں کہا ۔
📜 بمن العزاء يا بنت محمد كنت بك أتعزى ففيم العزاء من بعدك ثم قال لكل اجتماع من خليلين فرقة
📃 اے بنت محمد ﷺ ! اب میں کس سے تسلی حاصل کروں گا۔ جب تک تم زندہ تھیں تو تمہیں دیکھ کر مجھے تسلی ہوتی تھی ، اب تمھارے بعد مجھے کس سے تسلی ملے گی۔
📚 كشف الغمة - ابن أبي الفتح الإربلي - ج ٢ - الصفحة ١٢٣
۔
📜 "عندما اشتغلَ أميرُ المؤمنينَ (عليهِ السلام) بتغسيلِ فاطمةَ (عليها السّلام)، وكانَت أسماءُ بنتُ عميس تصبُّ الماءَ على يدِهِ وهوَ يغسلُها مِن تحتِ ثيابها، قالت أسماءُ: فرأيتُ في أثناءِ ذلكَ أنَّ عليّاً (عليهِ السّلام) قد رفعَ صوتَه بالبكاءِ معَ ما كانَ عليهِ منَ التجلّدِ، فقلتُ: يا علي، يحقُّ لكَ البكاءُ في مثلِ هذهِ المُصيبةِ العُظمى والبليّةِ الكُبرى، ولكن لمَ ارتفعَ صوتُكَ بالبكاءِ مِن دونِ اختيار؟ فقالَ (عليهِ السّلام): "يا أسماءُ، رأيتُ السوادَ على طرفِ وجهِ فاطمةَ (عليها السّلام)، وبقاءَ أثرِ اللطمِ عليه، واحمرارَ عينها كالدمِ، وتورمَ عضدها كالدملجِ".
فعظّمَ الله (تعالى) لك الأجر يا علي (عليه السلام) وسلامٌ على فاطمة الزهراء (عليها السلام).
📃 "جب امیر المؤمنین علی (علیہ السلام) سیدہ فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کو غسل دینے میں مصروف تھے اور اسماء بنت عمیس ان کے ہاتھ پر پانی ڈال رہی تھیں جبکہ وہ سیدہ کو ان کے کپڑوں کے اندر سے غسل دے رہے تھے، تو اسماء کہتی ہیں: میں نے دیکھا کہ علی (علیہ السلام) ضبط کے باوجود بلند آواز میں رونے لگے۔ میں نے کہا: اے علی! ایسی عظیم مصیبت اور بڑی آزمائش میں رونا تو حق بجانب ہے، لیکن آپ بے اختیار بلند آواز میں کیوں روئے؟
علی (علیہ السلام) نے جواب دیا: "اے اسماء، میں نے فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے چہرے کے کنارے پر سیاہی دیکھی، ان پر لگی چوٹ کے نشان باقی تھے، ان کی آنکھیں خون کی طرح سرخ تھیں، اور ان کے بازو پر ورم تھا، جیسے کہ کسی زیور کی جگہ ہو۔"
اللہ تعالیٰ آپ کو اجرِ عظیم عطا کرے، اے علی (علیہ السلام)، اور سیدہ فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) پر سلام ہو۔
📚 الهجوم على بيت فاطمة (عليها السلام)، عبد الزهراء مهدي: 361
📚 أنوار الشهادة في مصائب العترة الطاهرة (عليها السلام): 207
- 208.
🖋 تحریر: نور حسن
🔴 حضرت علی کا مرثیہ قبرِ جناب سیدہ پر بوقت دفن
السلام عليك يا رسول اللّه، السلام عليك من ابنتك و حبيبتك و قرّة عينك و زائرتك، و البائتة في الثرى ببقيعك، المختار اللّه لها سرعة اللحاق بك، قلّ يا رسول اللّه عن صفيتك صبري، و ضعف عن سيدة النساء تجلّدي، الّا انّ في التأسي لي بسنّتك و الحزن الذي حلّ بي لفراقك موضع التعزّي، و لقد وسّدتك في ملحود قبرك بعد ان فاضت نفسك على صدري، و غمّضتك بيدي، و تولّيت أمرك بنفسي.
نعم و في كتاب اللّه أنعم القبول، انا للّه و انا إليه راجعون قد استرجعت الوديعة و أخذت الرهينة و اختلست الزهراء فما أقبح الخضراء و الغبراء يا رسول اللّه. اما حزني فسرمد و اما ليلي فمسهّد لا يبرح الحزن من قلبي أو يختار اللّه لي دارك التي فيها أنت مقيم، كمد مقيّح، و همّ مهيّج، سرعان ما فرق اللّه بيننا و الى اللّه أشكو.
سلام عليك يا رسول اللّه، سلام مودع و لا قال، فان انصرف فلا عن ملالة و ان أقم فلا عن سوء ظنّي بما وعد اللّه الصابرين، الصبر أيمن و أجمل و لو لا غلبة المستولين علينا، لجعلت المقام عند قبرك لزاما، و التلبّث عنده معكوفا، و لأعولت إعوال الثكلى على جليل الرزيّة، فبعين اللّه تدفن بنتك سرّا،
جاء إليه عمّه العباس فأخذ بيده و نحّاه عن القبر.
حضر ت علی نے بیبی فاطمہ کو انکی وصیت کے مطابق آدھی رات کو دفن کرنے کیئے جب قبر میں لٹایا تو بے اختیار روتے ہوئے کہنے لگے
آپ پر میرا سلام ہو یا رسول اللہ آپکی بیٹی آپکی حبیبہ اور انکی زائرہ کی طرف سے جو مٹی میں آپکے سامنے لیٹی ہوئی ہے اللہ نے اہل بیت میں سے انہیں منتخب کیا کہ وہ جلد آپ سے مل جائیں. ار رسول خدا کی لخت جگر نے میرا صبر چھین لیا اور بہترین خاتون کی جدائی سے میری طاقت کمزور ہوگئی آپ کی مصیبت پر صبر کرنے اور آپکے غم کو برداشت کرنے گنجائش ہے کہ اس مصیبت میں بھی صبر کرلوں اپنے ہاتھوں سے میں نے آپکی آنکھیں بند کیں ( انتقال کے وقت) اور تمام امور میں نے انجام دیئے (انتقال کے بعد کے ) اور یہ قرآن کا حکم ہے اسے قبول کرنا پڑتا ہے ( یعنی موت )انّ للہ و انّ الیہ راجعون
آپ نے اپنی رکھی ہوئی امانت واپس لے لی آپ نے اپنی زہرا کو مجھ سے واپس لے لیا یا رسول اللہ اب یہ سبز آسمان اور یہ زمین مجھے برے لگ رہے ہیں میرا غم ہمیشہ باقی رہے گا میری راتیں بیداری میں کٹیں گی اور یہ غم مجھے نہیں جائے گا جب تک خدا اس گھر کو میرے لئے پسند نہ کرے جس میں آپ رہ رہے کتنی جلدی ہم جدا ہوگئے اس بات کی شکایت میں اللہ سے کرتا ہوں بہت جلد آپکی بیٹی آپکو بتائے گی کہ امت نے میرا حق غصب کیا اور اس سلسلے میں ان لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد بھی کی. اگر ان کوگوں کا غلبہ نا ہوتا جو ہم غالب آگئے ہیں تو ہم آپکی قبر پر بیٹھا رہتا میں اس مصیبت پر صبر کرتا ہوں جیسے ایک پسر مردہ عورت فریاد کرتی ہے
ابھی آپ مرثیہ ہی کر رہے تھے کہ آپ کے چچا عباس نے آپکا ہاتھ پکڑ کر اٹھا لیا اور گھر لے گئے
📚 اسم الکتاب : تعريب منتهى الآمال في تواريخ النبي و الآل
المؤلف : الميلاني، السيد هاشم الجزء : 1 صفحة : 273/4
🔴 حضرت زہرا (ع) کی شھادت پر امیرالمومنین(ع) کا نوحہ
سیّدۃ النسا ء حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا :
یارسول اللہﷺ آپ کو میری جانب سے اور آپ کے پڑوس میں اترنے والی اور آپ سے جلد ملحق ہونے والی آپ کی بیٹی کی طرف سے سلام ہو ۔
یارسول اللہؐ آپ کی برگزیدہ(بیٹی کی رحلت)سے میرا صبر و شکیب جاتا رہا ۔میری ہمت و توانا ئی نے ساتھ چھو ڑ دیا ۔
لیکن آپ کی مفارقت کے حادثہ عظمیٰ اور آپ کی رحلت کے صدمہ جانکاہ پر صبر کرلینے کے بعد مجھے اس مصیبت پر بھی صبر و شکیبائی ہی سے کام لینا پڑے گا۔
جب کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کو قبر کی لحد میں اتارا اور اس عالم میں آپ کی روح نے پرواز کی کہ آپ کا سر میری گردن اورسینے کے درمیان رکھا تھا ۔
️ انا للہ و انا الیہ راجعون
اب یہ امانت پلٹا لی گئی۔ گروی رکھی ہو ئی چیزچھڑالی گئی۔
لیکن میرا غم بے پایاں اور میری راتیں بے خواب رہیں گی ۔
یہاں تک کہ خداوند عالم میرے لئے بھی اسی گھر کو منتخب کرے جس میں آپ رونق افروز ہیں ۔
وہ وقت آگیا کہ
آپ کی بیٹی آپ کو بتائیں کہ کس طرح آپ کی امت نے
ان پر ظلم ڈھانے کے لئے ایکا کرلیا ۔
آپ ان سے پورے طور پر پوچھیں اور تمام احوال و وار دات دریافت کریں ۔
یہ ساری مصیبتیں ان پر بیت گئیں ۔
حالانکہ آپ کو گزرے ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہو اتھا اور نہ آپ کے تذکروں سے زبانیں بند ہوئی تھیں ۔
آپ دونوں پر میرسلام رخصتی ہو، نہ ایسا سلام جو کسی ملول و دل تنگ کی طرف سے ہوتا ہے اب اگر میں (اس جگہ سے )پلٹ جاؤں تو اس لئے نہیں کہ آپ سے میرا دل بھر گیا ہے اور اگر ٹھہر ا رہوں تو اس لئے نہیں کہ میں اس وعدہ سے بد ظن ہوں جو اللہ نے صبر کرنے والوں سے کیا ہے۔
📚 نہج البلاغہ خطبہ (۲۰۰)
🔴 امام علیؑ *سیدہ_فاطمہ_زہراؑ* پر مرثیہ پڑھتے ہوئے بیان فرماتے ہیں:
📜 *يا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا حُزْنِي فَسَرْمَدٌ وَ أَمَّا لَيْلِي فَمُسَهَّدٌ، وَ هَمٌّ لَا يَبْرَحُ مِنْ قَلْبِي أَوْ يَخْتَارَ اللَّهُ لِي دَارَكَ الَّتِي أَنْتَ فِيهَا مُقِيمٌ، كَمَدٌ مُقَيِّحٌ وَ هَمٌّ مُهَيِّجٌ، سَرْعَانَ مَا فَرَّقَ بَيْنَنَا وَ إِلَى اللَّهِ أَشْكُو.*
📃 یا رسول اللہؐ ! میرا غم بھی دائمی ہے اور میری رات بھی نہیں کٹتی۔ ایسا غم ہے کہ دل سے نہیں جا رہا یا خدا میرے لیے اس جگہ کا انتخاب کر لے جس میں آپؐ تشریف فرما ہیں۔ ایسا غم ہے جو زخموں کو تازہ کر دیتا ہے، ایسا غم ہے جو جذبات کو ابھار دیتا ہے۔ کتنی جلدی ہمارے درمیان جدائی آ گئی، میں خدا سے اسکا شکویٰ کرتا ہوں۔
📚 : الكافي - الشيخ الكليني - ج ١ - الصفحة ٤٥٩.*
🔴 بی بی فاطمه زہرا سلام الله علیہا کو دفن کرنے کے بعد سرکار امیر المومنین علی علیه السلام نے فرمایا:
📜 آه آه لولا غلبة المستولين لجعلت هنا المقام، والتزمت لزاما معكوفاولأعولت إعوال الثكلى على الرزية، فبعين الله تدفن ابنتك سرا، وتهضم حقها، وتمنع إرثها، ولم يبعد بك العهد، ولا اخلولق منك الذكر، فإلى الله - يا رسول الله - المشتكى، وفيك أجمل العزاء، صلوات الله عليك وعليها معك، والسلام.
📃 آہ آہ! اگر حزب اختلاف کے غلبه کا ا ندیشه نه ہوتا تومیں اس(سیدہ فاطمه س)کی قبر پر ہی اپنا ٹھکانا بنا کر یہاں اس قدر غم مناتا اور آہ و زاری کرتا جیسے بوڑی ماں جوان بیٹے کی موت پر آہ و زاری کرتی ہے ۔الله گواہ ہے که آپؐ کی بیٹی رات کی تاریکی میں دفن ہوئی ہے جبکه انکا حق غصب اور انہیں انکی میراث سے دن کی روشنی میں محروم کیا گیا تھا اب انکے بعد آپؐ سے اور کوئی عہد نہیں اور نه کسی اور یاد کی اُمید ہے اے الله کے رسولؐ!اب الله کی بارگاہ میں ہی شکایت ہے اور آپؐ کو احسن انداز میں آپؐ کی بیٹی کی تعزیت پیش کرتا ہوں الله تعالیٰ آپؐ اور بی بی سیدہؑ پر درود وسلام نازل فرمائے۔
📚 دلائل الامامة - محمد بن جرير الطبري ( الشيعي) - الصفحة ١٣٨
📚 نهج السعادة - الشيخ المحمودي - ج ١ - الصفحة ٧٢
🔴 *سیدہ فاطمہ زھراء کے فراق پر امیر المومنین علی علیہما السلام کا مرثیہ*
نفسي على زفراتها محبوسة
يا ليتها خرجت مع الزفرات
لا خير بعدكِ في الحياة، وإنّما
أبكي مخافة أن تطول حياتي.
میری روح آہ وفریاد میں قید ہوچکی ہے۔ اے کاش! میری روح بھی آہ وفریاد کے ساتھ جسم سے نکل جاتی۔ اے فاطمہ! تیرے بعد میری زندگی میں کوئی خیر نہیں، میں رو رہا ہوں کہ ایسا نہ ہو تیرے بغیر میری زندگی طول پکڑے۔(پھر کیسے یہ زندگی گزاروں گا)۔
📚 دیوان امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام
📚 بحارالأنوار تالیف علامه مجلسی
بحارالانوار جلد ۴۳ صفحه ۲۱۳ چاپ دار احیاء التراث العربی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#talimaat_e_ahlbait
تعلیماتِ اہلبیتؑ