جناب فاطمہ ع پر امام حسن ع اور امام حسین ع کے بین
🔴 جناب فاطمہ ع پر امام حسن ع اور امام حسین ع کے بین 😭😭😭
وَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ إِذْ دَخَلَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ فَقَالا يَا أَسْمَاءُ مَا يُنِيمُ أُمَّنَا فِي هَذِهِ السَّاعَةِ قَالَتْ يَا ابْنَيْ رَسُولِ اللَّهِ لَيْسَتْ أُمُّكُمَا نَائِمَةً قَدْ فَارَقَتِ الدُّنْيَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا الْحَسَنُ يُقَبِّلُهَا مَرَّةً وَ يَقُولُ يَا أُمَّاهْ كَلِّمِينِي قَبْلَ أَنْ تُفَارِقَ رُوحِي بَدَنِي قَالَتْ وَ أَقْبَلَ الْحُسَيْنُ يُقَبِّلُ رِجْلَهَا وَ يَقُولُ يَا أُمَّاهْ أَنَا ابْنُكِ الْحُسَيْنُ كَلِّمِينِي قَبْلَ أَنْ يَتَصَدَّعَ قَلْبِي فَأَمُوتَ-
اسما بنت عمیس رض کہتی ہیں جب سیدہ ع کا انتقال ہوگیا اس اثنا میں امام حسن ع اور امام حسین ع گھر میں داخل ہوئے اور کہنے لگے اے اسما ہماری ماں اس وقت کیوں سوئی ہوئی ہے اسما نے عرض کیا سوئی ہوئی نہیں بلکہ وہ تو رحمت رب الارباب میں جا پہنچی ہیں-پس امام حسن ع نے آپ آپکو ماں کے اوپر گرا دیا اور انکے چہرہ انور کے بوسے دینے لگے اور کہتے ہیں:
يَا أُمَّاهْ كَلِّمِينِي قَبْلَ أَنْ تُفَارِقَ رُوحِي بَدَنِي-
اے میری مادر گرامی مجھ سے بات کریں-اس سے پہلے کہ میری روح بدن سے نکلے
اسما کہتی ہے پھر امام حسین ع ماں کے پاؤں پر گرے بوسے لیتے تھے اور کہتے تھے
يَا أُمَّاهْ أَنَا ابْنُكِ الْحُسَيْنُ كَلِّمِينِي قَبْلَ أَنْ يَتَصَدَّعَ قَلْبِي فَأَمُوتَ
اے مادر گرامی میں تیرا بیٹا حسین ع ہوں مجھ سے بات کریں ورنہ میرا دل پھٹ جائے گا میں مر جاؤں گا
(بحار الانوار ج43ص186حدیث18؛کشف الغمہ ج1ص500؛منتھی الاعمال ج1ص168؛عوالم العلوم ج11ص1058؛حق الیقین فی تراجم المعصومین ع کاشفا الغطا ص54؛موسوعہ کلمات سادتنا فاطمہ ع حدیث 483؛تاریخ امام حسین ع موسوی ج22ص191؛موسوعہ الکبری عن فاطمہ الزہرا ج16ص268+196؛موسوعہ کلمات امام حسین فی الکتاب والسنہ والتاریخ محمدی ریشہری ج2ص99؛فاطمہ بھجہ القلب مصطفی ص577)
۔
قد ماتت أمنا فاطمة !!
عن أسماء بنت عميس، قالت: لما حضرت فاطمة (عليها السلام) الوفاة نادت أسماء: يا بنت محمد المصطفى ! يا بنت أكرم من حملته النساء! يا بنت خير من وطأ الحصى! يا بنت من كان من ربه قاب قوسين أو أدنى! قال: فلم تجبها، فكشفت الثوب عن وجهها فإذا بها قد فارقت الدنيا، فوقعت عليها تقبلها وهي تقول: يا فاطمة إذا قدمت على أبيك رسول الله فاقرأيه عن أسماء بنت عميس السلام.فبينا هي كذلك دخل الحسن والحسين (عليهما السلام) فقالا: يا أسماء ما ينيم أمنا في هذه الساعة, قالت: يا بني رسول الله (ص) ليست أمكما نائمة قد فارقت الدنيا, فوقع عليها الحسن (عليه السلام) يقبلها مرة ويقول: يا أماه كلميني قبل أن تفارق روحي بدني, وأقبل الحسين (عليه السلام) يقبل رجلها ويقول: يا أماه أنا ابنك الحسين كلميني قبل أن ينصدع قلبي فأموت, قالت لهما أسماء: يا بني رسول الله انطلقا إلى أبيكما علي فأخبراه بموت أمكما, فخرجا حتى إذا كانا قرب المسجد رفعا أصواتهما بالبكاء فابتدرهم جميع الصحابة فقالوا: ما يبكيكما يا بني رسول الله؟ لا أبكى الله أعينكما, لعلكما نظرتما إلى موقف جدكما (صلى الله عليه وآله) فبكيتما شوقا إليه؟ فقالا: لا أوليس قد ماتت أمنا فاطمة, فوقع علي (عليه السلام) على وجهه يقول: بمن العزاء يا بنت محمد؟ كنت بك أتعزى ففيم العزاء من بعدك؟
📃 اسماء بنت عمیس سے روایت ہے کہ جب حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے آواز دی:
"اے محمد مصطفیٰ کی بیٹی! اے ان عورتوں کی بیٹی جو سب سے زیادہ معزز تھیں! اے اس ہستی کی بیٹی جس کے قدم زمین پر سب سے افضل تھے! اے اس ہستی کی بیٹی جو اپنے رب کے قریب قاب قوسین یا اس سے بھی نزدیک تھی!"
اسماء کہتی ہیں: مگر حضرت فاطمہ (س) نے جواب نہ دیا۔ میں نے ان کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو دیکھا کہ وہ دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں۔ میں ان کے اوپر گر پڑی اور ان کا بوسہ لینے لگی اور کہا:
"اے فاطمہ! جب تم اپنے والد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کرو تو میری طرف سے سلام عرض کرنا۔"
اسی دوران امام حسن اور امام حسین (علیہما السلام) اندر داخل ہوئے اور کہا:
"اے اسماء! ہماری ماں اس وقت کیوں سو رہی ہیں؟"
میں نے کہا:
"اے رسول اللہ کے بیٹو! تمہاری ماں سو نہیں رہی ہیں بلکہ دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں۔"
یہ سن کر امام حسن (علیہ السلام) ان پر جھک گئے، ان کا بوسہ لینے لگے اور کہا:
"اے میری ماں! مجھ سے بات کیجیے اس سے پہلے کہ میری روح میرے جسم سے جدا ہو جائے۔"
اور امام حسین (علیہ السلام) ان کے قدموں کو چومتے ہوئے کہنے لگے:
"اے میری ماں! میں آپ کا بیٹا حسین ہوں، مجھ سے بات کیجیے، اس سے پہلے کہ میرا دل پھٹ جائے اور میں مر جاؤں۔"
اسماء کہتی ہیں:
"میں نے ان سے کہا: اے رسول اللہ کے بیٹو! اپنے والد علی (علیہ السلام) کے پاس جاؤ اور انہیں اپنی ماں کی وفات کی خبر دو۔"
وہ دونوں مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور جیسے ہی مسجد کے قریب پہنچے، زور زور سے رونے لگے۔ صحابہ کرام (سلمان فارسی، مقداد، ابوذر، عمار یاسر، اور حذیفہ وغیرہ) نے ان کو گھیر لیا اور کہا:
"اے رسول اللہ کے بیٹو! تمہیں کس چیز نے رونے پر مجبور کیا؟ کیا تم نے اپنے نانا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جائے نماز کو دیکھا اور ان کی جدائی میں رو رہے ہو؟"
انہوں نے جواب دیا:
"نہیں، ہماری ماں فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کا انتقال ہو گیا ہے۔"
یہ سن کر امام علی (علیہ السلام) زمین پر گر گئے اور کہا:
"اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی! کس چیز سے میں تسلی پاؤں؟ میں تم سے دلجوئی کرتا تھا، اب تمہارے بعد کس سے دلجوئی کروں؟"
ماخذ: بحار الانوار، جلد 43
۔
#العتبة_الحسينية_المقدسة
#استشهاد_فاطمة_الزهراء
#آیام_فاطمیہؑ
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#talimaat_e_ahlbait #بدر_علی