Back to سیدہ فاطمہ بنت محمد ص

علیؑ: میں نے رسول اللہ (ص) کے ساتھ فاطمہ (ع) کو بھی کھو دیا...

اني فقدت رسول الله بفقد فاطمة ..

 

میں نے رسول اللہ (ص) کے ساتھ فاطمہ (ع) کو بھی کھو دیا... 💔

 

انه لما ماتت فاطمة (عليها السلام) احتجب أمير المؤمنين (عليه السلام) في منزله عن الناس وصار لا يخرج إلا للصلاة ولزيارة قبر رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) فاغتمت الشيعة لذلك غما شديدا وقالوا: كيف الرأي؟ وهذا أمير المؤمنين (عليه السلام) قد احتجب عنا، وكنا نستفيد من علمه وأخباره وأحاديثه وقد انقطع عنا، فعزم رأيهم على أن يرسلوا إليه عمار بن ياسر، فدعوه وقالوا: إمض إلى سيدنا ومولانا أمير المؤمنين (عليه السلام) وعرفه في حقنا، فلعلك تأتينا به.

 

جب جنابِ فاطمہ زہرا (ع) کا انتقال ہوا، تو امیر المؤمنین علی (ع) لوگوں سے کنارہ کش ہو گئے اور اپنے گھر میں رہنے لگے، صرف نماز یا رسول اللہ (ص) کی قبر کی زیارت کے لیے باہر نکلتے تھے۔ اس صورتحال سے شیعہ حضرات بہت پریشان ہوئے اور کہنے لگے: اب ہم کیا کریں؟ امیر المؤمنین (ع) نے ہم سے رابطہ ختم کر لیا ہے، اور ہم ان کے علم، خبروں اور احادیث سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ عمار بن یاسر کو بھیجیں تاکہ وہ امیر المؤمنین (ع) کو اس معاملے سے آگاہ کریں اور شاید وہ دوبارہ ان سے ملاقات کریں۔

 

قال عمار: فمضيت إلى دار سيدي ومولاي أمير المؤمنين (عليه السلام) فاستأذنت الدخول عليه؟ فأذن لي فدخلت عليه فوجدته جالسا جلسة الحزين الكئيب والحسن عن يمينه والحسين عن شماله وهو يلتفت إلى الحسين ويبكي، فلما نظرت إلى حاله وحال ولده، لم أملك على نفسي دون ان أخذتني العبرة وبكيت بكاء شديدا، فلما سكن نشيجي قلت سيدي تأذن لي بالكلام؟ 

 

عمار کہتے ہیں: میں امیر المؤمنین (ع) کے گھر گیا اور ان سے ملاقات کی اجازت مانگی، تو انہوں نے اجازت دے دی۔ جب میں اندر گیا تو دیکھا کہ وہ غم زدہ بیٹھے ہیں، حسن (ع) ان کے دائیں طرف اور حسین (ع) بائیں طرف بیٹھے ہیں۔ وہ حسین (ع) کی طرف دیکھتے اور رونے لگتے۔ جب میں نے ان کی اور ان کے بچوں کی حالت دیکھی، تو خود پر قابو نہ رکھ سکا اور زار زار رونے لگا۔ جب میرا رونا تھما تو میں نے عرض کیا: اے میرے آقا! کیا مجھے بات کرنے کی اجازت ہے؟

 

قال: تكلم يا أبا اليقظان، 

 

انہوں نے فرمایا: بات کرو، اے ابو الیقظان۔

 

قلت: سيدي انكم تأمرون بالصبر على المصيبة، فما هذا الحزن الطويل؟ وان شيعتك لا يقر لهم قرار باحتجابك عنهم.

وقد شق ذلك عليهم.

 

میں نے کہا: اے میرے آقا، آپ ہمیں مصیبت پر صبر کرنے کا حکم دیتے ہیں، پھر یہ طویل غم کیوں؟ آپ کی غیبت نے آپ کے شیعوں کو بے قرار کر دیا ہے، اور یہ ان کے لیے بڑا دشوار ہے۔

 

قال: فالتفت إلي وقال: يا عمار ان العزاء عن مثل من فقدته لعزيز، اني فقدت رسول الله بفقد فاطمة، انها كانت لي عزاء وسلوة، وكانت إذا نطقت ملأت سمعي بصوت رسول الله، وإذا مشت لم تخرم مشيته، واني ما حسسته تألم الفراق إلا بفراقها وان أعظم ما لقيت من مصيبتها، واني لما وضعتها على المغتسل وجدت ضلعا من أضلاعها مكسورا وجنبها قد إسود من ضرب السياط وكانت تخفي ذلك علي، مخافة ان يشتد حزني، وما نظرت عيناي إلى الحسن والحسين الا وخنقتني العبرة وما نظرت إلى زينب باكية الا وأخذتني الرقة عليها.

 

امیر المؤمنین (ع) نے فرمایا: اے عمار، ایسے شخص کے غم کو بھولنا بہت مشکل ہے جسے ہم نے کھو دیا ہے۔ میں نے رسول اللہ (ص) کو فاطمہ (ع) کے فقدان کے ساتھ کھو دیا۔ وہ میرے لیے سکون اور تسلی کا ذریعہ تھیں۔ جب وہ بات کرتیں تو مجھے رسول اللہ (ص) کی آواز سنائی دیتی، اور جب وہ چلتی تو ان کی چال بھی رسول اللہ (ص) جیسی ہوتی۔ مجھے رسول اللہ (ص) کی جدائی کا حقیقی درد صرف فاطمہ (ع) کی جدائی کے بعد محسوس ہوا۔

 

سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ جب میں نے انہیں غسل کے لیے رکھا تو ان کی پسلیوں کو ٹوٹا ہوا پایا، اور ان کے پہلو کو کوڑوں کے نشان سے سیاہ پایا۔ وہ یہ سب مجھ سے چھپاتی تھیں تاکہ میرا غم نہ بڑھ جائے۔ جب بھی میری نظریں حسن اور حسین پر پڑتی ہیں، میرا غم تازہ ہو جاتا ہے، اور جب زینب کو روتے ہوئے دیکھتا ہوں تو میرا دل نرم پڑ جاتا ہے۔

 

ثم خرج (عليه السلام) مع عمار فاستبشر الشيعة بذلك.

 

اس کے بعد، امیر المؤمنین (ع) عمار کے ساتھ باہر نکلے، اور شیعہ حضرات (امام کو دیکھ کر) خوش ہوئے۔

 

📚 الأنوار العلوية ص ٣٠٦

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #تعلیمات_اہلبیتؑ #بدر_علی #استشهاد_فاطمة_الزهراء #ایام_فاطمیہ #تعلیمات_اہلبیت