جب امیرالمؤمنین ع نے آخری وداع کے لئے اپنے بچوں کو بلایا
جب امیرالمؤمنین ع نے آخری وداع کے لئے اپنے بچوں کو بلایا تو حسن ؑو حسینؑ آگے بڑے اور رو رو کر کہا ۔
وا حسرتا لا تنطفئ أبدا من فقد جدنا محمد المصطفى وأمنا فاطمة الزهراء يا أم الحسن يا أم الحسين إذا لقيت جدنا محمد المصطفى فاقرئيه منا السلام وقولي له: إنا قد بقينا بعد يتيمين في دار الدنيا.
یعنی ہائے ہمارے نا نا محمدؐ مصطفٰی اور ہماری ماں فاطمه زہرا ء س کی جدائی ایک ایسی حسرت ہے جس کے شعلے نہیں بجھیں گے۔
پھر بچوں نے ماں کو مخاطب کرکے کہا : امی جان ! جب ہمارے نانا سے آپ کی ملاقات ہو تو ان سے کہنا کہ ہم دنیا میں یتیم ہوچکے ہیں۔
امیرالمومنین ؑ فرماتے ہیں۔
فقال أمير المؤمنين علي (عليه السلام): إني أشهد الله أنها قد حنت وأنت ومدت يديها وضمتهما إلى صدرها مليا
یعنی میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اس وقت بنت پیغمبر ؐ کے کفن سے آہ ونالہ کی آواز آئی اور زہرا ؑ نے دونوں ہاتھ کفن سے باہر نکالے اور حسنؑ و حسین ؑ کو سینے سے لگایا ۔ اس وقت ہاتف نے آسمان سے یہ صدادی:
يا أبا الحسن ارفعهما عنها فلقد أبكيا والله ملائكة السماوات فقد اشتاق الحبيب إلى المحبوب، قال:
فرفعتهما عن صدرها وجعلت أعقد الرداء وأنا أنشد بهذه الأبيات:
یعنی اے علی ؑ ! ان دونوں بچوں کو ماں کی میت سے جدا کرو ۔ انہوں نے آسمان کے فرشتوں کو رولادیا ہے جبکہ حبیب اپنی حبیبہ کا مشتاق ہے۔ مولا علی ؑ یہ آواز سن کر آگے بڑھے ، ماں کے سینے سے لپٹے ہوئے بچوں کو تسلی دی اور انہیں ماں سے جدا کیا۔۔۔
بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج ٤٣ - الصفحة ١٧٩
🖋 ام اشتر