🔴 *تاریخ شہادت:*
حضرت زہرا (س) کی تاریخ شہادت کے بارے میں کئی نظرئیے پائے جاتے ہیں:
کچھ سنی اور شیعہ علماء کا نظریہ ہے کہ آپ کی شہادت 11 ہجری 13 جمادی الاول کو ہوئی جن کو ہمارے علماء میں سے مرحوم کلینی صاحب الامامۃ و السیاسة جناب طبری شیعی صاحب کشف الغمہ وغیرہ نے ذکر کیا ہے:
بحارالانوار ج43 ص 193
اس نظرئیے کی بناء پر حضرت زہرا نے پیغمبر اکرم کے بعد صرف 75دن زندگی گذاری کیونکہ پیغمبر اکرم کی وفات 28 صفر 11 ہجری کو ہوئی تھی ۔
علامہ مجلسی بحارجلد ج43 ص170 . منتخب التواریخ منتہی الآمال .
صاحب منتخب التواریخ ،صاحب منتہی الآمال وغیرہ نے لکھا ہے کہ جناب سیدہ کونین کی شہادت 3 جمادی الثانی 11 ہجری کو ہوئی جس کی بناء پر حضرت زہرا نے پیغمبر گرامی کی وفات کے بعد 95 دن زندگی گذاری۔
کافی ج1 ص458
الامامة و السیاسة ج1 ص20
دلائل الامامة کشف الغمہ.
*اس اختلاف کی دو وجہ ہو سکتی ہیں:*
1۔ قدیم زمانے میں اکثر اسلامی مطالب اور تواریخ خط کوفی میں لکھا جاتا تھا خط کوفی کی خصوصیت یہ تھی کہ نقطے کے بغیر لکھا جاتا تھا لہٰذا پڑھنے اور لکھنے میں لوگ اشتباہ کا شکار ہو جاتے تھے جیسے 75دن خمسہ و سبعون اور 95 دن خمسہ و تسعون کی شکل میں لکھا کرتے تھے لہٰذا نقطہ گزاری کے بعد اشتباہ ہوا ہے کیا خمسہ و سبعون تھا تا کہ 75 دن والا قول صحیح ہو جائے یا خمسہ و تسعون صحیح ہے تا کہ 95 والا قول صحیح ہو جائے۔
2۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آئمہ معصومین (ع) سے دو قسم کی روایات منقول ہوئی ہیں، پہلی قسم کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زہرا نے پیغمبر اکرم کے بعد 75 دن زندگی گزاری ہے دوسری قسم کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر کی وفات کے 95دن بعد آپ نے جام شہادت نوش فرمایا اگرچہ تاریخ شہادت حضرت زہرا کے بارے میں اور بھی نظریات ہیں لیکن معروف اور مشہور یہی مذکو رہ دو نظرئیے ہیں لہٰذا باقی اقوال اور نظریات ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
منقول
🔴 بی بی زہرا (س) کی شہادتوں کی 2 تاریخوں کی وجہ
قدیم زمانے میں اکثر اسلامی مطالب اور تواریخ خط کوفی میں لکھا جاتا تھا خط کوفی کی خصوصیت یہ تھی کہ نقطے کے بغیر لکھا جاتا تھا لہٰذا پڑھنے اور لکھنے میں لوگ اشتباہ کا شکار ہو جاتے تھے جیسے
75دن خَمسَہ و سَبعُون اور
95 دن خَمسَہ و تِسعُون
کی شکل میں لکھا کرتے تھے لہٰذا نقطہ گزاری کے بعد اشتباہ ہوا ہے کیا خمسہ و سبعون تھا
یا خمسہ و تسعون تھا
لہذا جس نے خمسہ سبعون پڑھا اس کے مطابق 75 دنوں بعد 13 ربیع الثانی شہادت ثابت ہوئی
اور جس نے خمسہ تسعون پڑھا اس کے مطابق 95 دنوں بعد 3جمادی الثانی شہادت ثابت ہوئی
🔴 شھادت حضرت زھراء علیھاالسلام کی معتبر روایات
مورخین میں سیدہ(علیھاالسلام)کی تاریخ شھادت کےسلسلےمیں اختلاف ھے
بعض علماء کےنذدیک رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی شھادت کےچالیس روز و بعض کےنذدیک چھ ماہ بعد آپ کی شھادت ھوئی(1)
ابوالفرج اصفھانی.رح لکھتےھیں کہ بی بی کی شھادت کی تواریخ میں سےجوذکر ہوئی ہیں ان میں کم سےکم تاریخ چالیس دن ھےو زیادہ سےزیادہ تین ماہ ھے
امام باقرعلیہ السلام سےروایت شدہ روایت میں تین ماہ کاذکرھے جو اہل تشیع کےنذدیک موردقبول ھے(2)
شیخ طبرسی.رح کےنذذیک سیدہ زھراء.ع کی شھادت رسول پاک.ص کے95 روز بعد ھوئی(3)
مرحوم طبری.رح(شیعہ) نے بھی سیدہ زھراء.ع کی شھادت کو 95 روز بعد از شہادت رسول اکرم.ص نقل کیاھے(4)
ان دو روایتوں کو اکثر علماء شیعہ من جملہ سید ابن طاووس.رح نےقبول کیاھے وہ ان ایام میں شھادت مناتےھیں(5)
دوسری طرف 75 روز کی روایات بھی موجودھیں جن میں سےمرحوم کلینی.ع کی الکافی قابل ذکر ھے جس میں روایت ھے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتےھیں کہ سیدہ زھراء پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کےبعد 75 روز زندہ رہیں(6)
75 روز کی روایات کو بھی اکثر علماء قبول کرتےھیں دونوں روایات صحیح ہیں اس لیے دونوں تاریخوں کو مجالس برپا کی جاتیں ھیں وہ پیغمبر اکرم۔ص کی دختر سیدہ زھراء.ع کی شھادت کا غم منایاجاتاھے
البتہ اس اختلاف کےبارےمیں یہ بھی کہاجاتاھے کہ اوائل میں کتابوں پر کلمات کو لکھتےھوئے نقطے نہیں ڈالےجاتےتھے اس لیے خمسہ و سبعون(75) اور خمسہ و تسعون(95) میں شبہ پیدا ہواھے
حیرت کی بات یہ بھی ھے کہ اہلسنت برادران رسول پاک۔ص کی بیٹی کا غم نہیں مناتے سوال پیداہوتاھے کیوں؟
کیا سیدہ پیغمبر.ص اہلسنت کی بیٹی نہیں تھیں؟
اگر رسول پاک.ص کی چار بیٹیاں بھی ہوں تو جتنی فضیلت روایات میں حضرت زھراء.ع کی بیان ھوئی ھے کسی بیٹی کی اتنی فضیلت ذکرنہیں ھوئی اور کسی کی عداوت میں اپنوں کو نہیں چھوڑا جاتا
اہلبیت سےمحبت کا دعوی کرنےوالے ھر شخص کو چاھیے کہ اہلبیت کی خوشی کےموقع پر خوشی منائےاور غم کےموقع پر غمگین ھو تب محبت کا حق ادا ہوتاھے
1.بحارالانوار ج 43 ص 189
2.مقاتل الطالبین ص 59
3.اعلام الوری ج 1 ص 300
4.دلائل الامامہ ص 79
5.اقبال الاعمال ج3 ص 160
6.اصول الکافی ج 1 ص 458
التماس دعا رضوان احمد علوی الھاشمی(بشکریہ اسلام کویسٹ)