حضرت صدیقہ کبری فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شفاعتِ عظمیٰ روزِ قیامت
🏴 حضرت صدیقہ کبری فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شفاعتِ عظمیٰ روزِ قیامت 🏴
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا (روزِ محشر) عرض کریں گی:
"پروردگارا! میں چاہتی ہوں کہ آج کے دن میرا مقام و مرتبہ سب پر ظاہر ہو۔"
اللہ تعالیٰ فرمائے گا:
"اے میرے محبوب کی بیٹی! لوٹ جاؤ اور دیکھو، جو کوئی تم سے یا تمہاری اولاد میں سے کسی سے محبت رکھتا ہو، اسے جنت میں داخل کر دو۔"
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
اے جابر! خدا کی قسم، فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اس دن اپنے شیعوں اور محبوں کو ایسے چنیں گی جیسے پرندہ اچھے دانے کو خراب دانوں میں سے چنتا ہے۔
پھر جب حضرت فاطمہ (س) اپنے شیعوں کے ساتھ جنت کے دروازے تک پہنچیں گی، تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں خیال ڈالے گا کہ پیچھے مڑ کر دیکھیں۔
جب وہ پلٹ کر دیکھیں گے تو اللہ عزوجل فرمائے گا:
"اے میرے دوستو! تم کیوں پلٹے ہو، جبکہ میں نے فاطمہ بنتِ حبیب کی شفاعت تمہارے حق میں قبول کر لی ہے؟"
وہ عرض کریں گے:
"پروردگارا! ہم چاہتے ہیں کہ آج کے دن ہمارا بھی مرتبہ سب پر ظاہر ہو۔"
اللہ تعالیٰ فرمائے گا:
"اے میرے دوستو! جاؤ، اور دیکھو:
جو تم سے محبت کرتا تھا فاطمہ (س) کی محبت میں،
جو تمہیں فاطمہ (س) کی محبت میں کھانا کھلاتا تھا،
جو تمہیں کپڑا پہناتا تھا،
جو تمہیں فاطمہ (س) کی محبت میں ایک گھونٹ پانی پلاتا تھا،
جو تمہارے بارے میں غیبت سے دفاع کرتا تھا
ان سب کے ہاتھ پکڑو اور انہیں جنت میں لے آؤ۔"
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
خدا کی قسم! اس وقت لوگوں میں کوئی باقی نہیں رہے گا سوائے شکی، کا/فر یا منا/فق کے۔
جب وہ لوگ دیکھیں گے کہ فاطمہ (س) کی شفاعت سے اہلِ ایمان جنت میں جا رہے ہیں، تو پکاریں گے:
"ہائے افسوس! ہمارے لیے کوئی شفاعت کرنے والا نہیں، نہ کوئی مہربان دوست! کاش ہمیں ایک بار لوٹا دیا جاتا تاکہ ہم ایمان والوں میں سے ہو جاتے!"
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
ہیھات! ہیھات! (دور ہے) وہ جو مانگتے ہیں اسے نہیں پائیں گے۔
اور اگر انہیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو پھر وہی کام کریں گے جن سے روکے گئے تھے، بےشک وہ جھوٹے ہیں۔
📚 بحارالأنوار، ج 43، ص 64
#بدر_علی
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد