Back to سیدہ فاطمہ بنت محمد ص

حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا

حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا
حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ص کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا

🔴 حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ سچی اور (بعض روایات میں: برتر) کسی کو نہیں دیکھا۔

 

▪حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا ایک مشہور لقب "صدیقہ" ہے، اور اس لقب کی حقیقی حقدار صرف آپؑ ہیں۔

 

روایت میں آتا ہے:

📜 عائشہ نے کہا: "میں نے کبھی بھی کسی کو فاطمہ سے زیادہ سچا نہیں پایا، سوائے ان کے والد (رسول اللہ ﷺ) کے۔ اور ایک موقع پر ان کے درمیان کچھ اختلاف ہوا تو عائشہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ان سے دریافت کیجیے، وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتیں۔"

 

📚 مسند ابی یعلی، ج4، ص363، ح4681

📚 المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص175، ح4756 (حاکم: صحیح، ذہبی: صحیح)

📚 مرقاة المفاتیح، ج11، ص292 (متفق علیہ)

📚 مجمع الزوائد، ج9، ص201 (ہیثمی: صحیح)

📚 المطالب العالیة، ج16، ص177، ح3957 (صحیح)

📚 سِمط النجوم العوالی، ج1، ص526 (صحیح)

📚 اتحاف السائل بما لفاطمة من المناقب و الفضائل، ص28 (صحیح)

📚 سبل الهدی و الرشاد، ج11، ص47 (صحیح)

📚 المعجم الاوسط،ج3،ص137 ط دار الحرمین

📚 حلیة الاولیاء،ج2،ث41 ط دار الکتاب العربی

📚 اتحاف الخیرة المهرة،ج7،ص235،ح6745 ط دار الوطن

📚 اتحاف المهرة لابن حجر،ج16،ص1137،ح21771 ط مجمع الملک فهد

📚 اسمی المطالب فی سیرة امیر المومنین علی بن ابی طالب،ج1،ث113 ط مکتبة الصحابة

📚 الاستیعاب فی معرفة الاصحاب،ج4،ص1896 ط دار الجیل

📚 سیر اعلام النبلاء،ج2،ص131 ط موسسة الرسالة

 

http://dorar.net/h/751fd9f1223885d96d0bd745445736c8

 

عائشہ کے اس قول سے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی عظیم شان اور صداقت واضح ہوتی ہے۔

 

⭕ اس روایت کی سند صحیح ہے، اور جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، کم از کم اہل سنت و محققینِ وھابیت کے آٹھ علماء نے اسے صحیح قرار دیا ہے، جیسے:

 

حاکم نیشابوری

ذہبی

نور الدین ہیثمی

مناوی

صالحی شامی

عبد الملک شافعی عاصمی

ملا علی قاری

اور "المطالب العالیہ" کے وهابی محقق

 

ان سب کی تصحیح کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لقب "صدیقہ" صرف حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے لائق ہے، اور خود عائشہ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔

 

⭕ وهابیوں کی شبہہ اور اس کا جواب:

 

کچھ وهابی محققین (حسین سلیم اسد، محقق مسند ابی یعلی، اور سید کسروی حسن ، محقق المقصد العلی فی زوائد ابی یعلی) نے کہا:

 

❌ "اسنادہ ضعیف"

 

"عمرو بن دینار نے عائشہ سے سماع نہیں کیا" لہٰذا یہ روایت منقطع (ٹوٹا ہوا سلسلہ) ہے۔

 

📚 مسند ابی یعلی، ج8، ص153، ح4700، ط دار المامون للتراث

📚 المقصد العلی فی زوائد ابی یعلی، ج3، ص203، ح1372، ط دار الکتب العلمیة

 

✅ جواب:

 

یہ دعویٰ درست نہیں، کیونکہ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ عمرو بن دینار نے عائشہ کو درک کیا تھا۔

 

▪حضرت عائشہؓ کی وفات 57ھ میں ہوئی۔

▪عمرو بن دینار کی ولادت 46ھ میں ہوئی۔

 

یعنی عمرو بن دینار نے کم از کم 11 سال عائشہؓ کو پایا، لہٰذا "سماع" کا امکان موجود ہے اور روایت کا انقطاع ثابت نہیں ہوتا۔

 

ملاحظہ کریں 

 

حضرت عائشہ کے حالات 

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=4049

 

عمرو بن دینار کے حالات

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=6123

 

📌 نتیجہ:

اگرچہ بعض محققین نے سماع کے مسئلہ پر اسے ضعیف کہا ہے، لیکن دیگر معتبر ائمہ نے روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور تاریخی شواہد بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ عمرو بن دینار عائشہ کو درک کر چکے تھے۔

 

اسی لیے یہ روایت فضائلِ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے صحیح اور مستند دلائل میں شمار ہوتی ہے۔

 

⭕ اب یہاں دو اہم جہات ہیں جو وہابیوں کے شبہ کو رد کرتی ہیں:

 

1️⃣ صغرِ سنی کا اعتراض بے بنیاد ہے

 

اگر محققین کا اعتراض یہ ہو کہ عمرو بن دینار اس وقت کم عمر تھے، تو یہ بھی حجت نہیں۔

 

علمائے اہل سنت کی اصولِ حدیث میں یہ قاعدہ بیان ہوا ہے کہ:

 

📜 "تحمل الحدیث من الصغیر إذا کان ممیزاً صحیح، وصغر السن بمجرده قدح معتبر نہیں"

 

📚 تحریر علوم الحدیث، ج1، ص367

 

یعنی اگر بچہ ممیز ہے (یعنی بات سمجھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے)، تو حدیث سننا اور آگے روایت کرنا درست ہے، اور صرف کم عمری کی وجہ سے اس پر جرح کرنا معتبر نہیں۔

 

▪مثال: "مسور بن مخرمہ" نے بعض روایات کو اتنی کم عمری میں روایت کیا کہ اگر حساب لگایا جائے تو اسے "شکم مادر" سے روایت کرنی پڑے! پھر بھی اہل سنت نے ان کی روایت کو صحیح تسلیم کیا۔

تو پھر عمرو بن دینار کا گیارہ سال کی عمر میں عائشہ کو پانا اور روایت کرنا بالکل ممکن و قابل قبول ہے۔

 

2️⃣ سند کی دوسری توثیق (حاکم نیشابوری و ذہبی)

 

یہ روایت صرف مسند ابی یعلی تک محدود نہیں، بلکہ حاکم نیشابوری نے بھی اسے اپنی مستدرک میں صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ذہبی نے بھی اس کی صحت کی تصریح کی ہے۔

 

لہٰذا اصل قول کی نسبت عائشہ سے قطعی طور پر ثابت ہے۔

 

3️⃣ تدلیس ابن اسحاق کا شبہ بھی مردود ہے

 

سندِ حاکم میں "محمد بن اسحاق" ہے جو معنعن (عن) کے ساتھ روایت کرتا ہے۔

اہل سنت کے اصول کے مطابق:

 

ابن اسحاق "صدوق" اور "مقبول" راوی ہیں۔

 

ان کی تدلیس سے روایت کو ضعف نہیں پہنچتا، کیونکہ ان کی عنعنے والی روایات صحیح مسلم میں بھی موجود ہیں 

 

📚 ج2، ص859، ح1199، ط دار احیاء التراث العربی

 

مزید یہ کہ ہمارے پاس دیگر مستقل اسناد بھی ہیں (مثلاً مسند ابی یعلی) جن کی صحت متعدد ائمہ نے تسلیم کی ہے۔

 

📌 خلاصہ

 

▪صغر سنی کا اعتراض مردود ہے کیونکہ گیارہ سال حدیث کے تحمل کے لیے کافی عمر ہے۔

▪سندِ حاکم و ذہبی کی تصحیح، روایت کے صحیح ہونے کو یقینی بناتی ہے۔

▪تدلیسِ ابن اسحاق کا اعتراض بھی بے اثر ہے، کیونکہ یہ روایت صحیح مسلم جیسے معتبر مصادر میں بھی انہی اسلوب سے آئی ہے۔

 

لہٰذا یہ روایت قطعی طور پر صحیح ہے، اور اس سے یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ:

 

✅ لقب "صدیقہ" صرف حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لائق ہے، اور خود عائشہ نے اس پر تصریح کی ہے۔

 

#بدر_علی 

#التماس_دعا 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#تبدیلی_ممنوع 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

invisibleislam.com

 

👈🏻 حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی برتری پر عائشہ کا اعتراف

 

📜 15193 - وعن عائشة قالت: «ما رأيت أفضل من فاطمة غير أبيها. قالت: وكان بينهما شيء؟ فقالت: يا رسول الله، سلها فإنها لا تكذب». رواه الطبراني في الأوسط، وأبو يعلى، إلا أنها قالت: ما رأيت أحدا قط أصدق من فاطمة. 👈 ورجالهما رجال الصحيح.

 

📃 حدیث نمبر 15193 – عائشہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:

"میں نے فاطمہ کے سوا، ان کے والد (یعنی رسول اللہ ﷺ) کے علاوہ، کسی کو افضل نہیں دیکھا۔"

(راوی کہتے ہیں) کہا گیا: کیا ان دونوں (فاطمہ اور عائشہ) کے درمیان کوئی معاملہ ہوا تھا؟

تو عائشہ نے کہا:

"اے رسول خدا! آپ فاطمہ سے خود پوچھ لیجیے، کیونکہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتیں۔"

 

یہ حدیث طبرانی (المعجم الأوسط) اور ابو یعلیٰ نے روایت کی ہے۔

ابو یعلیٰ کی روایت میں الفاظ ہیں:

 

📜 "میں نے فاطمہ سے زیادہ سچا کوئی انسان نہیں دیکھا۔"

 

👈 ان دونوں روایتوں کے تمام راوی صحیح حدیث کے راویوں کے برابر معتبر ہیں۔

 

📚 مجمع الزوائد و منبع الفوائد، جلد 9، صفحہ 201، حدیث 15193.

 

بدر علی

 

#بدر_علی #تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32
Gallery Image 33
Gallery Image 34
Gallery Image 35
Gallery Image 36
Gallery Image 37