Back to سیدہ فاطمہ بنت محمد ص

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے نکاح کی ایک روحانی، آسمانی اور معنوی کیفیت

کتاب "مسند حضرت فاطمہ زہرا علیها السلام" اور "دلائل الامامة" سے ایک روایت ، جس میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے نکاح کی ایک روحانی، آسمانی اور معنوی کیفیت کو بہت ہی مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

 

🌸 امام شافعی کی سند سے ایک روایت بیان ہوئی ہے:

 

عبدالرحمن بن عوف اور عثمان بن عفان رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس آئے اور عرض کیا:

 

"اے رسول خدا، کیا آپ اپنی بیٹی فاطمہؑ کا نکاح میرے ساتھ کریں گے؟ میں سو سیاہ چشم اونٹ، عمدہ مصری کتان، اور دس ہزار دینار مہر میں دوں گا۔"

 

عثمان نے بھی اسی طرح کی پیشکش کی اور کہا کہ میں عبدالرحمن سے پہلے مسلمان ہوا تھا۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ان کی اس دنیاوی سوچ پر ناراض ہوئے، کنکریاں اٹھا کر عبدالرحمن کی طرف پھینکیں اور فرمایا:

 

"کیا تم اپنے مال کا مجھ پر احسان جتاتے ہو اور مجھے نظر لگاتے ہو؟"

 

کنکریاں موتیوں میں تبدیل ہو گئیں، اور ایک موتی کی قیمت عبدالرحمن کے کل مال سے زیادہ تھی۔

 

اسی وقت جبرائیل نازل ہوئے اور عرض کیا:

 

"اے احمد! خدا فرماتا ہے: علیؑ کی طرف جاؤ، وہ کعبہ کی مانند ہے، لوگ اس کی طرف آتے ہیں، وہ کسی کے پاس نہیں جاتا۔"

 

اللہ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ:

جنت کو آراستہ کرو،

درختِ طوبیٰ اور سدرۃ المنتہیٰ کو زیور پہناؤ،

حورالعین کو زیب و زینت کے ساتھ کھڑا کرو،

اور فصاحت و بلاغت والے فرشتے "راحیل" کو منبر پر خطبہ دینے بھیجو۔

 

راحیل نے نکاح پڑھا، علیؑ اور فاطمہؑ کا عقد کیا، اور گواہ میکائیلؑ اور خود جبرائیلؑ تھے، جبکہ ولی خدا تھا۔

 

💍 نکاح کے بعد خداوند نے درخت طوبیٰ کو حکم دیا کہ اپنے زیورات حورالعین کو دے دے تاکہ وہ قیامت تک فخر کریں۔

 

💫 اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے حضرت علی علیہ السلام کو بلایا۔ آپؑ نے فرمایا:

 

"میرے پاس صرف تلوار، گھوڑا اور زرہ ہے۔"

 

رسول اللہ نے فرمایا:

 

"زرہ بیچ دو۔"

 

حضرت علیؑ نے زرہ فروخت کی، دحیہ کلبی نے چار سو درہم و دینار میں خریدی، لیکن بعد میں محبت سے وہی زرہ واپس حضرت علی کو تحفہ میں دے دی۔

 

جب حضرت علیؑ زرہ اور رقم لے کر رسول خدا کے پاس آئے، تو رسول اللہ مسکرا دیے اور فرمایا:

 

"یہ دحیہ کلبی نہ تھا، بلکہ جبرائیلؑ تھا۔ اور یہ رقم خدا کی طرف سے تھی تاکہ میری بیٹی فاطمہؑ کو شرافت و فخر حاصل ہو۔"

 

💐 تین دن بعد حضرت علیؑ کا رخصتی ہوئی۔ مسجد میں جب سب جمع تھے تو جبرائیلؑ ایک آسمانی ترنج لے کر آئے، جسے رسول اللہ نے حضرت علیؑ کو دیا۔ جب علیؑ نے اسے ہاتھ میں لیا تو دو حصوں میں تقسیم ہو گیا:

 

1. "لا إله إلا الله، محمد رسول الله، علی أمیرالمؤمنین"

2. "طالب غالب کی طرف سے علی بن ابی طالب کے لیے تحفہ"

 

📚 دلائل الامامة، عربی، صفحہ 15،16

 

#بدر_علی #تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد