Back to سیدہ فاطمہ بنت محمد ص

اللہ تعالیٰ کی طرف سے شادی میں تحفہ

اللہ تعالیٰ کی طرف سے شادی میں تحفہ
اللہ تعالیٰ کی طرف سے شادی میں تحفہ
اللہ تعالیٰ کی طرف سے شادی میں تحفہ

🌹 اللہ تعالیٰ کی طرف سے شادی میں تحفہ 🌹

 

حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا اور مولا علی علیہ السلام کے عقد کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے انہیں کیا تحفہ عطا فرمایا؟ 👇🏼

 

📜 18453 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، وعَبْدُ الرَّحْمَنِ بن الْحُسَيْنِ الصَّابُونِيُّ التُّسْتَرِيُّ، قَالا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بن مُوسَى السُّدِّيُّ، ثنا بِشْرُ بن الْوَلِيدِ لْهَاشِمِيُّ، ثنا عَبْدُ النُّورِ بن عَبْدِ اللَّهِ الْمِسْمَعِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ بن الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بن مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي مَسْرُوقٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ الشَّهَادَةَ لِلْحَدِيثِ فَلَمْ أُرْزَقْهَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ يَقُولُ وَنَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ:إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ فَفَعَلْتُ، قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ: إِنَّ اللَّهَ بنى جَنَّةً مِنْ لُؤْلُؤَةِ قَصَبٍ بَيْنَ كُلِّ قَصَبَةٍ إِلَى قَصَبَةٍ لُؤْلُؤَةٌ مِنْ يَاقُوتٍ مُشَذَّرَةٍ بِالذَّهَبِ، وَجَعَلَ سُقُوفَهَا زَبَرْجَدًا أَخْضَرَ، وَجَعَلَ فِيهَا طَاقَاتٍ مِنْ لُؤْلُؤٍ مُكَلَّلَةً بِالْيَاقُوتِ، ثُمَّ جَعَلَ عَلَيْهَا غُرَفًا لَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ دُرٍّ وَلَبِنَةٌ مِنْ يَاقُوتٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ زَبَرْجَدٍ، ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا عُيُونًا تَنْبُعُ فِي نَوَاحِيهَا، وَحُفَّتْ بِالأَنْهَارِ، وَجَعَلَ عَلَى الأَنْهَارِ قِبَابًا مِنْ دُرٍّ قَدْ شُعِبَّتْ بِسَلاسِلِ الذَّهَبِ، وَحُفَّتْ بِأَنْوَاعِ الشَّجَرِ وَبَنَى فِي كُلِّ غُصْنٍ قُبَّةً، وَجَعَلَ فِي كُلِّ قُبَّةٍ أَرِيكَةً مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ، غِشَاؤُهَا السُّنْدُسُ وَالإِسْتَبْرَقُ، وَفُرِشَ أَرْضُهَا بِالزَّعْفَرَانِ، وفُتِقَ بِالْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ، وَجَعَلَ فِي كُلِّ قُبَّةٍ حَوْرَاءَ، وَالْقُبَّةُ لَهَا مِائَةُ بَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ حَارِسَانِ وَشَجَرَتَانِ فِي كُلِّ قُبَّةٍ مَفْرَشٌ وَكِتَابٌ مَكْتُوبٌ حَوْلَ الْقِبَابِ آيَةُ الْكُرْسِيِّ، قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، لِمَنْ بنى اللَّهُ هَذِهِ الْجَنَّةَ؟، قَالَ: بناهَا لِفَاطِمَةَ ابْنَتِكَ وَعَلِيِّ بن أَبِي طَالِبٍ سِوَى جِنَانِهَا تُحْفَةٌ أَتْحَفَهَا وَأَقَرَّ عَيْنَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ

 

۔

 

📃 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:

"میں تمہیں ایک ایسا حدیث سناؤں گا جو میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، اور میں ہمیشہ اس حدیث کے لئے گواہی کا طلبگار رہا، لیکن مجھے یہ سعادت نصیب نہ ہوئی۔

 

میں نے رسول اللہ ﷺ سے غزوۂ تبوک کے موقع پر سنا، جب ہم آپ ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا:

 

’بے شک اللہ نے مجھے حکم دیا کہ فاطمہ کو علی سے نکاح میں دے دوں، اور میں نے یہ نکاح کر دیا۔‘

 

جبرائیل علیہ السلام نے کہا:

بے شک اللہ نے ایک جنت بنائی ہے جو مروارید کے دانوں سے بنی ہوئی ہے، اور ہر دانے کے درمیان یاقوت کا موتی ہے جو سونے سے مرصع ہے۔

اس جنت کی چھتیں زمرد (سبز پتھر) سے بنائی گئی ہیں، اور اس میں موتیوں کی کھڑکیاں ہیں جنہیں یاقوت سے مزین کیا گیا ہے۔

 

پھر اللہ نے اس جنت میں بالاخانے بنائے جن کی اینٹیں اس ترتیب سے ہیں: ایک چاندی کی، ایک سونے کی، ایک موتی کی، ایک یاقوت کی، اور ایک زمرد کی۔

اس میں چشمے جاری کیے جو اس کے اطراف میں بہتے ہیں، اور نہروں کے کناروں پر گنبد بنائے جو بڑے بڑے موتیوں کے ہیں اور زنجیروں سے جڑے ہوئے ہیں۔

 

ان نہروں کے گرد مختلف قسم کے درخت ہیں، اور ہر شاخ پر ایک گنبد بنایا گیا ہے۔ ہر گنبد میں ایک سفید موتی کا تخت ہے، جس پر ریشمی اور زر بفت پردے ہیں۔

زمین کو زعفران سے فرش کیا گیا ہے، اور اسے مشک و عنبر سے معطر کیا گیا ہے۔

ہر گنبد میں ایک حور رکھی گئی ہے، اور ہر گنبد کے سو دروازے ہیں، ہر دروازے پر دو دربان اور دو درخت ہیں۔

ہر گنبد میں بچھونا ہے، اور تمام گنبدوں کے اردگرد آیت الکرسی لکھی گئی ہے۔

 

میں نے پوچھا: ’اے جبرائیل! یہ جنت اللہ نے کس کے لیے بنائی ہے؟‘

جبرائیل نے کہا:

’یہ جنت فاطمہ، تمہاری بیٹی، اور علی بن ابی طالب کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ ان کی دیگر جنتوں سے ہٹ کر ایک خاص تحفہ ہے جو اللہ نے انہیں عطا کیا تاکہ اے رسولِ خدا! تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔‘"

 

📚 المعجم الكبير المؤلف : الطبراني- ج ۲۲- ص ۴۰۷

 

یہ روایت صحیح سند کے ساتھ وارد ہوئی ہے، 

اور یہ روایت دو طرق (یعنی دو مختلف سندوں) سے منقول ہے، اور شروع ہی میں کہا گیا ہے کہ یہ روایت "علیک الرازی" اور "عبدالرحمن بن حسین صابونی" سے روایت کی گئی ہے، اس لیے یہ روایت مستفیض شمار ہوتی ہے۔

 

راویوں کی تفصیل اور وثاقت:

 

1⃣ عليك الرازي: ثقة

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=24337

 

2⃣ عبد الرحمن بن الحسين الصابوني: ثقة

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=41199

 

3⃣ إسماعيل بن موسى: صدوق يتشيع

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=1061

 

4⃣ بشر بن الوليد الكندي: ثقة

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=12759

 

5⃣عبد الملك بن الصباح الصنعاني: صدوق حسن الحديث

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=5203

 

6⃣ شعبة بن الحجاج العتكي: ثقة حافظ متقن عابد

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=3795

 

7⃣ عمرو بن مرة المرادي: ثقة http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=6197

 

8⃣ إبراهيم النخعي: ثقة 

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=902

 

9⃣ مسروق بن الأجدع الهمداني: ثقة

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=7430

 

🔟عبد الله بن مسعود: صحابي

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=5079

 

📑 بدر علی

 

#بدر_علی 

#التماس_دعا 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#talimaat_e_ahlbait #SharePost #PlzShare

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3