Back to شیـخین

شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے

شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے
شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ص کے عمل سے

🔴 شیخین کے اخلاق اور دین کی حقیقت رسول ﷺ کے عمل سے 🔴

 

ابن حبان نے اپنی "صحیح" میں اور نسائی نے اپنی "سنن" میں لکھا ہے:

 

📜 أخبرنَا الْحُسَيْن بن حُرَيْث قَالَ أخبرنَا الْفضل بن مُوسَى عَن الْحُسَيْن بن وَاقد عَن عبد الله بن بُرَيْدَة عَن أَبِيه قَالَ خطب أَبُو بكر وَعمر فَاطِمَة فَقَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِنَّهَا صَغِيرَة فَخَطَبَهَا عَليّ فَزَوجهَا مِنْهَا

 

📃 عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:

ابوبکر اور عمر نے حضرت فاطمہؑ کے لیے رشتہ بھیجا، تو رسول خدا ﷺ نے فرمایا: "فاطمہ ابھی چھوٹی ہے"۔ پھر علیؑ نے رشتہ بھیجا اور نبی ﷺ نے ان کا نکاح فاطمہؑ سے کر دیا۔

 

📚 سنن النسائی، ج 6، ص 62

📚 خصائص امیرالمؤمنینؑ از نسائی، ص 114

📚 صحیح ابن حبان، ج 15، ص 399

 

حاکم نیشاپوری اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:

 

📜 "یہ حدیث بخاری و مسلم کے معیار پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے نقل نہیں کیا۔"

 

📚 المستدرک، ج 2، ص 167

 

👈🏼👈🏼 اب ذرا ترمذی و ابن ماجہ پر موجود روایت دیکھیں 

 

📜 حدثنا محمد بن سابور الرقي حدثنا عبد الحميد بن سليمان الأنصاري أخو فليح عن محمد بن عجلان عن ابن وثيمة النصري عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتاكم من ترضون خلقه ودينه فزوجوه إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد عريض

 

📃 رسول خدا ﷺ نے فرمایا:

"جب کوئی ایسا شخص تمہارے پاس رشتہ لے کر آئے جس کے اخلاق اور دین سے تم راضی ہو، تو اس سے نکاح کر دو، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بہت بڑا فتنہ اور فساد پھیل جائے گا۔"

 

📚 سنن الترمزی، ح 1084

📚 سنن ابن ماجہ ، ح 1967

 

👈🏼 ایک وہابی عالم ناصر الدین البانی نے اسے حسن کہا ہے

 

📜 حدیث "حسن" ہے 

(الإرواء 1868، الصحیحة 1022)

 

📚 إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، ج 6، ص 266

📚 صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ، ج 4، ص 467

 

👈🏼 اور ایک وہابی عالم ابن باز اس روایت کو قابل استدلال سمجھتا ہے

 

📚 مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 20/ 423

 

☑️ نتیجہ:

 

🔴 جیسے کہ ملاحظہ کیا گیا، شیخین نے حضرت فاطمہؑ کا رشتہ مانگا، لیکن رسول خدا ﷺ نے انکار کر دیا۔ حالانکہ نبیؐ خود فرماتے ہیں کہ جس کا دین و کردار قابلِ قبول ہو، اس سے نکاح کر دینا چاہیے، ورنہ زمین میں فساد پھیل جائے گا۔

 

🔴 لہٰذا اگر شیخین کا دین واقعی قابلِ قبول ہوتا تو رسول اللہ ﷺ انکار نہ کرتے، کیونکہ انکار کی صورت میں تو رسولؐ خود سببِ فساد ٹھہرتے (نعوذ باللہ)، جو کہ ان کی عصمت کے منافی ہے۔

 

🔴 پس یہ ظاہر کرتا ہے کہ شیخین کا دین قابلِ قبول نہ تھا، یعنی وہ مؤمن یا مسلمان نہ تھے۔ اگر دین ہوتا تو نبیؐ ان سے رشتہ نہ ٹھکرا کر فتنہ و فساد کا ذریعہ نہ بنتے۔ لہٰذا ان کا ک//فر قطعی ہو جاتا ہے۔

 

❗️اور ایک اور اہم نکتہ یہ ہے:

جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی کو شیخین کے نکاح میں نہیں دیا، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ امیرالمؤمنین علیؑ جو نبیؐ کے طریقے کے پیروکار ہیں، وہ اپنی بیٹی (ام کلثوم) کا نکاح عمر بن خطاب سے کر دیں؟

 

اس کا مطلب یہ ہے کہ:

1. یا تو ام کلثوم علیؑ کی بیٹی نہیں تھیں۔

2. یا یہ نکاح تاریخی طور پر جھوٹ اور جعل ہے۔

 

📑 بدر علی

 

#بدر_علی 

#التماس_دعا 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#talimaat_e_ahlbait #SharePost #PlzShare

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16