ازدواج امیرالمومنین علی بن ابیطالبؑ با حضرت فاطمہ زہراؑ، خدا کے حکم سے
♥️ ازدواج امیرالمومنین علی بن ابیطالبؑ با حضرت فاطمہ زہراؑ، خدا کے حکم سے ♥️
📜 6 - عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد بن خالد، عن علي بن أسباط، عن داود، عن يعقوب بن شعيب قال: لما زوج رسول الله (صلى الله عليه وآله) عليا فاطمة (عليهما السلام) دخل عليها وهي تبكي فقال لها: ما يبكيك فوالله لو كان في أهلي خير منه ما زوجتكه وما أنا زوجته ولكن الله زوجك.
📃 امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فاطمہؑ کو علیؑ کے عقد میں دیا، تو وہ اپنی بیٹی (فاطمہؑ) کے پاس گئے، اس حال میں کہ وہ رو رہی تھیں۔ (فطری جذباتی کفیت کی وجہ سے)
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:
"بیٹی! تم کیوں رو رہی ہو؟
خدا کی قسم! اگر میرے اہل بیت میں کوئی علیؑ سے بہتر ہوتا، تو میں تمہیں اس کے نکاح میں دیتا۔
اور میں نے تمہیں اپنی طرف سے علیؑ سے نکاح نہیں کیا، بلکہ اللہ نے خود تمہیں علیؑ کے لیے منتخب کر کے ان سے نکاح کیا ہے۔"
📚 الکافی، جلد 5، صفحہ 377، باب: ما تزوج علی فاطمہؑ
✍ ایک اور روایت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ فرماتے ہیں:
📜 "اگر علیؑ نہ ہوتے تو فاطمہؑ کا کوئی ہمسر، آدمؑ سے لے کر اب تک، ان کے لائق نہ ہوتا۔"
📚 الامالی للشیخ الصدوق، صفحہ 423
📌 سند کی تحقیق (الکافی والی روایت):
روایت کا آغاز "عدة من أصحابنا" سے ہوتا ہے، جو شیخ کلینی کے معتبر اساتذہ کی جماعت ہے۔ علامہ حلی کے مطابق اس جماعت میں یہ راوی شامل ہیں:
علی بن ابراہیم
علی بن محمد بن عبد الله بن اذینہ
احمد بن عبد الله بن امیہ
علی بن حسن
یہ تمام معتبر اور ثقہ راوی ہیں۔
احمد بن محمد بن خالد برقی: ثقہ (📚 رجال النجاشی، ص 76)
علی بن أسباط: ثقہ (📚 رجال النجاشی، ص 252)
داود: اگر داود بن ابی یزید ہو یا داود بن حصین، دونوں ثقہ ہیں۔ (📚 رجال النجاشی، ص 158 و 159)
یعقوب بن شعیب: ثقہ (📚 رجال النجاشی، ص 450)
✅ نتیجہ: روایت معتبر اور صحیح السند ہے۔
#بدر_علی
#التماس_دعا
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen