حضرت فاطمہ (س) کی کنیت اور القاب کی فہرست، آپ کی ان کنیتوں اور القاب کا مجموعہ ہے جو روایات اور زیارت ناموں میں حضرت فاطمہ زہراؑ کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔ جن میں زہرا، بتول، سیدۃ نساء العالمین اور کوثر آپ کے مشہور القاب اور ام ابیہا آپ کی مشہور کنیتوں میں سے ہے۔
اسماء 👇🏻
فاطمہ (فطم کے مادے سے) کے معنی کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے جدا کرنے یا کاٹنے کے ہیں۔ احادیث میں آپ کا فاطمہ رکھنے کی کئی علتیں ذکر ہوئی ہیں۔
ایک حدیث کے مطابق خداوند عالم نے آپ کا نام فاطمہ رکھا ہے کیونکہ آپ اپنے چاہنے والوں (دوسری روایت میں شیعوں) کو آتش جہنم سے جدا اور دور کر دیں گے۔ امام صادق (ع) سے بھی نقل ہوا ہے کہ آپ کا نام فاطمہ رکھا گیا ہے کیونکہ آپ کو شر اور بدی سے دور رکھا گیا ہے۔
📚 اردبیلی، کشف الغمۃ، ج1، ص439
📚 مناقب ابن شہر آشوب، ج3، ص330
امام جعفر صادقؑ سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ خداوند عالم کے نزدیک حضرت فاطمہ(س) کے 9 اسماء ہیں: فاطمہ، صدّیقہ، مبارکہ، طاہرہ، زکیہ، راضیہ، مرضیہ، محدثہ و زہرا۔
📚 مجلسی، بحار الأنوار، 1363ش، ج43، ص10
معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں نام سے نام و لقب دونوں مراد لئے گئے ہیں۔
کنیتیں 👇🏻
مناقب ابن شہر آشوب میں حضرت فاطمہ (س) کی کئی کنیت ذکر ہوئی ہے
ام الحسن ام الحسین ام المحسن ام الائمہ ام ابیہا
📚 مناقب ابن شہرآشوب ج3، ص357
القاب 👇🏻
احادیث اور زیارت ناموں میں حضرت فاطمہؑ کے متعدد القاب ذکر ہوئے ہیں
لقب = معنی 👇🏻
1 سَیدۃ نِساء العالَمین = عالمین کی عورتوں کی سردار
2 حَوراءإنسیّہ = انسانی شکل میں حور
3 مَعصُومَہ = جس سے گناہ سرزد نہ ہو
4 مُحَدَّثَہ = جس کے ساتھ فرشتوں نے گفتگو کی ہو
5 حُرَّہ = آزاد
6 مُبارَکہ = پر برکت
7 طاہرَہ = پاک
8 بَتُول = ممتاز، لوگوں سے منہ پھیر کر خدا کی طرف متوجہ ہونے والی، ایسی خاتون جو اصلا پاک ہو
رسول ﷺ سے پوچھا گیا کہ بتول کے کیا معنی ہیں؟ جوکہ حضرت مریم اور حضرت فاطمہؑ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: بتول اس خاتون کو کہا جاتا ہے جو اصلا پاک ہو۔
📚 اردبیلی، کشف الغمۃ، ج1، ص339
📚 مناقب ابن شہر آشوب، ج3، ص330
9 حَصَان = پاک دامن
10 زََکیَّہ = پاک و منزہ (اخلاقی برائیوں سے)
11 مَریم کبرَی = بڑی مریم
12 راضیَہ = (تقدیر الہی) پر راضی ہونے والی
13 صِدّیقَہ = بہت سچی
14 مَرضیَّہ = جس سے خدا راضی ہو۔
15 نوریَّہ = نورانی
16 رَضیَّہ = جس سے ہر ایک راضی ہو
17 سَماویَّہ = آسمانی
18 حَصان = پاک دامن
19 مَنصورَہ = جس کی مدد و نصرت کی گئی ہو
20 عَذراء = پاک دامن
21 زاہدَہ = پارسا
22 طَیّبَہ = نیک، زلال، پاک
23 اُمّ اَبیہا = اپنے باپ کی ماں
24 تَقیَّہ = پرہیزگار عورت
25 بَرَّہ = نیکوکار عورت
26 مُطَہرَہ = پاکیزہ
27 شَہیدَہ = شہید ہونے والی عورت
28 صادِقَہ = سچی
29 رَشیدَہ = سوجھ بوجھ اور عقل رکھنے والی
30 فاضِلَہ = با فضیلت
31 نَقیَّہ = خالص اور ناب
32 عَلیمَہ = دانا
33 غَراء = شریف، نیک کردار
34 مَہدیَّہ = ہدایت یافتہ
35 صَفیَّہ = صاف و خالص
36 عابدَہ = عبادت کرنے والی
37 مُتَہجِّدَہ = شب زندہ دار
38 قانِتَہ = ہر وقت خدا کی اطاعت میں رہنے والی
39 زَہراء = درخشان اور نورانی
40 حانیَہ = بہت ہی مہربان
📚 مناقب ابن شہر آشوب ج3، ص357؛
📚 شہید اول، المزار، ص20؛
📚 سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ص100-102
بعض متاخر مصادر میں کئی اور القاب بھی ذکر ہوئے ہیں جیسے:
سیدہ، مصلّیہ، قائمہ، شاہدہ، صائمہ، ولیہ، زاکیہ، سلیمہ، حلیمہ، حبیبہ، جمیلہ، حفیفہ، صالحہ، مصلحہ، صبیحہ، محمدہ، نصیبہ، مجیبہ، شریفہ، مکرمہ، عالمہ، فاتحہ، مُنعِمہ، داعیہ، معلمہ، شافعہ، مشفقہ، جاہدہ، ناصحہ، متجہدہ، راقیہ، ناصیہ، حاضرہ، وافیہ
📚 انصاری زنجانی، الموسوعۃ الکبری عن فاطمۃ الزہراء، 1428ق، ج18، ص346 بہ نقل از محمد الامین، الفاطمیۃ فی ذکر أسماء فاطمۃ علیہا السّلام۔
آپ کے القاب میں سے ایک کوثر بھی ہے جو سورہ کوثر سے ماخوذ ہے۔
📚 انصاری زنجانی، الموسوعۃ الکبری عن فاطمۃ الزہراء، 1428ق، ج22، ص25
احمد رحمانی ہمدانی نے اپنی کتاب فاطمۃ الزہراء بہجۃ قلب المصطفی میں نقدی کی کتاب «زینب الکبری»، جزائری کی کتاب «خصائص الزینبیۃ»، محمدحسین غروی اصفہانی کی کتاب دیوان «الأنوار القدسیۃ» اور سید عبدالحسین شرفالدین کی کتاب «عقیلۃ الوحی» سے حضرت فاطمہ(س) کے لئے 49 القاب کو ذکر کیا ہے۔
📚 رحمانی ہمدانی، فاطمۃ الزہراء بہجۃ قلب المصطفی(ص)، 1378ش، 636-637۔
🔴 حضرت شیخ صدوق رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی سند سے یونس بن ظبیان سے روایت کرتے ہیں - کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا - اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک فاطمہ سلام اللہ علیہا کے نو اسماء ہیں -
فاطمہ ، صدیقہ ، مبارکہ ، طاہرہ ، زکیہ ، رضیہ ، محدثہ ، زہرا (سلام اللہ علیھا) - اس فرمان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ "سیدہ سلام اللہ علیھا" کے اسماء آسمان سے نازل ہوئے ہیں ، اور یہ نام اللہ تبارک و تعالی نے سیدہ سلام اللہ علیھا کے لیے انتخاب فرمائےہیں ، اور یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اس حدیث میں اسماء عام ہیں جو کہ اسم و لقب دونوں کو شامل ہیں ۔
رسالتماب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی اور اے فاطمہ ! اللہ تعالی نے تیرے لیے اپنے ناموں میں سے ایک نام (فاطمہ) مشتق کیا ہے ، پس وہ فاطر (پیدا کرنے والا) ہے اور تو فاطم سلام اللہ علیہا ہے -
حوالہ جات
1. الامالی ، ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ القمی (شیخ صدوق رح) المتوفی381 ۔ق،ص 688 ح 945 تحقیق موسستہ البعثتہ طبع اول1417 ھ ق ، قم ، ایران -
2. الخصال ، ابو جعفر محمد بن علی (شیخ صدوق) ص 414 -
#بدر_علی
تعلیماتِ اہلبیتؑ
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
#SharePost #PlzLikeandFollowthePage
Gallery
Tap any image to view full screen