فاطمہؐ حورِ جنت کی طرح پیدا کی گئی ہیں، مگر انسانی صورت میں
📜 روي عن رسول الله ( صلى الله عليه و آله ) أنهُ قَالَ : فاطِمَة خُلِقَتْ حورِيَّةٌ فِيْ صورة إنسيّة .
📃 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
"فاطمہ حورِ جنت کی طرح پیدا کی گئی ہیں، مگر انسانی صورت میں۔"
📚 مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 296.
♥️ سیدۃ کون ہیں؟ ♥️
📜 حدثنا محمد بن موسى بن المتوكل - رضي الله عنه - قال : حدثنا عبد الله بن جعفر الحميري ، عن يعقوب بن يزيد ، قال : حدثنا الحسن بن علي بن فضال ، عن عبد الرحمن بن الحجاج ، عن سدير الصيرفي ، عن الصادق جعفر بن محمد ، عن أبيه ، عن جده عليهم السلام قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله :
خلق نور فاطمة عليها السلام قبل أن تخلق الأرض والسماء . فقال بعض الناس : يا نبي الله فليست هي إنسية ؟ فقال صلى الله عليه وآله : فاطمة حوراء إنسية قال : يا نبي الله وكيف هي حوراء إنسية ؟ قال : خلقها الله عز وجل من نوره قبل أن يخلق آدم إذ كانت الأرواح فلما خلق الله عز وجل آدم عرضت على آدم . قيل : يا نبي الله وأين كانت فاطمة ؟ قال : كانت في حقة تحت ساق العرش ، قالوا : يا نبي الله فما كان طعامها ؟ قال : التسبيح ، والتهليل ، والتحميد . فلما خلق الله عز وجل آدم و أخرجني من صلبه أحب الله عز وجل أن يخرجها من صلبي جعلها تفاحة في الجنة و أتاني بها جبرئيل عليه السلام فقال لي : السلام عليك ورحمة الله وبركاته يا محمد ، قلت : وعليك السلام ورحمة الله حبيبي جبرئيل . فقال : يا محمد إن ربك يقرئك السلام . قلت : منه السلام وإليه يعود السلام .
قال : يا محمد إن هذه تفاحة أهداها الله عز وجل إليك من الجنة فأخذتها وضممتها إلى صدري . قال : يا محمد يقول الله جل جلاله : كلها . ففلقتها فرأيت نورا ساطعا ففزعت منه فقال : يا محمد مالك لا تأكل ؟ كلها ولا تخف ، فإن ذلك النور المنصورة في السماء وهي في الأرض فاطمة ، قلت : حبيبي جبرئيل ، ولم سميت في السماء " المنصورة " وفي الأرض " فاطمة " ؟ قال : سميت في الأرض " فاطمة " لأنها فطمت شيعتها من النار وفطم أعداءها عن حبها ، وهي في السماء " المنصورة " وذلك قول الله عز وجل : " يومئذ يفرح المؤمنون * بنصر الله ينصر من يشاء ( 1 ) " يعني نصر فاطمة لمحبيها ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"فاطمہ سلام اللہ علیھا کے نور کو زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے خلق کیا گیا "
بعض لوگون نے کہا: یا نبی اللہ ص ۔ تو کیا وہ انسانی جنس سے نہیں ہیں ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ س انسانی شکل میں حور ہے ۔
ان لوگوں نے کہا: یا نبی اللہ ص ۔ پھر کیسے وہ انسانی جنس سے ہیں ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ان کو اپنے نور سے آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے خلق فرمایا۔ جب روحیں ہی تھیں ۔ تو جب اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو خلق فرمایا تو اس نور کو آدم ع کے سامنے عارض کیا۔
لوگوں نے کہا: یا نبی اللہ ص ، تو اس وقت فاطمہ سلام اللی علیھا کہاں تھیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا نور گوشہِ عرش کے نیچے چھوٹے سے ظرف میں تھا
لوگوں نے کہا : یا نبی اللہ ص ، ان کی غذا کیسی تھی ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تسبیح (سبحان اللہ) تہلیل (لا الہ الا اللہ) ،اور تمحید (الحمداللہ) ان کی غذا تھی ۔ تو جب اللہ عزوجل نے آدم ع کو خلق فرمایا تو مجھے ان کے صلب سے پیدا کیا ۔ تو اللہ عزوجل نے پسند فرمایا کہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کو میرے صلب سے پیدا فرمائے ۔ تو اس کو جنت کے ایک سیب میں قرار دیا اور اسے جبرائیل ع میرے پاس لے کے آئے ۔ اور مجھ سے کہا : السلام عليك ورحمة الله وبركاته يا محمد
میں نے کہا: وعليك السلام ورحمة الله میرے دوست جبرائیل ع
جبرائیل ع نے کہا: یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، بے شک آپ کا پروردگار آپ کو سلام کہتا ہے ۔
میں نے کہا: اسی سے سلام و سلامتی ہے اور اسی کی جانب سے سلام و سلامتی پلٹتی ہے ۔
جبرائیل ع نے کہا: یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، بیشک یہ سیب ہے اور اسے اللہ عزوجل نے آپ کی جانب جنت سے تحفہ کے طور پہ بھیجا ہے ۔ تو میں نے اسے لے لیا اور اس کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔
جبرائیل ع نے کہا: یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ عزوجل فرماتا ہے : آپ ص اسے کھائیں ، تو میں نے اسے شگافہ کیا تو دیکھا کہ ایک چمکتا نور ہے تو میں نے اس سے گھبراہٹ کا اظہار کیا تو جبرائیل ع نے کہا: یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، آپ کو کیا ہوا ہے کہ آپ اسے کھا نہیں رہے ۔ اسے کھائیں اور خوف نہ کریں ۔ بے شک یہ ایسا نور ہے جو آسمان میں منصورہ ہے اور یہ زمین میں فاطمہ س ہے ۔
میں نے کہا : میرے دوست جبرائیل ع ، کیوں اس کا نام آسمان میں منصورہ اور زمیں میں فاطمہ رکھا گیا ؟
جبرائیل ع نے کہا: زمین فاطمہ اس لئیے رکھا گیا کیونکہ یہ اپنے شیعوں جہنم کی آگ سے نجات دلائیں گیں ، اور ان کے دشمن ان کی محبت سے محروم ہو جائیں گے اور یہ آسمان میں منصورہ ہیں اور یہ اللہ عزوجل کے قول کے مطابق ہے " اس دن مومنین اللہ کی نصرت سے خوش ہوں گے اور وہ جس کو چاہے گا نصرت فرمائے گا " (سورۃ روم ، آیت 3، 4 ) یعنی فاطمہ س کی نصرت اپنے محبت کرنے والوں کیلئیے ۔
✅ اس حدیث کی سند حسن صحیح (معتبر) ہے
📚 حوالہ: معانی الاخبار للشیخ الصدوق رح ، باب معنی نوادر المعانی ، حدیث 53 ، صفحہ 396
التماس دعاء: فخر عباس زائر اعوان
تعلیماتِ اہلبیتؑ
#بدر_علی
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد