Back to سیدہ فاطمہ بنت محمد ص

سیدہ فاطمہ زہراء (علیہا السلام) کو "محدثہ" کیوں کہا گیا؟

📜 عن إسحاق بن جعفر بن محمد بن عيسى بن زيد بن علي قال: سمعت أبا عبد الله (الصادق ع) يقول: إنما سميت فاطمة (ع) محدثه لان الملائكة كانت تهبط من السماء فتناديها كما تنادي مريم بنت عمران فتقول: يا فاطمة {اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ} يا فاطمة {اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ}، فتحدثهم ويحدثونها, فقالت لهم ذات ليلة: أليست المفضلة على نساء العالمين مريم بنت عمران؟ فقالوا: إن مريم كانت سيدة نساء عالمها، وان الله عز وجل جعلك سيدة نساء عالمك وعالمها وسيدة نساء الأولين والآخرين.

 

📃 حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ زہراء (علیہا السلام) کو "محدثہ" کیوں کہا گیا؟

 

امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:

"انہیں محدثہ اس لیے کہا گیا کیونکہ فرشتے آسمان سے ان کے پاس آتے اور ان سے بات کرتے تھے، جیسا کہ مریم بنت عمران سے کلام کیا جاتا تھا۔ فرشتے ان سے کہتے:

‘اے فاطمہ! اللہ نے تمہیں منتخب کیا اور پاکیزہ بنایا، اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں پر فضیلت دی۔’

‘اے فاطمہ! اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہو، سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔’

سیدہ فاطمہ (علیہا السلام) ان سے بات کرتیں اور وہ ان سے کلام کرتے۔

ایک رات انہوں نے فرشتوں سے پوچھا:

'کیا مریم بنت عمران کو جہانوں کی عورتوں پر فضیلت حاصل نہیں تھی؟'

فرشتوں نے جواب دیا:

'مریم اپنے زمانے کی عورتوں کی سیدہ تھیں، لیکن اللہ عز و جل نے آپ کو آپ کے زمانے، مریم کے زمانے، اور تمام اولین و آخرین کی عورتوں کی سیدہ بنایا ہے۔’"

 

📚 علل الشرائع، جلد 1

📚 بحار الأنوار، جلد 43

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#بدر_علی