📜 قَالَ النَّبِيُّ (صلى الله عليه وآله) لِعَلِيٍّ هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ فَاطِمَةُ قَالَ عَلِيٌّ : لِمَ سُمِّيَتْ فَاطِمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : لِأَنَّهَا فُطِمَتْ هِيَ وَشِيعَتُهَا مِنَ النَّارِ .
نبی اکرم (صلى الله عليه وآله) نے حضرت علی (علیہ السلام) سے فرمایا:
📃 "کیا تم جانتے ہو کہ فاطمہ کو فاطمہ کیوں کہا گیا؟"
حضرت علی (علیہ السلام) نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ، فاطمہ کو کیوں کہا گیا؟"
رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) نے فرمایا:
"کیونکہ وہ اور ان کے شیعہ آگ سے بچا لیے گئے ہیں۔"
📚 مناقب آل أبی طالب، جلد 3، ابن شہر آشوب، صفحہ 110
۔
♥️ "بے شک وہ (بی بی فاطمہ علیہا السلام) اُس دن اپنے شیعوں اور محبّوں کو ایسے چن لے گی جیسے پرندہ اچھا دانہ خراب دانے سے چن لیتا ہے۔" 🕊
امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جابر نے امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا:
"فدا ہوں آپ پر، یا ابن رسول اللہ! مجھے اپنی جدّہ فاطمہ زہراء علیہا السلام کے فضائل میں سے ایک حدیث سنائیں، تاکہ جب میں اسے شیعوں تک پہنچاؤں تو وہ خوش ہوں۔"
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
"میرے والد نے اپنے جد سے، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ:
جب قیامت کا دن ہوگا تو انبیاء و رسل کے لیے نور کے منبر نصب کیے جائیں گے، اور میرا منبر سب سے بلند ہوگا۔ پھر اللہ فرمائے گا: اے محمد! خطبہ دو۔
میں ایسا خطبہ دوں گا کہ کسی نبی یا رسول نے ایسا خطبہ نہ سنا ہوگا۔
پھر اوصیاء کے لیے نور کے منبر نصب ہوں گے، اور میرے وصی علی بن ابی طالب علیہ السلام کا منبر سب سے بلند ہوگا۔
اللہ فرمائے گا: اے علی! خطبہ دو۔
اور وہ ایسا خطبہ دیں گے کہ کسی وصی نے ایسا نہ سنا ہوگا۔
پھر انبیاء و رسل کی اولاد کے لیے نور کے منبر نصب ہوں گے، اور میرے دونوں بیٹوں (حسن و حسین) کے لیے بھی ایک منبر ہوگا۔
انہیں کہا جائے گا: تم خطبہ دو۔
تو وہ ایسے خطبے دیں گے کہ انبیاء کی اولاد نے کبھی نہ سنے ہوں گے۔
پھر جبرائیل (ع) منادی کرے گا:
فاطمہ بنت محمد کہاں ہیں؟
خدیجہ بنت خویلد کہاں ہیں؟
مریم بنت عمران کہاں ہیں؟
آسیہ بنت مزاحم کہاں ہیں؟
امّ کلثوم بنت زکریا کہاں ہیں؟
پس سب کھڑی ہوں گی۔
اللہ فرمائے گا:
"اے اہلِ محشر! آج عزّت کس کے لیے ہے؟"
محمد، علی، حسن، حسین (علیہم السلام) عرض کریں گے:
"ایک اللہ قہار کے لیے۔"
اللہ فرمائے گا:
"اے اہلِ محشر! میں نے آج عزّت محمد، علی، حسن، حسین اور فاطمہ کے لیے قرار دی ہے۔
سارے سر جھکا لو، نظریں نیچی کر لو، یہ فاطمہ ہے جو جنت کی طرف جا رہی ہے۔"
جبرائیل ایک جنتی اونٹنی لائیں گے جس کے پہلو سجے ہوں گے، اس کی لگام نرم چمکتے ہوئے لؤلؤ کی ہوگی، اس پر مرجان کا کجاوہ ہوگا۔
اونٹنی ان کے سامنے بیٹھے گی اور وہ اس پر سوار ہوں گی۔
ایک لاکھ فرشتے دائیں جانب اور ایک لاکھ فرشتے انہیں اپنے پروں پر اٹھا کر جنت کے دروازے تک لے جائیں گے۔
جب وہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گی تو پلٹ کر دیکھیں گی۔
اللہ فرمائے گا:
"اے میرے حبیب کی بیٹی! تُو کیوں پلٹی؟ میں نے تو تجھے جنت کی طرف حکم دیا تھا۔"
وہ عرض کریں گی:
"پروردگار! میں چاہتی تھی کہ آج سب میرے مقام کو پہچان لیں۔"
اللہ فرمائے گا:
"اے میرے حبیب کی بیٹی! واپس جاؤ اور دیکھو کہ جس کے دل میں تمہاری یا تمہاری اولاد میں سے کسی کی محبت ہو، اسے پکڑو اور جنت میں لے جاؤ۔"
امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
"خدا کی قسم اے جابر! اُس دن وہ اپنے شیعوں اور محبوں کو ایسے چنیں گی جیسے پرندہ اچھا دانہ خراب میں سے چن لیتا ہے۔"
جب وہ اپنے شیعوں کو جنت کے دروازے تک لے آئیں گی، اللہ ان کے دلوں میں ڈالے گا کہ وہ پلٹ کر دیکھیں۔
اللہ فرمائے گا:
"اے میرے دوستو! کیوں پلٹے ہو؟ فاطمہ نے تو تمہاری شفاعت کر دی۔"
وہ عرض کریں گے:
"پروردگار! ہم چاہتے تھے کہ آج سب ہمارے مقام کو بھی جان لیں۔"
اللہ فرمائے گا:
"اے میرے دوستو! واپس جاؤ اور دیکھو کہ کون تم سے فاطمہ کی محبت میں محبت رکھتا تھا،
کون تمہیں فاطمہ کی محبت میں کھانا دیتا تھا،
کون تمہیں فاطمہ کی محبت میں لباس دیتا تھا،
کون تمہیں فاطمہ کی محبت میں پانی پلاتا تھا،
کون تمہاری غیبت سے فاطمہ کی محبت میں روکتا تھا —
اس کا ہاتھ پکڑو اور اسے بھی جنت میں لے جاؤ۔"
پھر امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
"اس کے بعد لوگوں میں کوئی باقی نہیں رہے گا مگر شاک، کافر یا منافق۔
وہ طبقوں کے درمیان کھڑے ہوں گے اور چلائیں گے جیسا کہ قرآن نے فرمایا:
‘ہمارا کوئی سفارشی نہیں، نہ کوئی دوستِ صمیمی’
اور کہیں گے:
‘کاش ہمیں ایک بار پھر دنیا میں لوٹا دیا جائے تو ہم ایمان لانے والوں میں سے ہو جائیں’.
امام نے فرمایا:
"ہائے افسوس! جو مانگ رہے ہیں وہ انہیں نہیں ملے گا، اور اگر لوٹا بھی دیے جائیں تو پھر وہی کریں گے جس سے روکے گئے تھے، اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔"
📚 تفسیر فرات، ص 298
📚 اللمعة البيضاء، ص 56
#فاطمہ_الزہرا
#سیدہ_نساء_العالمین
#ام_ابیہا