♥️ 20 جمادی الثانی : ولادت حضرت فاطمة الزہراء سلام اللہ علیہا ❤️

 

اس موقع پر تمام مومنین کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں 

 

📜 فلما سقطت إلى الارض أشرق منها النور حتى دخل بيوتات مكة، ولم يبق في شرق الارض ولا غربها موضع إلا أشرق فيه ذلك النور.

 

📃 جب آپ (س) اس دنیا میں تشریف لائیں تو آپ (س) کے نور سے کائنات منّور ہوگئی۔ یہاں تک کہ یہ نور مکّہ کے گھروں میں داخل ہوا۔ اور زمین کے مشرق و مغرب میں کوئی جگہ ایسی نہ تھی جو آپ (س) کے نور سے منوّر نہ ہوئی ہو

 

📚 الأمالي، الشيخ الصدوق، صفحه 594، المجلس السابع والثمانون (87) ، حدیث 1

 

♥️ علامہ مجلسی رحمۃ اللہ علیہ ولادتِ صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کے باب میں لکھتے ہیں: ♥️

 

ابن بابویہ نے معتبر سند کے ساتھ مُفضل بن عمر سے روایت کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ حضرت فاطمہؑ کی ولادت کس طرح ہوئی؟

امامؑ نے فرمایا:

 

جب خدیجہؑ نے رسولِ خدا ﷺ کے ساتھ نکاح کا انتخاب کیا، تو مکہ کی عورتوں نے آپ سے دشمنی کی وجہ سے کنارہ اختیار کر لیا۔ وہ نہ آپ کو سلام کرتیں، نہ آپ کے پاس آتیں، نہ آپ کو کسی عورت سے ملنے دیتیں۔ اس وجہ سے خدیجہؑ کو بہت وحشت لاحق ہوئی۔

لیکن خدیجہؑ کی اصل غم و پریشانی رسولِ خدا ﷺ کے بارے میں تھی کہ کہیں ان عورتوں کی شدید دشمنی کی وجہ سے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

 

جب خدیجہؑ حاملہ ہوئیں تو حضرت فاطمہؑ شکمِ مادر میں ان سے بات کرتی تھیں اور ان کی مونس تھیں، اور انہیں صبر دیتی تھیں۔

خدیجہؑ اس حالت کو رسولِ خدا ﷺ سے چھپاتی رہیں۔

 

ایک روز رسولِ خدا ﷺ تشریف لائے اور آپ نے سنا کہ خدیجہؑ کسی سے بات کر رہی ہیں، مگر وہاں کوئی نظر نہ آیا۔

آپ ﷺ نے پوچھا: ’’اے خدیجہ! تم کس سے بات کر رہی ہو؟‘‘

خدیجہؑ نے عرض کیا: ’’وہ بچہ جو میرے شکم میں ہے، وہ مجھ سے بات کرتا ہے اور میرا مونس ہے۔‘‘

 

رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا: ’’ابھی جبرئیل مجھے خبر دے کر گئے ہیں کہ یہ بچہ دختر ہے؛ وہ بھی طاہر، پاکیزہ، با برکت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ میرے سلسلۂ نسل کو اسی کے ذریعے قائم رکھے گا۔ اسی کی نسل سے امام اور پیشوایانِ دین پیدا ہوں گے، اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ان کے ذریعے اپنی زمین پر اپنے دین کو قائم رکھے گا۔‘‘

 

خدیجہؑ اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ ولادت کا وقت قریب آ گیا۔

جب دردِ زہ شروع ہوا تو خدیجہؑ نے قریش کی عورتوں اور بنی ہاشم کی عورتوں کو پیغام بھیجا کہ وہ آ جائیں، مگر انہوں نے جواب میں پیغام بھیجا:

 

’’تم نے ہماری بات نہ مانی، ہمارے خاندان کی مخالفت کی، اور ابوطالب کے یتیم (رسول اللہ ﷺ) سے نکاح کر لیا جو مال و دولت نہیں رکھتا۔ اس لیے ہم تمہارے گھر نہیں آئیں گی اور تمہارے کام میں مدد نہیں کریں گی۔‘‘

 

خدیجہؑ نے جب ان کا جواب سنا تو نہایت غمگین ہو گئیں۔

 

اسی وقت اچانک انہوں نے دیکھا کہ چار دراز قامت اور گندم گوں عورتیں ان کے پاس آ گئیں، جو بنی ہاشم کی عورتوں جیسی لگتی تھیں۔ خدیجہؑ ان کو دیکھ کر گھبرا گئیں۔

 

ان میں سے ایک نے کہا:

’’اے خدیجہ! خوف نہ کھاؤ، ہم تمہارے رب کی طرف سے تمہاری مدد کے لیے آئے ہیں اور تمہاری مددگار ہیں۔

میں سارہ ہوں، ابراہیم خلیل اللہ کی زوجہ۔

دوسری آسیہ ہے، مزاحم کی بیٹی، جو تمہاری سہیلی ہوگی اور آخرت میں تمہارے شریکِ حیات کے ساتھ بہشت میں تمہاری ہم نشین ہوگی۔

تیسری مریم بنتِ عمران ہے۔

اور چوتھی کلثوم، موسی بن عمران کی بہن ہے۔

خداوندِ عالم نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم تمہارے وقتِ ولادت پر تمہاری مدد کریں اور تمہیں تنہا نہ چھوڑیں۔‘‘

 

پھر ایک ان کے دائیں بیٹھ گئی، دوسری بائیں، تیسری سامنے اور چوتھی پیچھے۔

 

پس حضرت فاطمہؑ پاک و پاکیزہ دنیا میں تشریف لائیں۔

جب آپؑ زمین پر تشریف لائیں تو ایسا نور ظاہر ہوا کہ مکہ کے گھر جگمگا اٹھے، اور مشرق و مغرب میں کوئی جگہ نہ رہی جو اس نور سے روشن نہ ہوئی ہو۔

 

پھر دس حورالعین داخل ہوئیں، جن کے ہاتھوں میں جنت کے پانی سے بھرے ہوئے آبریقی اور طشت تھے۔

جس عورت نے خدیجہؑ کے سامنے بیٹھا تھا اس نے حضرت فاطمہؑ کو اٹھایا، کوثر کے پانی سے غسل دیا، اور دو سفید کپڑے نکالے جو دودھ سے زیادہ سفید اور مشک و عنبر سے زیادہ خوشبودار تھے۔

ان میں سے ایک میں فاطمہؑ کو لپیٹا، اور دوسرے کو ان کا سر بند بنایا۔

 

پھر اس نے فاطمہؑ کو بات کرنے پر آمادہ کیا۔

فاطمہؑ نے فرمایا:

 

’’میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

اور یہ کہ میرے والد رسولِ خدا، تمام انبیاء کے سردار ہیں۔

اور میرے شوہر وصیوں کے سردار ہیں۔

اور میری اولاد سبطوں کے سردار ہیں۔‘‘

 

پھر آپؑ نے ان چاروں عورتوں پر سلام کہا اور ہر ایک کو اس کے نام سے پکارا۔

وہ عورتیں خوش ہوئیں،

حورالعین مسکرائیں،

اور ایک دوسرے کو بشارت دینے لگیں۔

آسمان والوں نے بھی ایک دوسرے کو عالمین کی سردار خاتون کی ولادت کی خوشخبری دی۔

آسمان میں ایسا نور ظاہر ہوا جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا تھا۔

 

پھر ان مقدس عورتوں نے خدیجہؑ سے کہا:

’’اس دخترِ پاک کو لے لو، یہ پاکیزہ، طاہرہ اور با برکت ہے۔ خدا نے اس اور اس کی نسل میں برکت رکھی ہے۔‘‘

 

خدیجہؑ نے اپنی بیٹی کو لیا، خوشی سے ان کے منہ پر چھاتی رکھی۔

اور فاطمہؑ ایک دن میں اتنی بڑھتی تھیں جتنے دوسرے بچے ایک مہینے میں بڑھتے ہیں،

اور ایک مہینے میں اتنی ترقی کرتی تھیں جتنے دوسرے بچے ایک سال میں کرتے ہیں۔

 

📚 جلاﺀ العیون علامہ مجلسی

صفحہ 159

 

📚 امالی صدوق، ص 690

 

📚 بحار الانوار، ج 43، ص 2

 

📚 روضۃ الواعظین، ج 1

 

۔

 

۔

 

📜 عن عَمَّارَة : سَألتُ أبا عَبدِ اللَّهِ عليه السلام عَن فاطِمَةَ لِمَ سُمِّيَت زَهراء ؟ فَقال : لأنَّها كانَت إذا قامَت في مِحرابِها زَهَر نورُها لأهلِ السَّماءِ كَما يَزهَر نورُ الكواكبِ لأهلِ الأرضِ.

 

📄 عمارہ سے روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو "زہرا" کیوں کہا جاتا ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا:

 

"کیونکہ جب وہ اپنے محرابِ عبادت میں کھڑی ہوتی تھیں تو ان کا نور آسمان والوں کے لیے اس طرح چمکتا تھا جیسے زمین والوں کے لیے ستاروں کا نور چمکتا ہے۔"

 

📚 بحار الانوار، جلد 43، علامہ مجلسی، صفحہ 14

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#بدر_علی 

بدر علی