شہادت و مظلومیت زھراءؐ پرصحیح سند روایت post-2/3
🔴 شہادت و مظلومیتِ سیدہؐ پر صحیح سند روایت 🔴
پوسٹ نمبر 2/3
دلائل الامامة کی حدیث کی صحت (صحیح السند) ہونے پر شیعہ علما کی تصحیحات پیش کر رہا ہوں، تاکہ اہلِ عقل پر حجت تمام ہو جائے۔
تصحیح نمبر 1⃣
⭕ شیخ عباس قمی رحمہ اللہ علیہ روایت کو معتبر مانتے ہیں:
محمد بن جریر طبری امامی نے سندِ معتبر کے ساتھ ابو بصیر سے، اور انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا کہ:
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے منگل کے دن، ماہ جمادی الثانی کے تیسرے دن، سن 11 ہجری میں دنیا سے رخصت فرمائی۔
ان کی وفات کی وجہ وہ ضربت تھی جو قنفذ غلامِ عمر نے عمر کے حکم پر آپ کو ماری تھی۔
اسی ضربت کی وجہ سے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا محسن سقط ہوا اور آپ شدید بیمار ہو گئیں۔
آپ نے اجازت نہیں دی کہ وہ لوگ جو آپ کو اذیت دیتے رہے تھے، آپ کی زیارت کے لیے آئیں۔
تصحیح نمبر 2⃣
⭕ آیت اللہ العظمیٰ خوئی نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کی روایات کو متواتر قرار دیا ہے،
اور "دلائل الامامہ" طبری کی روایت کو معتبر مانا ہے:
فرمایا کہ:
"جو ظلم صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا پر ہوا وہ اجمالاً متواتر ہے۔
ان کے قبر کا آج تک مخفی رہنا، اور ان کی وصیت کہ انہیں رات کے وقت دفن کیا جائے،
اسی مظلومیت پر گواہ ہے۔"
مزید فرمایا کہ سندِ معتبر کے ساتھ امام کاظم علیہ السلام سے روایت ہے:
"یقیناً فاطمہ سلام اللہ علیہا صدیقہ اور شہیدہ ہیں۔"
یہ جملہ خود ان کی مظلومانہ شہادت پر دلالت کرتا ہے۔
اسی مضمون کی تائید ایک اور روایت سے ہوتی ہے جو بحار الانوار میں دلائل الامامہ طبری سے سندِ معتبر کے ساتھ امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے،
کہ:
"حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کا سبب وہ ضربت تھی جو قنفذ غلامِ عمر نے عمر کے حکم سے آپ پر لگائی تھی، اور اسی کے نتیجے میں محسن سقط ہوا۔"
تصحیح نمبر 3⃣
⭕ شیخ طوسی رحمہ اللہ علیہ نے "دلائل الامامہ طبری" کی روایت کے مضمون کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرمایا کہ:
✅ حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شہادت سے متعلق روایات مشہور، مستفیض، اور شیعہ کے درمیان متفق علیہ ہیں۔
تصحیح نمبر 4⃣
⭕ علامہ محقق آیت اللہ سید علی حسینی میلانی (دامت تاییداته) فرماتے ہیں کہ:
✅ "یہ روایت سندِ معتبر کے ساتھ کتاب دلائل الامامہ از طبری الامامی میں مذکور ہے،
اور اس سے بحار الانوار (جلد 43 / صفحہ 170) میں نقل کیا گیا ہے۔"
http://al-milani.com/qa/printer.php?cat=10067&itemid=474
تصحیح نمبر 5⃣
⭕ علامہ سید جعفر مرتضی عاملی رحمہ اللہ علیہ نے "دلائل الامامہ" کی روایت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات دینے کے بعد فرمایا:
✅ "روایتِ دلائل الامامہ صحیح السند ہے۔"
http://www.al-ameli.com/edara/print.php?id=594
تصحیح نمبر 6⃣
⭕ علامہ سید جعفر مرتضی عاملی نے اپنی کتاب مأساة الزهراء (جلد 2، صفحہ 66) میں فرمایا:
"اور اس روایت کی سند صحیح ہے۔"
تصحیح نمبر 7⃣
⭕ آیت اللہ العظمیٰ شیخ عبداللہ مامقانی بھی طبری کی روایت کی سند کو معتبر مانتے ہیں:
✅ "دلائل الامامہ" محمد بن جریر طبری امامی کی کتاب میں قوی سند کے ساتھ ابو بصیر سے، اور انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ حدیث نقل کی ہے۔
(مرآة الکمال، جلد 3، صفحہ 267)
❗️اب وہابی تنگنظر جاہل بار بار کہتے ہیں "صحیح سند لاؤ!" تو ہم نے کئی صحیح سند والی روایات پیش کر دیں۔
شرم کرو! اہل سنت اب تم گمراہ گروہ کے فریب میں نہیں آئیں گے، وہ بیدار ہو چکے ہیں۔
بے شک تم اس آیت کے مصداق ہو:
📜 "خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ"
📃 "اللہ نے ان کے دلوں پر، ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔"
📚 (سورہ بقرہ، آیت 7)
تصحیح نمبر 8⃣
⭕ علامہ مجلسی نے بھی "دلائل الامامہ طبری" میں امام صادق علیہ السلام سے منقول شہادتِ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے:
اہلِ بیت علیہم السلام اپنے گھر کے حالات کو سب سے بہتر جانتے ہیں،
اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، رسولِ خدا ﷺ کی وفات کے پچھتر دن بعد شہادت کے درجہ پر فائز ہوئیں،
جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں وارد ہے،
اور وہ عمر بن خطاب اور قنفذ کے ہاتھوں شہید ہوئیں۔
ان کے گھر میں آگ لگائی گئی یا لگانے کی کوشش کی گئی،
اور ان کے گھر پر حملہ کیا گیا،
پہلے تلواریں اٹھائیں،
پھر چادر آپ کے گلے میں ڈال کر کھینچا گیا،
اور بنی ہاشم، سلمان، ابوذر، اور مقداد سب کے ساتھ یہی رویہ رکھا گیا۔
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اس واقعے کے دوسرے یا تیسرے دن رحمتِ الٰہی کی جوار میں چلی گئیں۔
📚 حوالہ: لوامع صاحبقرانی، شرح فقیہ، علامہ مجلسی اول، جلد 8، صفحہ 589)
تصحیح نمبر 9⃣
⭕ آیت اللہ شیخ علی الاحمدی المیانجی نے بھی دلائل الامامہ طبری میں امام صادق علیہ السلام سے منقول
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کی روایت کو صحیح السند قرار دیا ہے:
✅ "جو کچھ طبری نے دلائل الامامہ میں روایت کیا ہے، وہ سندِ صحیح کے ساتھ ہے۔"
📚 (حوالہ: ظلامة الزهراء فی النصوص والآثار، صفحہ 161)
تصحیح نمبر 🔟
⭕ علامہ شیخ عبدالکریم عقیلی نے بھی دلائل الامامہ طبری کی روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
انہوں نے اپنی کتاب کے مقدمے میں تصریح کی ہے کہ:
✅ "میں نے اس کتاب میں صرف صحیح اور معتبر روایات ہی درج کی ہیں،
اور اس میں اہم نئی اضافات شامل کی ہیں جن میں احادیثِ صحیحہ اور اقوالِ معتبرہ شامل ہیں،
تاکہ وہ باتیں بھی واضح ہوں جو عام نظر سے پوشیدہ رہ گئی تھیں۔"
📚 (حوالہ: ظلمات فاطمہ الزہراء، علامہ شیخ عبدالکریم العقیلی، صفحہ 169)
تصحیح نمبر 1⃣1⃣
⭕ علامہ مجلسی دوم نے "دلائل الامامہ طبری" میں امام صادق علیہ السلام سے منقول
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کی روایت کو سندِ معتبر کے ساتھ بیان فرمایا ہے:
✅ "شیخ جلیل محمد بن جریر طبری نے اپنی کتاب دلائل الامامہ میں سندِ معتبر کے ساتھ امام صادق علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی ہے۔"
📚 زاد المعاد، علامہ مجلسی، صفحہ 280
تصحیح نمبر 1⃣2⃣
⭕ آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے بھی "دلائل الامامہ طبری" کی روایت کو معتبر قرار دیا ہے:
وہ خطبہ نمبر 202 کے ذیل میں لکھتے ہیں:
"روایت کے آخر میں آیا ہے کہ:
قنفذ، جو عمر کا غلام تھا، نے اس کے حکم سے
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو تلوار کے غلاف سے مارا،
جس کے نتیجے میں آپ کا محسن سقط ہوا اور آپ شدید بیمار ہو گئیں
(اور اسی بیماری میں شہادت پائی)۔
مرحوم علامہ مجلسی نے زاد المعاد میں
اس قول کو وفاتِ حضرت فاطمہ کے وقت کے بارے میں روایتِ معتبر کے طور پر نقل کیا ہے۔
چونکہ یہ بات مشہور اور معتبر روایت پر مبنی ہے،
اس لیے ماہِ جمادی الثانی کی تیسرے دن
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تعزیت منانے کا دن قرار دیا گیا ہے۔"
📚 پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، آیت اللہ مکارم شیرازی، جلد 8، صفحہ 55
📚 نفحات الولایة، آیت اللہ مکارم شیرازی، جلد 8، صفحہ 32
تصحیح نمبر 1⃣3⃣
⭕ آیت اللہ شیخ محمد السند نے بھی "دلائل الامامہ طبری" کی روایت کو سندِ صحیح قرار دیا ہے:
✅ "طبری نے سندِ صحیح کے ساتھ روایت بیان کی ہے،
اور ان کے تمام راوی امامیہ علما کے نمایاں افراد میں سے ہیں۔"
📚 خلاصہ معرفیہ، آیت اللہ الشیخ محمد السند، جلد 1، صفحہ 134
تصحیح نمبر 1⃣4⃣
⭕ علامہ سید ابوالحسن حسینی نے بھی "دلائل الامامہ طبری" میں
امام صادق علیہ السلام سے منقول روایت کی سند کو معتبر اور قابلِ اعتماد قرار دیا ہے:
"دلائل الامامہ" محمد بن جریر بن رستم طبری کی تالیف ہے،
جس میں امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ:
"حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وفات کی وجہ یہ تھی کہ
عمر کے غلام قنفذ نے اس کے حکم سے
تلوار کے غلاف سے آپ کو مارا،
جس کے نتیجے میں آپ کا حمل ساقط ہوگیا
اور آپ سخت بیمار ہوگئیں۔"
✅ یہ روایت سند کے لحاظ سے معتبر اور قابلِ اعتماد ہے۔
📚 تحقیق در یک مسئله تاریخی؛ بر خانه حضرت فاطمه چه گذشت،
سید ابوالحسن حسینی، صفحہ 50
تصحیح نمبر 1⃣5⃣
⭕ محقق شیخ عبدالمحسن عبدالزہرا القطیفی نے بھی "دلائل الامامہ طبری" میں امام صادق علیہ السلام سے منقول
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے:
"طبری نے دلائل الامامہ میں روایت کی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا جمادی الآخر کے مہینے میں، منگل کے دن، سن 11 ہجری میں وفات پا گئیں۔
ان کی وفات کی وجہ یہ تھی کہ قنفذ غلامِ عمر نے اس کے حکم سے تلوار کے غلاف سے انہیں مارا،
جس کے نتیجے میں محسن سقط ہوا اور آپ شدید بیمار ہو گئیں۔"
اور مصنف (عبدالمحسن القطیفی) فرماتے ہیں:
✅ "ہم نے اس روایت کو کتاب کے آخر میں صحیح قرار دیا ہے"
📚 المحسن بن فاطمہ الزهراء علیها السلام،
عبدالمحسن عبدالزهراء القطیفی، جلد 1، صفحہ 63
تصحیح نمبر 1⃣6⃣
⭕ "فرحة الغری" میں بھی دلائل الامامہ طبری کی روایت،
امام صادق علیہ السلام سے منقول صحیح روایت کے طور پر ذکر کی گئی ہے:
علامہ نے اس بات پر کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا،
رسول خدا ﷺ کے بعد پچھتر دن میں شہادت کے درجہ پر فائز ہوئیں،
"دلائل الامامہ طبری" کی روایت کی طرف اشارہ کیا،
اور فوراً اس کو احادیثِ صحیحہ سے تائید دی۔
"اہل بیت علیہم السلام کی روایات کے مطابق،
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا رسول خدا ﷺ کے بعد
پچھتر دن میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئیں
(یعنی روایتِ دلائل الامامہ طبری کے مطابق)،
جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے،
اور وہ عمر بن خطاب اور قنفذ کے ہاتھوں شہید ہوئیں،
اور ان کے گھر میں آگ لگائی گئی۔"
📚 فرحة الغری فی تعیین قبر أمیرالمؤمنین علی بن أبی طالب فی النجف
(تالیف عبدالکریم بن احمد حلی، مترجم: علامہ مجلسی)، صفحہ 102
تصحیح نمبر 1⃣7⃣
⭕ سید محمد حسن لنگرودی لکھتے ہیں:
"محمد بن جریر طبری امامی سے سندِ معتبر کے ساتھ روایت کی گئی ہے..."
📚 طلوع الفجر فی اللیالی المقمرة
(مزید تفصیلی مضمون میں اس روایت کے تمام مخالفین و دشمنوں کے اعتراضات اور ان کے راویوں پر کیے گئے اعتراضات کا تفصیلی علمی رد پیڈیاف مقالے کی صورت میں موجود ہے۔)
1⃣8⃣ تصحیح نمبر
السید نبیل قدوری الحسنی فرماتے ہیں:
✔️ [سند معتبر ہے]
📚 دعاء الإمام الحسین في يوم عاشوراء بين النظرية العلمية والأثر الغيبي
✍️ مصنف: الحسنی، نبیل
📖 جلد: 2
📄 صفحہ: 220
1⃣9⃣ تصحیح نمبر
کتاب "من حياة المعصومين" کے محقق نے حاشیے (پاورقی) میں لکھا ہے:
📜 “اور یہ ایک حَسَن و معتبر حدیث ہے،
جیسا کہ بہت سے علما نے اس کا ذکر کیا ہے؛
بلکہ یہ سند کے اعتبار سے صحیح ہے،
اور سب سے زیادہ مضبوط اسناد میں سے ایک ہے۔”
📕 کتاب: من حياة المعصومين علیهم السلام
جلد: 3 — فاطمة الزهراء علیها السلام
✍️ تألیف: سید محمد الحسینی الشیرازی
📄 صفحے: 303–304
2⃣0⃣ تصحیح نمبر
شیخ علی احمدی میانجی فرماتے ہیں:
✔️ [بِسَنَدٍ صَحِيحٍ] — یعنی سند بالکل صحیح ہے
📕 کتاب کا نام: مکاتیب الرسول ﷺ
✍️ مصنف: الشیخ علی الأحمدی المیانجی
📖 جلد: 3
2⃣1⃣ تصحیح نمبر
مجتبی خورشیدی (مترجم کتاب عوالم العلوم مرحوم شیخ عبدالله بحرانی) لکھتے ہیں:
“روایت میں صحیح طور پر آیا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے والد بزرگوار کے بعد سترہ (75) دن زندگی کی۔”
یعنی دلائل امامة والک روایت کو صحیح سمجھتے ہیں
2⃣2⃣ تصحیح نمبر
سید محمد علی ہاشمی فرماتے ہیں:
✔️ [اور روایت “دلائل الإمامة” سند کے اعتبار سے صحیح ہے]
2⃣3⃣ تصحیح نمبر
ناصر مکارم شیرازی فرماتے ہیں:
✔️ [روایت مشہور اور معتبر ہے]
📕 کتاب: نفحات الولاية
✍️ مصنف: الشيخ ناصر مكارم الشيرازي
📖 جلد: 8
📄 صفحہ: 32
📕 کتاب: پیام امام امیر المومنین (ع)
✍️ مصنف: ناصر مكارم شیرازی
📖 جلد: 8
📄 صفحہ: 55
2⃣4⃣ تصحیح نمبر
سید ہاشم ہاشمی فرماتے ہیں:
✔️ [روایت معتبر اور اعتباری ہے] — فالروایة محکومة بالإعتبار
📕 کتاب: حوار مع فضل الله حول الزهراء (ع)
✍️ مصنف: السيد ہاشم الهاشمي
📖 جلد: 1
📄 صفحات: 316–317
2⃣5⃣ تصحیح نمبر
سید علی حسینی میلانی فرماتے ہیں:
📜 “یہ روایت سند کے اعتبار سے معتبر ہے،
کتاب دلائل الإمامة للطبری الامامی میں آئی ہے،
اور اس کا ذکر البحار، جلد 43، صفحہ 170 میں بھی ہے۔”
2⃣6⃣ تصحیح نمبر
سید مهدی حسینی مرعشی:
📜 ورد بروایاتنا المعتبرة السّند کصحیحة أبي بصیر...
2⃣7⃣ تصحیح نمبر
رفیع الدین سید جعفر رفیعی:
✔️[روایت معتبر]
،2⃣9⃣-2⃣8⃣ تصحیح نمبر
سید جعفر مرتضی عاملی:
انہوں نے محمد حسین فضل اللہ (ضال و مضل) کو حضرت صدیقہ طاہره سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ثبوت کے لیے بھیجے گئے مستندات میں دو جگہوں پر روایت دلائل الإمامة کی سند کی صحت اور نیکی (جیّد) کی تصدیق کی ہے۔
یہ مستندات سید جعفر مرتضی عاملی کے اپنے دستخط سے ہیں۔
📄 صفحہ 146:
✍️ [اور روایت دلائل الإمامة سند کے اعتبار سے صحیح ہے]
📄 صفحہ 139:
✍️ [روایت دلائل الإمامة للطّبری؛ اور اس کی سند نیکو ہے]
✔️ یہ سید جعفر مرتضی عاملی رض کے ذریعے ایک اور تصحیح بھی ہے۔
3⃣1⃣-3⃣0⃣ تصحیح نمبر
یدالله مقدسی فرماتے ہیں:
✔️ [سند معتبر ہے]
📄 صفحہ: 174
📄 مزید صفحات: 157–158
3⃣2⃣- 3⃣3⃣ تصحیح نمبر
محدث قمی کے مطابق:
📖 کتاب: هدية الزائرين و بهجة الناظرین
✔️ [سند معتبر ہے]
📖 کتاب: منتهی الآمال
✔️ [روایت معتبر ہے]
3⃣4⃣-3⃣5⃣-3⃣6⃣-3⃣7⃣-3⃣8⃣ تصحیح نمبر
آیت اللہ العظمیٰ میرزا جواد تبریزی رحمہ اللہ:
کتاب صراط النجاة میں، “صحیحہ صدیقہ شہیدہ” کی روایت نقل کرنے کے بعد،
انہوں نے روایتِ دلائل الإمامة کو بھی ذکر کیا اور اس کی سند کو معتبر قرار دیا:
✔️ [بسند معتبر]
مزید برآں، انہوں نے اپنی دوسری کتب جیسے:
📘 اعتقاداتنا،
📗 الأنوار الإلهیة،
📙 ظلامات فاطمة الزهراء سلام الله علیها
میں بھی اسی روایت کی تائید کی ہے۔
📜 “اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو بحار الأنوار میں،
دلائل الإمامة للطَّبری سے،
اس کی سند کے ساتھ،
بہت سے علمائے کرام کے واسطے سے امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے...”
📕 کتاب: الأنوار الإلهیة في المسائل العقائدية
✍️ مصنف: میرزا جواد تبریزی
📖 جلد: 1
📄 صفحہ: 154
ذکر شدہ دیگر کتب:
📚 الأنوار الإلهیة (چاپ قدیم)
📚 الأنوار الإلهیة (چاپ جدید)
📚 اعتقاداتنا (صفحہ 28)
📚 ظلامات فاطمة الزهراء سلام الله علیها
🔴 تمام 38 اسکین پیجز بلترتیب موجود ہیں 🔴
⭕ اس حدیث پر مخالفین کی طرف سے کیے گئے اعتراضات کا تفصیلی رد اور سندی تحقیق انشاءﷲ اگلی پوسٹ پر کروں گا
بدر علی
#بدر_علی
#طالب_دعا
#تبدیلی_ممنوع
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#استشهاد_فاطمة_الزهراء
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen