شہادت و مظلومیت زھراءؐ پرصحیح سند روایت post-1/3
🔴 شہادت و مظلومیتِ سیدہؐ پر صحیح سند روایت 🔴
پوسٹ 1/3
📜 " حدثني أبو الحسين محمد بن هارون بن موسى التلعكبري ، قال : حدثني أبي ، قال : حدثني أبو علي محمد بن همام بن سهيل ( رضي الله عنه )(وفات 332) ، قال : روى أحمد ابن محمد بن البرقي (وفات 280 ) ، عن أحمد بن محمد الأشعري القمي ، عن عبد الرحمن بن بحر (وفات 224)، عن عبد الله بن سنان ، عن ابن مسكان ، عن أبي بصير ، عن أبي عبد الله جعفر بن محمد ( عليه السلام ) ، قال :ولدت فاطمة ( عليها السلام ) في جمادى الآخرة ، يوم العشرين منه ، سنة خمس وأربعين من مولد النبي ( صلى الله عليه وآله ) . وأقامت بمكة ثمان سنين ، وبالمدينة عشر سنين ، وبعد وفاة أبيها خمسة وسبعين يوما . وقبضت في جمادي الآخرة يوم الثلاثاء لثلاث خلون منه ، سنة إحدى عشرة من الهجرة . وكان سبب وفاتها أن قنفذا مولى عمر لكزها بنعل السيف بأمره ، فأسقطت محسنا ومرضت من ذلك مرضا شديدا ، ولم تدع أحدا ممن آذاها يدخل عليها . وكان الرجلان من أصحاب النبي ( صلى الله عليه وآله ) سألا أمير المؤمنين أن يشفع لهما إليها ، فسألها أمير المؤمنين ( عليه السلام ) فأجابت ، فلما دخلا عليها قالا لها : كيف أنت يا بنت رسول الله ؟ قالت : بخير بحمد الله . ثم قالت لهما : ما سمعتما النبي ( صلى الله عليه وآله ) يقول : " فاطمة بضعة مني ، فمن آذاها فقد آذاني ، ومن آذاني فقد آذى الله " ؟ قالا : بلى . قالت : فوالله ، لقد آذيتماني . قال : فخرجا من عندها وهي ساخطة عليهما . "
▪️ابوالحسین محمد بن ہارون بن موسیٰ التلعکبری نے کہا:
مجھے میرے والد نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا:
مجھے ابو علی محمد بن ہمام بن سہیل (رضی اللہ عنہ) نے حدیث سنائی (وفات 332ھ)،
انہوں نے روایت کی احمد بن محمد بن البرقی (وفات 280ھ) سے،
انہوں نے روایت کی احمد بن محمد الاشعری القمی سے،
انہوں نے عبدالرحمن بن بحر (وفات 224ھ) سے،
انہوں نے عبداللہ بن سنان سے،
انہوں نے ابن مسکان سے،
انہوں نے ابو بصیر سے،
اور انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی، جنہوں نے فرمایا:
📃 فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ولادت جمادی الثانی کے مہینے کی بیسویں تاریخ کو ہوئی، اُس وقت نبی اکرم ﷺ کی ولادت کو پینتالیس سال گزر چکے تھے۔
آپ نے مکہ میں آٹھ سال، مدینہ میں دس سال گزارے، اور اپنے والد کی وفات کے پچھتر دن بعد دنیا سے رخصت ہوئیں۔
آپ کی وفات جمادی الثانی کی تیسری تاریخ، منگل کے دن، گیارہ ہجری میں ہوئی۔
اور آپ کی وفات کا سبب یہ تھا کہ قنفذ نامی شخص، جو عمر کا غلام تھا، عمر کے حکم پر تلوار کے نیام کے پچھلے حصے سے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو مارا
جس کے نتیجے میں آپ کا بیٹا محسن شہید (ساقط) ہو گیا، اور آپ اسی زخم کی شدت سے سخت بیمار ہو گئیں۔
پھر آپ نے فیصلہ کر لیا کہ اُن لوگوں میں سے کسی کو بھی، جنہوں نے آپ کو تکلیف پہنچائی تھی، اپنے پاس بھی نہ ہونے دیں۔
بعد میں وہ دو اصحابِ رسول ﷺ (ابوبکر اور عمر) نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں اجازت دے دیں کہ ہم حاضر ہو کر معذرت کر سکیں۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے پوچھا، تو آپ نے اجازت دے دی۔
جب وہ دونوں داخل ہوئے تو انہوں نے کہا:
"اے رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی! آپ کیسی ہیں؟"
حضرت نے فرمایا:
"اللہ کا شکر ہے، میں ٹھیک ہوں۔"
پھر فرمایا:
"کیا تم نے رسولِ خدا ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا تھا کہ:
‘فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو اسے اذیت دے وہ مجھے اذیت دیتا ہے، اور جو مجھے اذیت دے وہ خدا کو اذیت دیتا ہے؟’"
انہوں نے کہا: "جی ہاں، سنا تھا۔"
تو حضرت نے فرمایا:
"خدا کی قسم! تم دونوں نے مجھے اذیت دی ہے۔"
پھر امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
وہ دونوں وہاں سے اس حال میں واپس چلے گئے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ان دونوں پر ناراض تھیں۔
📚 دلائل الامامة ص۴۵
✅ یہ روایت کتبِ رجال و حدیثِ شیعہ میں معتبر اسناد سے منقول ہے، اور اس کے راوی (ابن ہمام، ابن البرقی، الاشعری القمی، ابن سنان وغیرہ) تمام ثقہ (قابلِ اعتماد) راوی ہیں۔
🗃 اس حدیث کی صحت (صحیح السند) ہونے پر شیعہ علما کی 17 تصحیحات اگلی پوسٹ پر پیش کر رہا ہوں، تاکہ اہلِ عقل پر حجت تمام ہو جائے۔
بدر علی:
#بدر_علی
#طالب_دعا
#استشهاد_فاطمة_الزهراء
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
#تعلیمات_اہلبیتؑ
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen