Back to سیدہ فاطمہ بنت محمد ص

کیا سیدہؑ شیخین سے راضی ہو گئی تھیں؟ اہلسنت ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن کی زبانی

کیا سیدہؑ شیخین سے راضی ہو گئی تھیں؟ اہلسنت ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن کی زبانی

حضرت فاطمہ زہراؑ اپنے گھر واپس آئیں اور وہیں ٹھہر گئیں۔ صبح ہوتے ہی اچانک انہوں نے دروازے کے قریب شور و غل سنا، اور اُن تک عمر بن خطاب کی آواز پہنچی جو گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ قسمیں کھا کر دھمکی دے رہے تھے کہ وہ علیؑ کو بیعت پر مجبور کریں گے تاکہ فتنہ نہ پھیلے اور مسلمانوں کی جماعت منتشر نہ ہو۔

 

اس پر حضرت زہراؑ نے بھرپور درد و غم کے ساتھ پکارا:

 

"اے میرے بابا، اے رسولِ خدا! آپ کے بعد ہمیں ابنِ خطاب اور ابنِ ابی قحافہ سے کیا کچھ سہنا پڑا!"

 

یہ سن کر لوگ بلند آواز سے رونے لگے۔ عمر مایوس اور شکست خوردہ واپس پلٹ گیا۔ پھر وہ ابوبکر کے پاس گیا اور دونوں نے فیصلہ کیا کہ حضرت فاطمہؑ کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔ دونوں نے دروازہ پر اجازت چاہی، مگر سیدہؑ نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہ دی۔ یہاں تک کہ حضرت علیؑ آئے اور انہیں گھر میں داخل کرایا۔

 

جب ابوبکر اور عمر اندر آئے تو انہوں نے سلام کیا، لیکن حضرت فاطمہؑ نے منہ پھیر لیا اور غصّے سے رخ دیوار کی طرف موڑ لیا۔

 

ابوبکر نے بات شروع کی اور کہا:

 

"اے رسولِ خدا کی محبوب بیٹی! خدا کی قسم، رسولِ خدا سے میری قرابت میری اپنی قرابت سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔ اور تم مجھے اپنی بیٹی عائشہ سے بھی زیادہ عزیز ہو۔ جس دن تمہارے والد کا انتقال ہوا، میں نے خواہش کی تھی کہ کاش میں مرجاتا اور تمہاری جدائی کا دن نہ دیکھتا۔ کیا تم سمجھتی ہو کہ میں تمہیں پہچانتا نہیں؟ تمہاری فضیلت و شرف سے ناواقف ہوں؟ اور تمہیں تمہارے حق اور تمہارے باپ کے ترکے سے محروم کر دوں؟ مگر میں نے رسولِ خدا کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ہم انبیاء وارث نہیں چھوڑتے، جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔"

 

حضرت فاطمہؑ نے فرمایا:

 

"اگر میں تم دونوں کو رسولِ خدا کی ایک حدیث سناؤں، کیا تم اسے مانو گے؟"

 

دونوں نے کہا: "ہاں۔"

 

حضرت زہراؑ نے فرمایا:

 

"میں تم دونوں کو خدا کی قسم دیتی ہوں، کیا تم نے رسولِ خدا کو یہ فرماتے نہیں سنا: فاطمہ کی رضامندی میری رضامندی ہے، اور فاطمہ کا غضب میرا غضب ہے۔ جس نے فاطمہ کو خوش کیا اُس نے مجھے خوش کیا، اور جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا۔؟"

 

وہ دونوں بولے: "ہاں، ہم نے یہ رسولِ خدا سے خود سنا ہے۔"

 

اس پر حضرت زہراؑ نے فرمایا:

 

"میں خدا اور اُس کے فرشتوں کو گواہ بناتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے غضبناک کیا ہے؛ تم نے مجھے راضی نہیں کیا۔ اور میں رسولِ خدا سے تم دونوں کی شکایت کروں گی۔"

 

یہ سن کر دونوں سخت گھبرا گئے۔ ابوبکر روتے ہوئے لوگوں کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ وہ اس کی بیعت واپس لے لیں، مگر لوگوں نے انکار کر دیا تاکہ کوئی فتنہ نہ کھڑا ہو۔

 

📚 موسوعة آل النبی،عائشة محمد علی ص614و615، الناشر: دار الکتاب العربی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1