نواصب کی جانب سے ایک نئے اعتراض کا جواب
نواصب کی جانب سے ایک نئے اعتراض کا جواب
نواصب کی جانب سے ایک نئے اعتراض کا جواب
نواصب کی جانب سے ایک نئے اعتراض کا جواب

نواصب کی طرف سے اعتراض کہ شیعہ کی کتب میں دروازہ سیدہ ص کو جلانے والے واقعہ کے زیل میں لکھا ہے کہ انہوںؐ نے عمر کا گریبان پکڑا۔۔۔۔

 

اول تو روایت ضعیف ہے جواب نہ بھی دیں تو مسلہ نہیں

 

📚 مراة العقول ج۵ ص ۳۴۲

 

مگر 

 

روایت میں کوئی خرابی نہیں کیوں کہ سیدہ نے یہ ظالم کے ظلم سے بچنے کیلئے دفاع کے تحت کیا جیسا کہ روایت میں ہے کہ

 

📜 "أَخَذَتْ" یعنی سیدہؑ نے مجبوری کے تحت یہ کام کیا، تاکہ امیرالمؤمنینؑ کو ظالموں سے نجات دلائیں۔

 

👈 اور یہ تمام انسانوں پر واجب تھا۔

 

اور علمہ مجلسی لکھتے ہیں کہ ایک قول یہ بھی ہے کہ یعنی سیدہؑ کو اس کام کا حکم الہی یعنی فریضہ تھا، 

 

جیسے کہا جاتا ہے: "امیر نے چور کا ہاتھ کاٹا"

 

✅ یعنی جیسے حاکم چور کو سزا دینے پر مجبور ہوتا ہے، ویسے ہی حضرت فاطمہؑ دفاع میں مجبور ہوکر ایسا قدم اٹھانے پر آمادہ ہوئیں۔

 

▪️بلکل اسی طرح جس طرح حضرت نائلہ جناب عثمان کے دفاع میں قاتلوں سے الجھ پڑیں اور زخمی ہو گئیں

 

▪️اور جس طرح تاریخ میں یہ بھی ملتا ہے جنگوں میں ظالموں کے ظلم سے زخمی ہونے والوں کی دیکھ بھال کرنے اور مجاہدین کے کھانے اور پانی کے بندوبست کیلئے عورتیں بھی میدان عمل میں ہوتی تھیں اپنے شرعی پردے میں رہتے ہوئے

 

▪️ اور جیسا کہ تاریخ میں ملتا ہے کہ سیدہ زینب ص نے بھی ظالموں کے ظلم سے امام علی ابن الحسین ع کو بچایا

 

▪️ خود جناب زھراء ص کا اپنے بابا ص کو مشرکین مکہ کے ظلم سے بچانے کی روایات ملتی ہیں

 

نوٹ: سیدانیوں نے ظالموں کے مقابلے میں یہ دفاع اپنے پورے شرعی پردے میں کیا ہے اس لیے طعن کرنا جہالت ہے

 

بدر علی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4