Back to آگ دارِ بتول سلام اللہ علیہا پر

کیا حضرت علی(ع) نے فرمایا کہ اھلبیت کے گھر کے دروازے نہیں ھوتے؟

کیا حضرت علی(ع) نے فرمایا کہ اھلبیت کے گھر کے دروازے نہیں ھوتے؟

❓کیا حضرت علی(ع) نے فرمایا کہ اھلبیت کے گھر کے دروازے نہیں ھوتے؟

 

اورجب دروازہ ھی نہیں تھا تو عمر نے کیسےجلایا؟

 

✅ *جواب*

 

خصال شیخ صدوق.رح میں ایک ضعیف روایت ھے

جس کو علامہ مجلسی۔رح نے بحارالانوار میں نقل کیا ھے کہ

 

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ اھلبیت کےگھروں کی چھتیں اور دروازے نہیں ھوتے اور نہ ھی پردہ ھوتاھے

 

*سند روایت*

 

📜 حدثنا ابی و محمد بن الحسن رضی اللہ عنھما قالا حدثنا سعد بن عبداللہ قال حدثنااحمد بن الحسین بن سعید قال حدثنی جعفوبن محمد النوفلی عن یعقوب بن یزیدقال قال ابوعبداللہ جعفربن احمد بن محمدبن عیسی بن محمدبن علی بن عبداللہ بن جعفربن ابی طالب قال حدثنایعقوب بن عبداللہ الکوفی قال حدثناموسی بن عبیدہ____الی آخر

 

*اصل روایت*

 

🅾نحن اهل بیت محمد ص لا سقوف لبیوتنا و لا ابواب و لا ستور(1)

 

🚭 اور وھابی اس سےیہ استدلال کرتےھیں کہ حب حضرت زھراء علیھاالسلام کےگھرکادروازہ ھی نہیں تھا تو عمر کا دروازہ جلانےکاواقعہ جھوٹ پر مبنی ھے

 

✅ *تفصیلی جواب* ✅

 

1⃣ پہلا راوی

 

شیخ صدوق.رح نےجو روایت نقل کی ھے اس کی سند ضعیف ھے

سند میں احمدبن الحسین بن سعیدنام کا راوی ھے جس کو علماء نے ضعیف الحدیث اور غالی کہا ھے(2)

 

اور اہلسنت کے نذدیک بھی یہ راوی ضعیف ھے

 

2⃣ دوسرا راوی

 

جعفر بن محمد النوفلی اس کےشیعہ ھونے کے بارے میں ایک ھی روایت ھےجس کا راوی بھی خود نوفلی ھے(3)

 

اور اس کے موثق ھونےکی کوئی محکم دلیل نہیں ھے اہلسنت منابع میں بھی مجھول ھے

 

3⃣ تیسرا راوی

 

جعفربن احمدبن محمدبن عیسی مجھول ھےکسی شیعہ کتب رجال میں اس کا ذکر تک نہیں

 

اوراہلسنت کی کتب رجال میں بھی مجھول ھے

 

4⃣ چوتھا راوی

 

یعقوب بن عبداللہ الکوفی مجھول ومھمل ھے

 

5⃣ پانچواں راوی

 

موسی بن عبیدہ بن نشیط یہ راوی بھی شیعہ کتب میں مجھول ھے

اہلسنت کی نظرمیں بھی ضعیف ھے

 

🔴 یہ رھا روایت کی سند کا حال اس کےعلاوہ اگر عقل سےسوچا جائے تو یہ روایت روایت سدالابواب سے جوکہ

تواتر سے ثابت ھے تضاد رکھتی ھے

 

👈 روایت سدالابواب میں رسول خدا.ص حکم دے رھے ھیں کہ علی(ع) کےعلاوہ سب کے دروازے بند کردو تو جب دروازہ ھی نہیں تھا تو بند کرنے یا کھلا رہنے کا حکم دینا کیا معنی رکھتا ھے؟

 

روایت سدالابواب صحیح سند سے

ابن حجر فتح الباری میں روایت کو نقل کرتے ھوئےکہتا ھےکہ

 

مسجد میں اصحاب کےدروازوں کوبند کرنےکے بارے میں بہت سی احادیث صحیح سند کےساتھ آئی ہیں جو ابوبکر کے دروازے کےمسجد میں کھلے رھنے کےخلاف ہیں

 

ان میں سے سعد بن ابی وقاص کی روایت ھےکہ رسول خدا.ص نےحضرت علی(ع) کےدورازے کے علاوہ سب اصحاب کےدروازوں کوبند کروادیا

 

اصل روایت

 

📚 إبن حجر - فتح الباري شرح صحيح البخاري - كتاب فضائل الصحابة - باب قول النبي (ص) سدوا الأبواب إلا باب أبي بكر - رقم الصفحة : ( 18 )

 

📜 ( تنبيه ) : جاء في سد الأبواب التي حول المسجد أحاديث يخالف ظاهرها حديث الباب منها حديث سعد بن أبي وقاص ، قال : أمرنا رسول الله (ص) بسد الأبواب الشارعة في المسجد وترك باب علي ، أخرجه أحمد والنسائي وإسناده قوي

 

ثابت ھوا کہ روایت جھوٹی ھےاوراس سےاستدلال غلط ھے البتہ روایات کےعلاوہ قرآن پاک میں بھی مدینہ کےگھروں کے دروازے ھونےکاذکر موجود ھے

 

🔴 *آیات ملاحظہ کریں*

 

📜 لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰٓ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَآئِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُٓ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰٓ أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

 

📃 نابینا کے لئے کوئی حرج نہیں ہے اور لنگڑے آدمی کے لئے بھی کوئی حرج نہیں ہے اور مریض کے لئے بھی کوئی عیب نہیں ہے اور خود تمہارے لئے بھی کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں اور نانی دادی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے(یا جن گھروں کی کنجیاں) تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالو .... اور تمہارے لئے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ سب مل کر کھاؤ یا متفرق طریقہ سے کھاؤ بس جب گھروں میں داخل ہو تو کم از کم اپنے ہی اوپر سلام کرلو کہ یہ پروردگار کی طرف سے نہایت ہی مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے اور پروردگار اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح طریقہ سے بیان کرتا ہے کہ شاید تم عقل سے کام لے سکو(٦١)

 

النور - 61

 

آیت میں صریح طورپر کنحیوں یعنی چابیوں کاذکرھےاورواضح ھےکہ چابی دورازے پر لگے ھوئے تالی میں لگتی ھے

 

دوسری آیت

 

📜 وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَىٰ ۗ وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

 

📃 اور یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ مکانات میں پچھواڑے کی طرف سے آﺅ،بلکہ نیکی ان کے لئے ہے جو پرہیزگار ہوں اور مکانات میں دروازوں کی طرف سے آئیں اور اللہ سے ڈرو شاید تم کامیاب ہو جاﺅ

 

البقرة - 189

 

اس آیت میں بھی دراوزوں کاذکر موجود ھے

 

پس ثابت ھوا 

 

1⃣ اول 

روایت کے پانچ راوی ضعیف ومجھول ومھمل ھیں

 

2⃣ دوم

یہ روایت حدیث سدالابواب سےتضاد رکھتی ھے

 

3⃣ سوم

یہ روایت قرآن پاک کی آیات کےخلاف ھے

 

✅ اور جو روایت قرآن کےخلاف ھواس کو ویسےھی قبول نہیں کیاجاتا

 

*حوالہ جات*

 

📚 1.الخصال ص 364

📚 2.فھرست نجاشی ص77+فھرست شیخ طوسی ص 55+رحال شیخ طوسی ص415+رجال الغضائری ص40

📚 3.الخصال ج 2 ص 365

 

منقول

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1