Back to آگ دارِ بتول سلام اللہ علیہا پر

حضرت علی کی گھر میں موجودگی کے باوجود حضرت فاطمہ دروازہ پر کیوں تشریف لے گئیں؟

حضرت علی کی گھر میں موجودگی کے باوجود حضرت فاطمہ دروازہ پر کیوں تشریف لے گئیں؟
حضرت علی کی گھر میں موجودگی کے باوجود حضرت فاطمہ دروازہ پر کیوں تشریف لے گئیں؟
حضرت علی کی گھر میں موجودگی کے باوجود حضرت فاطمہ دروازہ پر کیوں تشریف لے گئیں؟

⁉️ *اعتراض*:

 

❓حضرت علی کی گھر میں موجودگی کے باوجود حضرت فاطمہ دروازہ پر کیوں تشریف لے گئیں؟

 

✅ جواب:

 

1⃣ اولاً:جو چیز روایات میں موجود ھے اس سے معلوم ھوتا ھے حضرت فاطمہ دروازہ کے ساتھ ھی بیٹھی تھی اور جیسے ھی عمر و اس کے ساتھیوں کو آتے دیکھا تو دروازہ بند کر دیا۔

 

▪️مرحوم عیاشی اپنی تفسیر اور شیخ مفید الاختصاص میں نقل کرتے ھیں کہ،

 

📜 قال: قال عمر قوموا بنا إليه فقام أبو بكر وعمر وعثمان وخالد بن الوليد و المغيرة بن شعبة وأبو عبيدة بن الجراح وسالم مولي أبي حذيفة وقنفذ وقمت معهم فلما انتهينا إلي الباب فرأتهم فاطمة صلوات الله عليها أغلقت الباب في وجوههم وهي لا تشك أن لا يدخل عليها إلا باذنها، فضرب عمر الباب برجله فكسره، وكان من سعف، ثم دخلوا فأخرجوا عليا ( عليه السلام ) ملببا....

 

📃 عمر نے کہا کھڑے ھو جاؤ تا کہ علی کے پاس جائیں بیعت لینے،

ابوبکر،عثمان،عمر،خالد بن ولید،المغیرہ بن شعبہ،ابو عیبید بن جراح و سالم مولی ابی حذیفہ اور قنفذ مولا علی کے گھر کیطرف چل دیے ،جیسے ھی گھر کے قریب پہنچے جناب فاطمہ ع نے آپ کو دیکھا اور دروازہ بند کر دیا اور آپ کو شک نہیں تھا کہ بغیر اذن کے یہ لوگ گھر میں داخل ھو جائیں گیں،

عمر نے دروازہ کو جو کہ کھجور کی *شاخوں* سے بنا ھوا تھا زور سے ٹانگ ماری اور گھر میں داخل ھو گیا اور امام علی گھر سے باھر لے آئے۔

 

📚 السمرقندي المعروف بالعياشي، أبي النضر محمد بن مسعود بن عياش السلمي (متوفاي320هـ)،

تفسير العياشي، ج2، ص67، 

تحقيق: تحقيق وتصحيح وتعليق: السيد هاشم الرسولي المحلاتي، ناشر: المكتبة العلمية الإسلامية - طهران.

الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبري، البغدادي (متوفاي413هـ) الاختصاص ص 186، تحقيق: علي أكبر الغفاري، السيد محمود الزرندي، ناشر: دار المفيد للطباعة والنشر والتوزيع - بيروت، الطبعة: الثانية، 1414هـ - 1993 م.

 المجلسي، محمد باقر (متوفاي 1111هـ)، بحار الأنوار 28، ص 227، تحقيق: محمد الباقر البهبودي، ناشر: مؤسسة الوفاء - بيروت - لبنان، الطبعة: الثانية المصححة، 1403 - 1983 م.

 

▪️روایت سلیم میں بھی نقل ھوا ھے کہ:

 

📜 ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّي انْتَهَي إِلَي بَابِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةُ عليهما السلام قَاعِدَةٌ خَلْفَ الْبَابِ قَدْ عَصَبَتْ رَأْسَهَا وَنَحَلَ جِسْمُهَا فِي وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وآله فَأَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّي ضَرَبَ الْبَابَ ثُمَّ نَادَي يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ [افْتَحِ الْبَابَ ] فَقَالَتْ فَاطِمَةُ يَا عُمَرُ مَا لَنَا وَلَكَ لَا تَدَعُنَا وَمَا نَحْنُ فِيهِ قَالَ افْتَحِي الْبَابَ وَإِلَّا أَحْرَقْنَاهُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ يَا عُمَرُ أَمَا تَتَّقِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَدْخُلُ عَلَي بَيْتِي وَتَهْجُمُ عَلَي دَارِي فَأَبَي أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ دَعَا عُمَرُ بِالنَّارِ فَأَضْرَمَهَا فِي الْبَابِ فَأَحْرَقَ الْبَابَ.

 

📃 عمر گھر کے قریب پہنچا،اس وقت حضرت فاطمہ پشتِ در بیٹھی تھی اور اپنے سر کو باندھا ھوا تھا اور آپ اپنے بابا کی جدائ میں نحیف اور کمزور ھو چکی تھی،

 

عمر نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا اے ابوطالب کے بیٹے دروازہ کھولو ،

 

بی بی نے جواب دیا:

 

تمھیں ھم سے کیا سروکار ھے ھمیں اس مصیبت کے وقت میں تنھا چھوڑ دو،

 

عمر نے کہا دروازہ کھولو وگرنہ آگ لگا دوں گا ،

 

بی بی نے فرمایا:

آیا تجھے خدا کا بلکل بھی ڈر نہیں ھے جو بغیر اجازت ھمارے گھر میں داخل ھو جاؤ گے،

 

عمر واپس نہ پلٹا اور دروازہ کو آگ لگا دی،

 

📚 الهلالي، سليم بن قيس (متوفاي80هـ) كتاب سليم بن قيس، ص 864، تحقيق محمد باقر الأنصاري، ناشر: انتشارات هادي ـ قم ، الطبعة الأولي، 1405هـ.

 

2⃣ *ثانیاً* :

دوسرا یہ کہ بی بی کو شک بھی نہ تھا کہ یہ لوگ بغیر اجازت گھر میں داخل ھو جائیں گیں،

 

کیونکہ نصِ قرآن ھے کہ بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل نہ ھو،

 

📜 يَأَيهَُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَدْخُلُواْ بُيُوتًا غَيرَْ بُيُوتِكُمْ حَتيَ تَسْتَأْنِسُواْ وَتُسَلِّمُواْ عَليَ أَهْلِهَا ذَالِكُمْ خَيرٌْ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ.

فَإِن لَّمْ تجَِدُواْ فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتيَ يُؤْذَنَ لَكمُ ْ وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُواْ فَارْجِعُواْ هُوَ أَزْكيَ لَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيم .

النور / 27 و 28.

 

⭕ *مختصراً آخر میں ایک روایت اھل سنت منابع سے نقل کر کے موضوع کو تمام کرتے ھیں۔*

 

❓کہ خود ھمسرانِ پیامبر بھی نامحرموں کے دروازہ پر دستک دینے پر دروازہ پر جاتی تھی،

 

🔵 *جناب ام سلمہ کا امام علی کے لیے دروازہ کھولنا:*

 

📜 عن علقمة عن عبد الله قال خرج رسول الله ( صلي الله عليه وسلم ) من بيت زينب بنت جحش وأتي بيت أم سلمة فكان يومها من رسول الله ( صلي الله عليه وسلم ) فلم يلبث أن جاء علي فدق الباب دقا خفيفا فانتبه النبي ( صلي الله عليه وسلم ) للدق وأنكرته أم سلمة فقال رسول الله ( صلي الله عليه وسلم ) قومي فافتحي له

 

📃 رسول خدا زینب بنت جحش کے گھر سے نکلے اور ام سلمہ کے گھر تشریف لے گئے،

کیونکہ اس دن آپ ص کی جناب ام سلمہ کے گھت تشریف لے جانے کی باری تھی،

تھوڑا وقت بھی نہ گزرا کہ امام علی ع نے آھستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا،

رسول خدا بیدار ھوئے اور جناب ام سلمہ نے بھی کوئ جواب نہ دیا،

*ایسے میں پیامبر نے فرمایا اٹھو اور دروازہ کھولو،*

 

📚 ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله،(متوفاي571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 42، ص 470، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995

الرافعي القزويني، عبد الكريم بن محمد (متوفاي623 هـ)، التدوين في أخبار قزوين، ج 1، ص 89، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت تحقيق: عزيز الله العطاري، 1987م.

 

▪️اس کے علاوہ بھی روایات ھیں کہ 

 

🔵 *عائشہ نے امام علی کے لیے پیامبر کے حکم سے دروازہ کھولا،*

 

*نتیجتاً*

 

👈 حضرت فاطمہ دروازہ کھولنے تشریف نہیں لے گئ بلکہ پشتِ در ھی تشریف فرما تھی،

 

ثانیاً اگر اس مطلب کو قبول بھی کر لیا جائے کہ بی بی دروازہ پر تشریف لے گئ پھر بھی اس دلیل کیساتھ کہ یہ صورتحال خود پیامبر ص کے دور میں بھی پیش آئ اور آپ نے اپنے زوجات کو حکم دیا کہ دروازہ کھولو،

 

💯 آپ کا یہ اعتراض باقی نہیں رھتا۔

 

وما علینا الاالبلاغ

وسلام

 

🖋 خیر طلب

 

منقول

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3