Back to آگ دارِ بتول سلام اللہ علیہا پر

عمر ابو النصر (اہلِ سنت کے لبنانی مؤرخ و ادیب) کا اعتراف

عمر ابو النصر (اہلِ سنت کے لبنانی مؤرخ و ادیب) کا اعتراف
عمر ابو النصر (اہلِ سنت کے لبنانی مؤرخ و ادیب) کا اعتراف
عمر ابو النصر (اہلِ سنت کے لبنانی مؤرخ و ادیب) کا اعتراف
عمر ابو النصر (اہلِ سنت کے لبنانی مؤرخ و ادیب) کا اعتراف
عمر ابو النصر (اہلِ سنت کے لبنانی مؤرخ و ادیب) کا اعتراف
عمر ابو النصر (اہلِ سنت کے لبنانی مؤرخ و ادیب) کا اعتراف
عمر ابو النصر (اہلِ سنت کے لبنانی مؤرخ و ادیب) کا اعتراف

🔴 عمر ابو النصر (اہلِ سنت کے لبنانی مؤرخ و ادیب) کا اعتراف: ہجوم بر خانۂ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

 

اہلِ سنت کے معروف لبنانی مؤرخ اور ادیب عمر ابو النصر (وفات: 1960ء) نے اپنی کتاب "فاطمة بنت محمد" میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ:

 

📜 “عمر بن خطاب نے امت میں اتحاد پیدا کرنے اور تفرقے سے بچانے کے بہانے سے

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر ہجوم کیا،

تاکہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام سے زبردستی بیعت لی جا سکے۔”

 

یہ مؤرخ شیعہ مخالف ہونے کے باوجود اس تاریخی واقعے کا ذکر واضح طور پر کرتا ہے،

اور اپنی کتاب میں (صفحات 115 تا 120) اس اختلاف کی تفصیل بیان کرتا ہے

جو ایک طرف حضرت علی و حضرت فاطمہ علیہما السلام اور دوسری طرف ابوبکر و عمر کے درمیان بیعتِ ابوبکر کے موقع پر پیش آیا۔

 

📚 ماخذ:

ابو النصر، عمر (وفات: 1960ء)

فاطمة بنت محمد، صفحات 115–120

ناشر: المکتبۃ الأهلیۃ

طباعت: اول، 1353ھ / 1935م

 

#invisible_islam 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7