Back to آگ دارِ بتول سلام اللہ علیہا پر

در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-5

در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-5
در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-5

🔴 اہلِ سنت کے دو نئے اسناد پیش کیے جا رہے ہیں جو اسلم کی براہِ راست موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں اُس واقعے میں جب حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیها کے گھر کو جلانے کی کوشش کی گئی۔

 

زیدیہ (اہلِ سنت کے قریب ایک فرقے) کی کتابوں میں ایسی روایات موجود ہیں جو واضح طور پر اسلم کی اس واقعے میں موجودگی بیان کرتی ہیں ، درحقیقت اُن کے اپنے بیان کے مطابق وہ اُن لوگوں میں شامل تھا جو حضرت علی علیہ السلام کے دروازے پر ہیزم (لکڑیاں) لے کر گئے۔

 

⭕ ابوالعباس احمد بن ابراہیم حسنی (متوفی 353 ہجری) اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

 

▪️ محمد بن جعفر الحداد السروی نے اپنی سند کے ساتھ زید بن اسلم سے، اور اُس نے اپنے والد سے روایت کی:

 

📜 "میں اُن لوگوں میں سے تھا جو حضرت علی علیہ السلام کے دروازے پر ہیزم (لکڑیاں) لے گئے۔ عمر نے کہا: خدا کی قسم، اے علی! اگر تم باہر نہ آئے تو میں گھر کو اُن سب پر جلا دوں گا جو اس میں ہیں۔"

 

اسی طرح:

 

▪️ محمد بن جعفر الحداد نے اپنی سند کے ساتھ زید بن اسلم سے، اور اُس نے اپنے والد سے روایت کی:

 

📜 "میں اس دن موجود تھا جب عمر بن خطاب حضرت فاطمہ سلام الله علیها کے گھر کو جلانا چاہتا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا: اگر وہ (اہلِ بیت) باہر آ کر ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت نہ کریں تو میں ان کے گھروں کو جلا دوں گا۔ میں (اسلم) نے عمر سے کہا: اس گھر میں فاطمہ ہیں! کیا تم پھر بھی اسے جلاؤ گے؟

عمر نے کہا: میں اور فاطمہ (قیامت کے دن) آمنے سامنے ہوں گے۔"

 

📚 کتاب: المصابیح، ابوالعباس حسنی، صفحات 259–260 (مؤسسة الإمام زيد بن علي الثقافية)

 

⭕ یہی دونوں روایتیں متصل سند کے ساتھ زیدی عالم المنصور باللّٰه عبد الله بن حمزہ بن سلیمان (متوفی 614 ہجری) نے اپنی کتاب میں ابوالعباس حسنی سے نقل کی ہیں:

 

📜 "میں اُن لوگوں میں تھا جو حضرت علی علیہ السلام کے دروازے پر لکڑیاں لے گئے۔ عمر نے کہا: خدا کی قسم، اگر علی بن ابی طالب باہر نہ آئے تو میں اس گھر کو اُس میں موجود لوگوں سمیت جلا دوں گا۔"

 

📜 "میں گواہ تھا جب عمر بن خطاب نے ارادہ کیا کہ حضرت فاطمہ کے گھر کو جلائے، اور کہا: اگر وہ بیعت کے لیے باہر نہ آئیں تو میں ان پر گھر جلا دوں گا۔ میں نے کہا: اس گھر میں فاطمہ ہیں! کیا تم اُسے بھی جلاؤ گے؟ عمر نے کہا: ہم (میں اور فاطمہ) آمنے سامنے ہوں گے۔"

 

📚 کتاب: الشافی، عبدالله بن حمزه الحسني، جلد 4، صفحہ 475 (منشورات مكتبة أهل البيت)

 

⭕ ان روایات میں اسلم خود تصریح کرتا ہے کہ:

 

📜 "میں موجود تھا جب عمر بن خطاب نے حضرت فاطمہ سلام الله علیها کے گھر کو جلانا چاہا، اور میں اُن میں سے تھا جو حضرت علی علیہ السلام کے دروازے پر لکڑیاں لے کر گیا۔"

 

یہ روایات واضح کرتی ہیں کہ اسلم کی روایت کے بارے میں سند منقطع (ٹوٹا ہوا) ہونے کا دعویٰ بے بنیاد اور غیر علمی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلم نہ صرف اس واقعے کا گواہ تھا بلکہ خود اُن حملہ آوروں میں شامل تھا جنہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیها کے گھر کا محاصرہ کیا۔

 

🔴 سند کی تحقیق:

 

ان روایات کی سند وہی ہے جو ابن ابی شیبہ کی المصنف میں بیان کی گئی روایت کی ہے، جسے ہم پہلے بھی تحقیق کر چکے ہیں اور اس کی تصحیح اہلِ علم کی طرف سے بھی پیش کر چکے ہیں۔

 

باقی سند زیدی ہے، اور زیدی حضرات اہلِ سنت کے نزدیک معتبر شمار ہوتے ہیں۔ اکثر اہلِ سنت اُنہیں اپنے ہی فرقوں میں سے ایک مانتے ہیں، یہاں تک کہ بعض نے تصریح کی ہے کہ "زیدیہ" اہلِ سنت کی ایک شاخ ہے۔

 

👉 زیدیہ کو امامیہ شیعہ نہیں مانا جاتا، بلکہ وہ عقیدہ اور فقہ میں اہلِ سنت کے بہت قریب ہیں۔

 

اسی لیے فرقوں کی کتابوں کے بہت سے مصنفین نے اقرار کیا ہے کہ زیدیہ اہلِ سنت سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

⭕ ابن تیمیہ کے قول پر اکتفا کرتے ہیں، وہ لکھتا ہے:

 

📜 "شیعہ تین درجے کے ہیں:

 

1⃣ سب سے بدترین وہ ہیں جو غلو کرتے ہیں، یعنی حضرت علی کے لیے خدائی یا نبوت کا درجہ بیان کرتے ہیں ان کا کفر سب مسلمانوں پر ظاہر ہے، اور ان کا کفر نصاریٰ کی طرح ہے، اگرچہ بعض پہلوؤں سے یہودیوں سے مشابہ ہیں۔

 

2⃣ دوسرا درجہ رافضہ (امامیہ وغیرہ) کا ہے جو مانتے ہیں کہ علی نبی کے بعد برحق امام ہیں، ان پر ظلم ہوا اور ان کا حق چھینا گیا، اور وہ ابوبکر و عمر سے دشمنی رکھتے اور ان کو برا بھلا کہتے ہیں۔

 

3⃣ تیسرا درجہ "مُفَضِّلہ" ہے جیسے زیدیہ وغیرہ جو علی کو ابوبکر و عمر سے افضل مانتے ہیں، لیکن ان دونوں کی امامت اور عدالت کو درست سمجھتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں۔

 

اگرچہ ان کا عقیدہ باطل ہے، مگر ان میں اہلِ فقہ و عبادت کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔

 

یہ گروہ سابقہ دو گروہوں کے قریب نہیں، بلکہ رافضہ کی نسبت اہلِ سنت کے زیادہ قریب ہیں، کیونکہ یہ رافضہ سے اس بات میں اختلاف رکھتے ہیں کہ شیخین (ابوبکر و عمر) کی امامت و عدالت درست ہے، اور اہلِ سنت سے اس بات میں اختلاف رکھتے ہیں کہ شیخین علی سے افضل ہیں۔

پہلا اختلاف (یعنی امامتِ شیخین) زیادہ بڑا ہے۔

تاہم یہ زیدیہ اس نردبان کی مانند ہیں جس سے رافضہ اوپر چڑھتے ہیں، پس یہ ان کے لیے ایک دروازہ ہیں۔"

 

📚 مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ، جلد 3، صفحہ 346

 

https://www.islamweb.net/amp/ar/library/content/22/224/%D9%85%D8%B3%D8%A3%D9%84%D8%A9-%D9%85%D8%A7-%D9%8A%D8%AA%D8%B6%D9%85%D9%86%D9%87-%D9%82%D9%88%D9%84-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84-%D8%AA%D9%81%D8%AA%D8%B1%D9%82-%D8%A3%D9%85%D8%AA%D9%8A-%D8%AB%D9%84%D8%A7%D8%AB%D8%A9-%D9%88%D8%B3%D8%A8%D8%B9%D9%8A%D9%86-%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%A9?idfrom=303&idto=304&start=1

 

نیز بعض کتابوں میں آیا ہے کہ:

 

📜 "زیدیہ، شیعہ میں سے وہ گروہ ہے جو امامیہ کے سب سے زیادہ مخالف ہیں۔"

 

📚 تہذیب الأحکام، جلد 4، صفحہ 53

 

👆 جبکہ ہم شیعہ امامیہ، زیدیہ (جو اہلِ سنت کے قریب ہیں) کے برعکس یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر کی خلافت با///طل ہے، اور یہ دونوں امیرالمؤمنین علی اور حضرت زہرا سلام الله علیهما کے حق کے غاصب اور حضرت زہرا سلام الله علیها کے قاتل ہیں۔

 

✅ نتیجہ:

 

ان دو نئی سندوں کے پیش ہونے کے بعد "منقطع سند" کا اعتراض ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ روایت کا اصل راوی "زید بن اسلم" نہیں بلکہ "زید بن اسلم عن أبیه أسلم" ہے  

یعنی زید نے اپنے والد اسلم سے یہ واقعہ روایت کیا ہے۔

لہٰذا سند کے منقطع یا مرسل ہونے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

 

#بدر_علی 

#التماس_دعا 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#استشهاد_فاطمة_الزهراء 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2