Back to آگ دارِ بتول سلام اللہ علیہا پر

در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-4

در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-4
در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-4
در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-4
در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-4
در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-4
در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-4
در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-4
در زہرا سلام اللہ پر حملہ اور دھمکی از کتب مسلک زیدیہ Post-4

🔴 مخالفین کے ماخذوں سے روایت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر ہجوم کے بارے میں

 

▪️ کتاب تثبیت الإمامة کے مصنف یحییٰ بن الحسین الزیدی الیمنی (وفات 298 ہجری) نے ابوبکر و عمر کے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر ہجوم، گھر کو جلانے، ان کے پہلو کے ٹوٹنے، حمل کے ضائع ہونے، اور تازیانے، لات، آگ اور در و دیوار کے درمیان دباؤ سے ہونے والے زخموں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔

 

📜 روایت:

ابوبکر نے عمر سے کہا:

“ایک جماعت کے ساتھ اٹھو، اس شخص (علی) کا دروازہ توڑ دو، اور اسے ہمارے پاس لاؤ تاکہ وہ بھی وہی کرے جو باقی لوگوں نے کیا ہے!”

 

چنانچہ عمر اپنے ساتھیوں کے ساتھ علی علیہ السلام کے دروازے پر گیا۔

انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے انہیں روکا۔

عمر نے انہیں دھکا دیا اور وہ گر گئیں!

 

حضرت فاطمہ نے چیخ کر کہا:

“اے عمر! میں تجھے خدا کی حرمت کا واسطہ دیتی ہوں، میرے گھر میں داخل نہ ہو، میں پردے میں نہیں ہوں، بال کھلے ہیں!”

 

عمر نے کہا:

“اپنا کپڑا لے لو!”

حضرت فاطمہ نے فرمایا: “میرا تم سے کیا تعلق ہے؟”

 

پھر عمر نے دوبارہ کہا: “اپنا کپڑا لے لو، میں اندر داخل ہو رہا ہوں!”

بی بی نے پھر منع کیا، مگر اس نے دھکا دیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اندر داخل ہو گیا۔

 

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ان کے اور اس کمرے کے درمیان آ گئیں جہاں علی علیہ السلام موجود تھے، کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ ان کا رسولِ خدا ﷺ سے قرابت اور کمزوری انہیں علی سے بھی زیادہ احترام کے لائق بناتی ہے۔

 

اسی وقت خالد بن ولید نے ان پر حملہ کیا اور ان کے بازو پر کوڑا مارا، یہاں تک کہ بازو پر نشان بن گیا (زیور کی طرح ابھرا ہوا)۔

 

حضرت فاطمہ چیخ اٹھیں!

تب زبیر تلوار لے کر باہر آئے، تو عمر نے کہا:

“اس شیر کو پکڑ لو!”

 

عبداللہ بن ابی بیعہ نے زبیر کے سینے پر حملہ کیا، اسے پکڑ لیا، تلوار چھین لی، اور اسے توڑ دیا۔

 

پھر وہ سب اندر داخل ہو گئے، علی علیہ السلام کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے باہر نکالا، اور انہیں ابوبکر کے پاس لے گئے۔

 

📚 ماخذِ نسخہ:

تثبیت إمامة أمیرالمؤمنین، مؤلف: یحییٰ بن الحسین بن القاسم بن ابراہیم الہاشمی الحسنی الرسّی (الہادی إلی الحق)،

شماره 1، YEM-000-0329،

محفوظ مقام: یمن،

 

یہ روایت زیدی سند سے ہے، اور زیدی حضرات اہل سنت (عُمَریہ) کے نزدیک قابلِ قبول ہیں۔

 

⭕ اہل سنت کے نزدیک معتبر زیدی مؤلفین میں شامل ہیں:

 

▪️الأمالی الشجریة (یَحییٰ بن الحسین الشجری)

▪️العواصم والقواصم فی الذب عن سنة أبی القاسم (ابن الوزیر الیمنی)

▪️توضیح الأفکار (محمد بن اسماعیل الصنعانی)

▪️نیل الأوطار اور فتح القدیر (محمد بن علی الشوکانی)

 

یہ تمام زیدی علما اہل سنت کے نزدیک مقبول و معتبر شمار کیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ بعض اہل سنت انہیں اپنا حصہ سمجھتے ہیں۔

 

📚 جواهر العقود، منهاجی الأسيوطی، جلد 2، صفحہ 276

📚 بحوث في الملل والنحل، آیت اللہ سبحانی، جلد 7، صفحہ 467

 

خلاصہ:

زیدیہ شیعہ کا وہ گروہ ہے جو اہل سنت کے نزدیک سب سے معتدل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ وہ قیاس، استحسان، اجماع اور صحابی کے قول و فعل کی حجیت میں اہل سنت کے قریب ہیں۔

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#استشهاد_فاطمة_الزهراء 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8