مخالفین کی کتاب شرح الأصول الخمسة سے ماخذ
🔴 مخالفین کے ماخذ سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملے کا ذکر
امام احمد بن الحسین بن ابی ہاشم المعروف مانکَدیم جو معتزلی عالم قاضی عبدالجبار کے شاگرد تھے نے اپنی کتاب شرح الأصول الخمسة میں یہ واقعہ نقل کیا ہے۔
انہوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیعت نہ کرنے اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملے کے واقعے کو بطور احتجاج پیش کیا ہے۔
ان کے الفاظ میں:
📜 "ہم اس بات کو اس صورت میں درست مان سکتے ہیں
اگر یہ ثابت ہو کہ تمام صحابہ یا تو بیعت کرنے والے تھے، یا ان کے پیروکار،
یا ایسے خاموش رہنے والے جن کی خاموشی رضا (راضی ہونے) کی علامت ہو
یہی اجماع کی شکل ہے۔
مگر ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے،
👈 کیونکہ معلوم ہے کہ جب علی علیہ السلام نے بیعت سے انکار کیا تو فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملہ کیا گیا،
اور اسی طرح عمار کو مارا گیا، زبیر کی تلوار توڑ دی گئی، اور سلمان کی توہین کی گئی۔
تو پھر اس سب کے باوجود اجماع کا دعویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے؟
اور خاموش رہنے والوں کی خاموشی کو رضا کی دلیل کیسے بنایا جا سکتا ہے؟!"
📚 شرح الأصول الخمسة، صفحہ 756
یہ کتاب دراصل الاصول الخمسة کی شرح و توضیح ہے،
جو قاضی عبدالجبار معتزلی کی مشہور رسالہ پر مبنی ہے،
جس میں معتزلہ کے پانچ بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں۔
یہ شرح ان کے شاگرد احمد بن الحسین بن ابی ہاشم مانکَدیم مکتبِ ری کے زیدی معتزلی عالم کے قلم سے ہے۔
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
#استشهاد_فاطمة_الزهراء
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen