عمری عالم ابن ابی الحدید اور اسکا اعتراف
🔴 حضرت فاطمہ زہراء سلاماللهعلیها کے گھر پر حملہ، گھر کو آگ لگانے اور ان کی حرمت کی پامالی کا اعتراف ابن ابیالحدید شافعی سنی (سقیفہ پرست) کی زبانی
❓ سوال: عائشہ کے ہودج (پردہ) کا ٹوٹنا گناہِ کبیرہ ہے، مگر فاطمہ زہراء سلاماللهعلیها کے گھر پر حملہ، آگ لگانا اور دروازہ توڑنا ایمان کا جزو کیسے بن گیا؟
▪️ابن ابی الحدید معتزلی، جو اہلِ سنت کے مشہور شافعی عالم ہیں، اپنی مشہور کتاب شرح نہج البلاغہ میں، “ابوالمعالی جوینی کے صحابہ سے متعلق اقوال اور ان پر ردّ” کے عنوان کے تحت جنگِ جمل کے بارے میں لکھتے ہیں:
📜 "اگر کہا جائے کہ فاطمہ (س) کے گھر پر حملہ اور ان کی حرمت شکنی اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے تھی، تاکہ مسلمانوں میں تفرقہ نہ پھیلے، کیونکہ لوگ اس وقت دین سے پھر رہے تھے اور اطاعت چھوڑ رہے تھے
تو جواب میں کہا جائے گا:
جب یہ بات درست ہے تو پھر جنگِ جمل کے موقع پر عائشہ کے ہودج (اونٹ کا خیمہ) پر حملہ بھی اسی طرح درست ہونا چاہیے تھا، کیونکہ عائشہ نے تو بالفعل مسلمانوں کے خلیفۂ وقت (امیرالمؤمنین علیؑ) کے خلاف خروج کیا، اور اس کی وجہ سے خونِ مسلمین بہا، اور صحابہ عثمان بن حنیف، حکیم بن جبلہ اور بہت سے نیک مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔
پس اگر فاطمہ (س) کے گھر پر اس وقت حملہ کرنا جائز تھا جب ابھی کچھ نہیں ہوا تھا، تو عائشہ کے ہودج کو ہتک کرنا بدرجہ اولیٰ جائز ہونا چاہیے تھا، کیونکہ وہ عمل ہو چکا تھا۔
پھر کس طرح یہ ممکن ہے کہ:
👈 عائشہ کے پردے کی ہتک گناہِ کبیرہ قرار پائے جو جہنم میں ہمیشہ کے عذاب کا موجب ہو،
اور اس کے فاعل سے بیزاری کو ایمان کی بنیاد سمجھا جائے،
لیکن
فاطمہ زہراء سلاماللهعلیها کے گھر پر حملہ، ان کے دروازے پر لکڑیاں جمع کرنا، اور انہیں آگ لگانے کی دھمکی دینا ایمان کا جزو قرار پائے؟
عربی متن:
📜 فإن قلتم إن بيت فاطمة إنما دخل و سترها إنما كشف حفظا لنظام الإسلام ...
فإذا جاز دخول بيت فاطمه لأمر لم يقع بعد، جاز كشف ستر عائشة على ما قد وقع و تحقق.
👈 فكيف صار هتك ستر عائشة من الكبائر ... و صار كشف بيت فاطمة و الدخول عليها منزلها و جمع حطب ببابها و تهددها بالتحريق من أوكد عرى الدين؟ 👉
📚 کتاب: شرح نہج البلاغہ
📖 مصنف: ابن ابی الحدید معتزلی شافعی
📕 جلد: 20
📄 صفحہ: 16
https://archive.org/details/sharh_nahj_balagha/%D8%B4%D8%B1%D8%AD%20%D9%86%D9%87%D8%AC%20%D8%A7%D9%84%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%BA%D8%A9%20%D8%AC%2020/page/n20/mode/1up
❓ سوالِ حق و انصاف:
اہلِ سنت عائشہ کے مخالفین کو کافر اور مهدورالدم (قتل کے لائق) قرار دیتے ہیں،
اور ان سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں۔
تو پھر ان لوگوں کا حکم کیا ہے
جنہوں نے فاطمہ زہراء سلاماللهعلیها
جو ابوبکر، عمر، عثمان، عائشہ اور تمام عورتوں سے افضل ہیں
پر حملہ کیا، ان کے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی، اور انہیں شہید کیا؟
کیا عائشہ کے اونٹ کے پردے کی حرمت،
بیتِ وحی (نبی ﷺ کے گھر) سے زیادہ تھی؟
کیوں جو عائشہ کے مخالف ہوں وہ آپ کے نزدیک "یہودی و خبیث" ہیں،
لیکن جو فاطمہ زہراء (س) پر ظلم کریں،
انہیں آپ "مجتہد" کہہ کر راضی ہونے کی دعا دیتے ہیں؟
اپنا موقف واضح کریں:
ان ظالموں کا شرعی حکم کیا ہے
جنہوں نے فاطمہ زہراء (س) کو ستایا،
ان کے دروازے کو آگ لگانے کی دھمکی دی،
اور انہیں شہید کیا؟
بدر علی
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
#استشهاد_فاطمة_الزهراء
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen