Back to آگ دارِ بتول سلام اللہ علیہا پر

تابعی اور امامِ اہل سنت “شَعْبی” (عامر بن شَرَاحیل) کی روایت، معتبر سند کے ساتھ

تابعی اور امامِ اہل سنت “شَعْبی” (عامر بن شَرَاحیل) کی روایت، معتبر سند کے ساتھ
تابعی اور امامِ اہل سنت “شَعْبی” (عامر بن شَرَاحیل) کی روایت، معتبر سند کے ساتھ

🔴 حضرت فاطمہؑ کے گھر پر حملہ : تابعی اور امامِ اہل سنت “شَعْبی” (عامر بن شَرَاحیل) کی روایت، معتبر سند کے ساتھ

 

ابو بکر (احمد بن عبدالعزیز الجوهری) نے روایت کی:

ہم سے ابوزید عمر بن شبہ نے بیان کیا،

انہوں نے کہا: ہمیں ابوبکر باہلی نے خبر دی،

انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل بن مجالد نے بیان کیا،

انہوں نے شَعْبی سے روایت کی کہ:

 

📜 ابوبکر نے پوچھا: "زبیر کہاں ہے؟"

لوگوں نے کہا: "وہ علیؑ کے پاس ہے اور اپنی تلوار صاف کر رہا ہے۔"

ابوبکر نے کہا: "اے عمر! اور اے خالد بن ولید! اٹھو اور دونوں کو میرے پاس لے آؤ۔"

پس عمر اور خالد وہاں گئے؛ عمر گھر کے اندر داخل ہوا اور خالد دروازے کے باہر کھڑا رہا۔

 

عمر نے زبیر سے کہا: "یہ تلوار کس لیے ہے؟"

 

زبیر نے جواب دیا: "ہم علیؑ کے لیے بیعت کریں گے۔"

تب عمر نے زبردستی زبیر کی تلوار کھینچی اور اسے پتھر پر دے مارا حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گئی۔ پھر زبیر کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا، دروازے تک گھسیٹا، اور پکارا:

"اے خالد! آؤ، اسے پکڑ لو۔"

 

پھر عمر علیؑ کی طرف مڑا اور کہا:

"اٹھو اور ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرو!"

 

علیؑ نے انکار فرمایا اور اٹھنے سے گریز کیا۔

 

عمر نے علیؑ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: "اٹھو!"

 

جب علیؑ نے انکار فرمایا تو عمر نے انھیں دھکا دیا اور جیسے زبیر کو گھسیٹا تھا، ویسے ہی علیؑ کو بھی دروازے کی طرف گھسیٹ کر باہر نکالا۔

 

جب حضرت فاطمہؑ نے یہ سب دیکھا کہ عمر نے علیؑ اور زبیر کے ساتھ یہ سلوک کیا، تو وہ حجرے کے دروازے پر آ گئیں اور فرمایا:

 

👉 “ابوبکر! تم نے کتنی جلدی رسولِ خدا ﷺ کے گھرانے پر ظلم ڈھایا!

👉 خدا کی قسم! میں عمر سے کبھی بات نہیں کروں گی یہاں تک کہ اپنے رب سے جا ملوں!”

 

شَعْبی کہتے ہیں: اس واقعے کے بعد ابوبکر خود فاطمہؑ کے پاس گئے،

عمر کے لیے معافی کی درخواست کی اور ان سے صلح چاہی،

آخرکار فاطمہؑ نے اس سے رضامندی ظاہر کی۔

 

📚 ماخذ:

شرح نہج البلاغہ، جلد 2، صفحہ 35

مطابق الجامع الکبیر

مصنف: عزالدین بن ابی الحدید المدائنی

ناشر: دارالکتب العلمیة، بیروت (1418ھ / 1998م)

تحقیق: محمد عبد الکریم النمری

 

⭕ نوٹ : یاد رہے کہ یہ اہل سنت سند سے روایت ہے شعبی خود ناسبی تھا اس نے یہ بات گھڑی کے سیدہ راضی ہو گئیں تھی انشاءﷲ آگے اسکی تفصیل آئے گی

 

⭕ روایت کی سند کا تجزیہ: 

 

1️⃣ عزالدین عبد الحمید بن ابی الحدید المدائنی — ثقہ

 

📜 اہلِ سنت کے مؤرخین جیسے مبارک بن شعار الموصلّی، شمس الدین ذہبی، صلاح الدین صفدی، اور ابن الوزیر الیمانی نے ان کی علمی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔

انہیں شیخ، علامہ، فقیہ، فاضل کہا گیا۔

ابن الوزیر نے لکھا کہ ابن ابی الحدید معتزلی تھے، فقہ شافعی کے عالم تھے، اور ابوبکر و عمر کی تعظیم کرتے تھے۔

 

📚 (مراجع: قلائد الجمان 3/170؛ سیر اعلام النبلاء 23/274؛ الوافی بالوفیات 18/46؛ العواصم والقواصم 2/43، 8/244)

 

2️⃣ ابو بکر احمد بن عبدالعزیز الجوهری (وفات 323ھ) — ثقہ

 

ابو احمد عسکری (وفات 382ھ) جو ذہبی کے نزدیک "الإمام المحدث الأديب العلامة" تھے، کہتے ہیں:

 

📜 "میں نے ابو بکر احمد بن عبدالعزیز الجوهری سے قراءت کی؛ وہ بہت مضبوط، علم میں درست اور ثقہ شخص تھے۔"

 

📚 شرح ما یقع فیه التصحیف والتحریف، جلد 2، صفحہ 457

 

▪️خطيب بغدادی بھی ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ

 

📜 وہ لمبے قد کے بزرگ، حدیث کے حافظ اور ثقہ راوی تھے۔

📚 تاریخ بغداد، جلد 3، صفحہ 133، رقم 1154

 

3️⃣ عمر بن شبّہ — ثقہ (مطابق جوامع الکلم)

 

4️⃣ احمد بن معاویہ الباہلی — ثقہ

 

▪️ابن حِبّان نے ان کا ذکر ثقات میں کیا ہے:

 

📜 "احمد بن معاویة بن بکر الباهلی..."

 

📚 الثقات، جلد 8، صفحہ 41، رقم 12157

 

▪️ خطيب بغدادی فرماتے ہیں:

 

📜"وہ صاحبِ اخبار اور ادب کے راوی تھے، ان میں کوئی عیب نہ تھا۔"

 

📚 تاریخ بغداد، جلد 5، صفحہ 162، رقم 2608

 

5️⃣ اسماعیل بن مجالد — صدوق، حسن الحدیث (مطابق جوامع الکلم)

 

6️⃣ عامر الشَعْبی — ثقہ، امام، علامہ العصر

شمس الدین ذہبی لکھتے ہیں:

 

📜 "الشَعْبی، عامر بن شراحیل بن عبد بن ذی کِبار 

یمن کے اکابر میں سے، اپنے زمانے کے امام اور علامہ تابعین میں سے تھے۔"

 

📚 سیر أعلام النبلاء، جلد 4، صفحہ 294-295

 

🔹 نتیجہ:

 

یہ روایت بھی صحیح السند اور معتبر ہے۔

تابعی امام شَعْبی کے بیان کے مطابق،

ابوبکر کے حکم پر عمر بن خطاب اور خالد بن ولید نے

حضرت علیؑ اور حضرت زبیرؓ کو زبردستی حضرت فاطمہؑ کے گھر سے نکالا،

تلوار توڑی، اور بیعت پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔

 

حضرت فاطمہؑ نے اس ظلم پر شدید احتجاج کیا،

اور قسم کھا کر فرمایا کہ وہ عمر سے بات نہیں کریں گی

جب تک اپنے رب سے ملاقات نہ کریں۔

 

#بدر_علی 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2