تابعی و امامِ اہل سنت "ابوالاَسود" کی روایت کے مطابق (سند معتبر کے ساتھ)
حضرت فاطمہؑ کے گھر پر حملہ : تابعی و امامِ اہل سنت "ابوالاَسود" کی روایت کے مطابق (سند معتبر کے ساتھ)
ابو بکر احمد بن عبدالعزیز نے کہا:
ہمیں ابوزید عمر بن شبّہ نے خبر دی، انہوں نے کہا:
ہم سے ابراہیم بن منذر نے روایت کی، انہوں نے ابن وہب سے،
انہوں نے ابن لہیعہ سے،
اور ابن لہیعہ نے ابو الاسود سے روایت کی کہ:
📜 "مہاجرین میں سے کچھ لوگ اس بات پر ناراض ہوئے کہ ابوبکر کی بیعت ان سے مشورہ کیے بغیر کی گئی۔
علیؑ اور زبیر بھی ناراض تھے، لہٰذا وہ دونوں حضرت فاطمہؑ کے گھر چلے گئے، ان کے ساتھ اسلحہ بھی تھا۔
عمر بن خطاب ایک جماعت کے ساتھ وہاں آیا، جن میں اُسیْد بن حضیر اور سلمہ بن سلامہ بن وقش بھی تھے یہ دونوں بنی عبدالاشهل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔
فاطمہؑ چیخ اٹھیں اور ان سے خدا کا واسطہ دیا۔
مگر انہوں نے علیؑ اور زبیر کے تلواریں پکڑ لیں، انہیں دیوار پر مار مار کر توڑ دیا،
پھر عمر نے ان دونوں کو گھسیٹ کر باہر نکالا یہاں تک کہ وہ بیعت پر مجبور کیے گئے۔"
📚 ماخذ:
شرح نہج البلاغہ، جلد 2، صفحہ 31
(مطابق الجامع الکبیر پروگرام)
مصنف: عزّالدین بن ابی الحدید المدائنی
ناشر: دارالکتب العلمیة، بیروت، 1418ھ / 1998م
تحقیق: محمد عبد الکریم النمری
⭕ فائدہ : اس روایت سے نہ صرف عمر کا سیدہ ص کے گھر پر جماعت کے ساتھ حملہ کرنا ثابت ہے بلکہ زور زبردستی بیعت کروانا بھی ثابت ہے
⭕ جبکہ سعودی عالم دین ڈاکٹر حسن فرحان المالکی شروطِ صحتِ بیعت کے متعلق بتاتے ہیں کہ
علامہ مالکی اپنی کتاب "بیعة علی بن أبی طالب فی ضوء الروایات الصحیحة" (صفحه 50) میں فرماتے ہیں:
📜 شروط صحة البيعة:
٣ ـ أن يجيب المبايع إلى البيعة، 👈 ولا يُجبر عليها 👉
📃 "بیعت کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ بیعت کرنے والا خود اپنی رضامندی سے بیعت کرے، اور اسے زبردستی بیعت پر مجبور نہ کیا جائے۔"
▪️ اردو ترجمہ و توضیح:
شرط نمبر 3:
بیعت کرنے والا شخص دل کی رضا سے بیعت کرے،
اگر اسے زبردستی، خوف، دھمکی، یا دباؤ کے ذریعے بیعت پر مجبور کیا جائے تو ایسی بیعت شرعی اعتبار سے باطل ہے۔
📚 ماخذ: بیعة علی بن أبی طالب فی ضوء الروایات الصحیحة، حسن فرحان المالکی، ص 50، ام مالک الخالدی.
۔
🔴 روایت کی سند کا تجزیہ:
1️⃣ عزالدین عبد الحمید بن ابی الحدید المدائنی — ثقہ
📜 اہلِ سنت کے مؤرخین جیسے مبارک بن شعار الموصلّی، شمس الدین ذہبی، صلاح الدین صفدی، اور ابن الوزیر الیمانی نے ان کی علمی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔
انہیں شیخ، علامہ، فقیہ، فاضل کہا گیا۔
ابن الوزیر نے لکھا کہ ابن ابی الحدید معتزلی تھے، فقہ شافعی کے عالم تھے، اور ابوبکر و عمر کی تعظیم کرتے تھے۔
📚 (مراجع: قلائد الجمان 3/170؛ سیر اعلام النبلاء 23/274؛ الوافی بالوفیات 18/46؛ العواصم والقواصم 2/43، 8/244)
2️⃣ ابو بکر احمد بن عبدالعزیز الجوهری (وفات 323ھ) — ثقہ
ابو احمد عسکری (وفات 382ھ) جو ذہبی کے نزدیک "الإمام المحدث الأديب العلامة" تھے، کہتے ہیں:
📜 "میں نے ابو بکر احمد بن عبدالعزیز الجوهری سے قراءت کی؛ وہ بہت مضبوط، علم میں درست اور ثقہ شخص تھے۔"
📚 شرح ما یقع فیه التصحیف والتحریف، جلد 2، صفحہ 457
▪️خطيب بغدادی بھی ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
📜 وہ لمبے قد کے بزرگ، حدیث کے حافظ اور ثقہ راوی تھے۔
📚 تاریخ بغداد، جلد 3، صفحہ 133، رقم 1154
3️⃣ عمر بن شبّہ — ثقہ (مطابق پروگرام جوامع الکلم)
4️⃣ ابراہیم بن منذر — صدوق، حسن الحدیث
5️⃣ عبداللہ بن وہب — ثقہ
6️⃣ عبداللہ بن لہیعہ — بعض کے نزدیک ضعیف، مگر جب "عبداللہ بن وہب" ان سے روایت کرے تو وہ روایت صحیح شمار کی جاتی ہے،
کیونکہ ابن وہب نے ان سے اُس وقت روایت لی تھی جب ان کی کتابیں جلنے سے پہلے تھیں۔
شیخ محمد ناصرالدین البانی نے بھی اس نکتہ کو تسلیم کیا ہے کہ ابن وہب کی روایات ابن لہیعہ سے صحیح ہیں۔
🔴 وضاحت 🔴
ابن لہیعہ کے بارے میں ضعیف (کمزور) کہنا اور اس حدیث کی سند کو کمزور قرار دینا درست نہیں ہے،
کیونکہ ائمہ کے مجموعی اقوال سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ:
📜 "وہ اپنی ذات میں ثقہ (قابلِ اعتماد) تھے،
البتہ حافظے کے لحاظ سے کمزور ہو گئے تھے۔
وہ اپنی کتابوں سے روایت بیان کیا کرتے تھے،
لیکن جب ان کی کتابیں جل گئیں تو انہوں نے حافظے سے روایت بیان کرنا شروع کیا، جس میں بعض غلطیاں ہو گئیں۔"
مزید یہ کہ بعض ائمہ نے صراحت کی ہے کہ:
📜 "اگر ابن لہیعہ کی حدیث ان تین عبد اللہ میں سے کسی ایک کے ذریعے روایت ہو تو وہ صحیح (درست) شمار کی جاتی ہے
یعنی:
1️⃣ عبداللہ بن وہب
2️⃣ عبداللہ بن المبارک
3️⃣ عبداللہ بن یزید المقری"
لہٰذا جب تم یہ بات جان لو تو واضح ہو جاتا ہے کہ
یہ حدیث صحیح ہے، کیونکہ اسے ابن لہیعہ سے انہی تینوں میں سے ایک، یعنی عبداللہ بن وہب نے روایت کیا ہے۔
📚 سلسلة الأحاديث الصحيحة، جلد 1، صفحات 595-596، حدیث 298
http://shamela.ws/browse.php/book-9442/page-2549#page-590
▪️امام ذہبی نے ابن لہیعہ کے بارے میں فرمایا:
📜 “ابن لہیعہ مصر کے بڑے امام، ان کے قاضی، عالم اور محدث تھے۔”
📚 تذکرة الحفاظ، جلد 1، صفحہ 237
▪️ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
📜 “ابن لہیعہ ثقات میں سے تھے (یعنی قابل اعتماد راوی تھے)۔”
📚 تهذيب التهذيب، جلد 5، صفحہ 331
▪️ہیثمی نے بھی کئی مواقع پر ایسی روایات ذکر کیں جن کی سند میں ابن لہیعہ شامل ہیں،
اور وہاں فرمایا:
📜 “اس سند میں ابن لہیعہ ہے، اور اس کی حدیث حسن (درست درجے کی) ہے۔”
📚 مجمع الزوائد، جلد 1، صفحہ 155؛ جلد 4، صفحات 18، 31، 82
⭕ محمد بن عبدالرحمن بن نوفل (ابوالاَسود)
ثقہ راوی ہیں (مطابق جوامع الکلم)
▪️امام شمس الدین ذہبی فرماتے ہیں:
📜 "ابوالاَسود محمد بن عبدالرحمن بن نوفل، امام، قرشی،
ان کے والد عبدالرحمن صحابہ میں سے تھے،
اور ابوالاَسود خود تابعین کے طبقے میں سے تھے،
وہ علماء و ثقات میں شمار ہوتے ہیں،
اور 130 ہجری کے بعد کچھ سالوں میں وفات پائی۔"
📚 سیر أعلام النبلاء، جلد 6، صفحہ 150
http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?ID=992&bk_no=60&flag=1
⭕ نتیجہ:
یہ تمام ائمہ (ذہبی، ابن حجر، ہیثمی، البانی وغیرہ) کی شہادت اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ
روایت کا سلسلہ بالکل معتبر اور قابلِ اعتماد ہے،
کیونکہ ابن لہیعہ سے اسے عبداللہ بن وہب نے روایت کیا ہے
اور یہ وہ خاص صورت ہے جس میں ان کی روایت کو صحیح السند مانا گیا ہے۔
یہ روایت تاریخی طور پر معتبر سند رکھتی ہے۔
اس میں واضح ہے کہ حضرت عمر نے مسلح گروہ کے ساتھ حضرت فاطمہؑ کے گھر پر چڑھائی کی،
حضرت فاطمہؑ نے ان سے خدا کا واسطہ دیا،
مگر انہوں نے امام علیؑ اور زبیرؓ کو زبردستی باہر نکالا اور بیعت پر مجبور کیا۔
Invisibleislam.com
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen