چند لوگوں نے نہیں بلکہ ایک ہجوم نے سیدہؐ کے گھر حملہ کیا
🔴 چند لوگوں نے نہیں بلکہ ایک ہجوم نے سیدہؐ کے گھر حملہ کیا
حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے گھر پر ہجوم، تاریخِ اسلام کی ان ناقابلِ انکار حقیقتوں میں سے ایک ہے جسے شیعہ مخالفین ہمیشہ جھٹلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن تاریخی شواہد بہت مضبوط ہیں اور بعض اوقات انہی کے علماء کی کتابوں میں اس کا اعتراف بھی موجود ہے۔
ان اعترافات میں سے ایک ابن تیمیہ کا ہے، جو پہلے تو اس واقعے کے وقوع کو تسلیم کرتا ہے، لیکن پھر اسے کسی نہ کسی طرح درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ گناہ سے بھی بدتر عذر پیش کرتا ہے!
ابن تیمیہ لکھتا ہے:
📜 "وَغَایَةُ مَا یُقَالُ: إِنَّهُ کَبَسَ الْبَیْتَ لِیَنْظُرَ هَلْ فِیهِ شَیْءٌ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِی یُقَسِّمُهُ، وَأَنْ یُعْطِیَهُ لِمُسْتَحِقِّهِ..."
📃 "زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ (ابوبکر) فاطمہؑ کے گھر پر اچانک گیا تاکہ دیکھے کہ کہیں وہاں خدا کا کوئی مال (بیت المال) تو موجود نہیں، جسے وہ تقسیم کرتا ہے، تاکہ وہ مال اس کے مستحق کو دے دے۔۔۔"
📚 (منهاج السنة النبویة، جلد 8، صفحہ 291، طبع جامعہ الإمام محمد بن سعود الإسلامیة)
⭕ لفظ "کَبَسَ" کی وضاحت:
ابن تیمیہ نے "کَبَسَ الْبَیْتَ" کا لفظ استعمال کیا ہے۔ عربی لغت کے مطابق "کبس" کا مطلب ہے اچانک حملہ کرنا۔
چند معتبر لغوی مراجع میں اس کے معنی یوں بیان ہوئے ہیں:
▪️ قاموس المعانی میں لکھا ہے:
📜 "کبس القومُ دارَهُ"
📃 یعنی "لوگوں نے اس کے گھر پر اچانک حملہ کیا۔"
اسی طرح ایک اور لغوی ماخذ میں:
📜 "کبس القوم داره: هجموا علیها فجأة"
📃یعنی "لوگوں نے اس کے گھر پر اچانک دھاوا بول دیا۔"
http://www.almaany.com/ar/dict/ar-ar/%D9%83%D8%A8%D8%B3
⭕ نتیجہ:
ابن تیمیہ نے خود اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ ابوبکر نے حضرت زہراءؑ کے گھر پر اچانک ہجوم کیا البتہ اس نے اس حملے کو بیت المال کی تلاش کا بہانہ بنا کر درست ٹھہرانے کی کوشش کی، جو کہ حقیقت میں ایک بے بنیاد جواز اور "عذر بدتر از گناہ" ہے۔
🔴 عُمَریوں کی طرف سے ابن تیمیہ کے اعتراف کا انکار اور اس کا ردّ
چونکہ ابن تیمیہ کے پیروکار اس کے اس اعتراف کو بھی برداشت نہیں کر پاتے اور یہ بات ان کے مزاج کے خلاف ہے، اس لیے وہ کوشش کرتے ہیں کہ ابن تیمیہ کے اس اعتراف کو بھی جھٹلائیں۔
اپنے دعوے کے ثبوت میں وہ ابن تیمیہ کے درج ذیل کلام کو پیش کرتے ہیں:
📜 "قدح (یعنی اعتراض یا بدگمانی) اس وقت تک قبول نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ صحیح سند سے ثابت نہ ہو، اور اس کی دلالت واضح طور پر قدح پر نہ ہو۔ پس جب ان میں سے ایک شرط بھی موجود نہ ہو تو قدح باطل ہو جاتی ہے، تو پھر جب دونوں شرطیں ہی نہ ہوں تو کیسے؟!
اور ہم یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ ابوبکر نے نہ علیؑ اور زبیرؓ کو کسی طرح اذیت دی، نہ ہی سعد بن عبادہ کو، جو شروع سے آخر تک اس کی بیعت سے انکاری رہے۔"
📚 (منهاج السنة النبویة، جلد 8، صفحات 290–291، طبع جامعہ الإمام محمد بن سعود الإسلامیة)
✅ جواب:
ابن تیمیہ کے پیروکار اس عبارت کو اس کے "اعتراف" کے انکار کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کلام میں کہیں بھی ہجوم کے واقعے کی نفی نہیں کی گئی۔
بلکہ ابن تیمیہ اس عبارت میں صرف ایک مخصوص پہلو کو رد کرتا ہے ، یعنی یہ کہنا کہ ابوبکر نے علیؑ یا زبیرؓ کو اذیت پہنچائی۔
👈 اس کا مقصد صرف "اذیت" کے الزام کو رد کرنا ہے، نہ کہ ہجوم کے وقوع کو۔
دوسرے الفاظ میں، ابن تیمیہ کہتا ہے:
📜 "ہمارے پاس کوئی ایسا ثبوت نہیں جس سے یہ کہا جا سکے کہ ابوبکر نے علیؑ یا زبیرؓ کو اذیت دی۔"
لیکن جب وہ اسی مقام پر آگے چل کر "کَبَسَ البَیت" (یعنی گھر پر اچانک حملہ کیا) کا لفظ استعمال کرتا ہے، تو یہ خود اس واقعے کے وقوع کا اقرار ہے۔
اس کے بعد وہ اس عمل کے لیے تاویل (جواز تراشی) کرتا ہے کہ شاید وہ "بیت المال کا مال دیکھنے" کے لیے گیا تھا 👈 جو کہ اصل واقعے کے تسلیم کرنے کے بعد ایک عذر ہے، نہ کہ انکار۔
⭕ اصولی قاعدہ:
👈 "التأویل فَرعُ التَّصحیح"
👈👈 یعنی: تاویل، تصحیح کی فرع ہے
💯 یہ اصول علمِ اصول میں مسلم ہے۔
اس کا مطلب ہے:
📜 "جب کوئی شخص کسی بات کی تاویل یا توجیہ کرنے لگے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس بات کے اصل وجود کو تسلیم کر چکا ہے۔"
اگر کوئی روایت یا واقعہ جھوٹا یا باطل ہو، تو اس کی تاویل کی ضرورت نہیں ہوتی ، اسے سیدھا رد کر دیا جاتا ہے۔
چنانچہ اگر کوئی عالم کسی روایت کی تاویل کرے، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس روایت کو صحیح یا کم از کم قابلِ قبول مانتا ہے۔
وهابی عالم ابواسحاق الحوینی (معاصر عالم) بھی یہی اصول بیان کرتا ہے:
📜 "علماء کہتے ہیں کہ التأویل فرع التصحیح، اور یہ قاعدہ بہت اہم ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تم کسی روایت کی تاویل اس وقت تک نہیں کرو گے جب تک اس کی صحت تم پر ثابت نہ ہو جائے۔
اگر روایت ضعیف یا جھوٹی ہو، تو اس کی تاویل کرنا بے معنی ہے، کیونکہ باطل کو رد کرنے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ باطل ہے۔
لہٰذا جب تم کسی روایت کو تاویل کرتے ہو، تو گویا تم نے پہلے اس کی صحت تسلیم کر لی۔"
audio.islamweb.net/audio/Fulltxt.php?audioid=87223
⭕ نتیجہ:
پس خود ابن تیمیہ کے کلام اور اصولی قاعدے "التأویل فرع التصحیح" کی بنیاد پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
✅ ابن تیمیہ نے اصل ہجوم کے وقوع کو تسلیم کیا۔
✅ البتہ اس نے اس واقعے کے لیے تاویل اور جواز تراشی کی جو خود اس بات کی علامت ہے کہ وہ واقعہ ثابت اور ناقابلِ انکار ہے۔
لہٰذا ابن تیمیہ کا اعتراف کہ "ابوبکر نے فاطمہؑ کے گھر پر اچانک داخلہ کیا" (کَبَسَ البَیت)
اس کے پیروکاروں کے تمام انکاری دعووں کے باوجود
تاریخی طور پر ثابت اور غیر قابلِ تردید حقیقت ہے۔
بدر علی
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen