حملہ بر منزلِ وحی (صحیح سند) post-2
🔴 صحیح سند کے ساتھ ابو سلمہ اور زہری سے روایت ہے:
"علی (علیہ السلام) اور زبیر، رسولِ خدا ﷺ کی بیٹی فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے گھر میں تھے۔
پھر عمر آیا اور کہا:
‘بیعت کے لیے باہر آؤ! 👈 خدا کی قسم، یا تو تم باہر آؤ یا میں گھر کو تمہارے اوپر آگ لگا دوں گا۔’(یعنی جناب صرف گھر کو ہی نہیں گھر والوں کو بھی جلانا چاہتے تھے)
زبیر نے اپنی تلوار نیام سے نکالی، تو زیاد بن لبید نے اسے زور سے پکڑا، تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ پھر زیاد نے وہ تلوار اٹھائی اور اسے پتھر پر مارا (اور وہ ٹوٹ گئی)۔
محمد بن عمرو نے کہا:
‘مجھے ابوعمرو بن حماس لیثی نے بتایا کہ میں نے وہ پتھر دیکھا جس پر تلوار ماری گئی تھی۔’"
📚 حدیث ہشام بن عمار، صفحہ 124،125
🔴 حدیث کی سند کا تجزیہ: 🔽
1️⃣ سعید بن یحییٰ : ثقہ، امین اور قابلِ اعتماد
📚 نامِ کتاب: میزان الاعتدال
✍️ مصنف: شمس الدین ذہبی
📖 جلد: 2، صفحہ: 162–163
🔗 https://lib.efatwa.ir/40478/2/162
🔗 https://lib.efatwa.ir/40478/2/163
2️⃣ محمد بن عمرو : محدث، سچا راوی (الصدوق)
📚 نامِ کتاب: سیر أعلام النبلاء
✍️ مصنف: شمس الدین ذہبی
📖 جلد: 6، صفحہ: 136
🔗 https://lib.efatwa.ir/40384/6/136
3️⃣ ابو سلمہ : ثقہ، امام، معتبر راوی
📚 نامِ کتاب: سیر أعلام النبلاء
✍️ مصنف: شمس الدین ذہبی
📖 جلد: 4، صفحہ: 287
🔗 https://lib.efatwa.ir/40384/4/287
🔴 اب تک سند کی صحت ثابت ہو چکی ہے
روایت کے آخر میں ایک قول ابو عمرو بن حماس سے منقول ہے، جو خود ایک جلیل القدر تابعی تھے:
▪️ ابو عمرو بن حماس:
📜 ابن سعد: “وہ عبادت گزار اور محنتی شخص تھے۔”
📚 الطبقات الکبری، جلد 5، صفحہ 344
🔗 https://lib.eshia.ir/40237/5/344
📜 دارقطنی: “وہ معروف راوی ہیں۔”
📚 تہذیب التہذیب، جلد 4، صفحہ 318
🔗 https://lib.eshia.ir/40341/4/318
📜 ابن حجر عسقلانی: “ان کی روایت قبول ہے (مقبول)”
📚 تقریب التہذیب، جلد 1، صفحہ 660
🔗 https://lib.eshia.ir/40336/1/660
📍 لہٰذا یہ راوی کم از کم تواتع یا متابعت (تائید و ہم نوائی) کے لیے معتبر شمار ہوتا ہے۔
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen