Back to شہادتِ سیدہ فاطمہ زھراء (س)

کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)

کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)
کیا شہادت سیدہؐ کی روایت صرف کتاب سلیم بن قیس میں پائی جاتی ہے ؟ (تحریر: خیر طلب)

❌ *کیا حدیثِ احراقِ بیتِ فاطمہ (علیھا السلام) صرف کتاب سلیم بن قیس الھلالی میں پائی جاتی ہے؟* ❌

 

(انجنیئر محمد علی مرزا صاحب کا دعوی اور اس کی حقیقت)

 

اعتراض: ( یہ واقعہ احراق دار الزھراء ع شیعہ روایات اور تراث میں صرف ابان بن ابی عیاش نے سلیم بن قیس سے نقل کیا اور یہ کتاب منگھرٹ ہے)

 

آئے دیگر کتب سے شہادت سیدہ ص پر کچھ مختصر دلائل نقل کئے دیتے ہیں:

 

1⃣ *۞پہلی روایت۞ * : الکافی میں شیخ کلینیؒ نقل کرتے ہیں:

 

📜 محمد بن يحيى، عن العمركي بن علي، عن علي بن جعفر أخيه، أبي الحسن عليه السلام قال: إن فاطمة عليها السلام صديقة شهيدة وإن بنات الأنبياء لا يطمثن.

 

📝 امام کاظم ع فرماتے ہیں: کہ سیدہ زھرا ع بہت راست گو (صدیقہ)، راہ خدا میں شہادت پانے والی (شہیدہ) تھیں، اور انبیاء ع کی بیٹیاں حالت حیض سے دوچار نہیں ہوتیں۔

 

📚 الکافی جلد ١ ص ٤٥٨ طبع دار الکتب الاسلامیہ ایران

 

✔ اس روایت کو علامہ مجلسیؒ نے صحیح قرار دیا۔ 

 

📚 مراة العقول جلد ٥ ص ٣١٥ 

 

✔ علامہ جواد تبریزیؒ نے روایت کی سند کو معتبر گردانا ہے

 

📚 صراط النجاة جلد ٣ ص ٤٤١

 

تبصرہ: ثابت ہوا کہ سیدہ زھرا ع طبیعی موت سے نہیں بلکہ شہادت کی منزل پر فائز ہوئی تو جب گھر پر حملہ ہی نہیں ہوا تھا تو شہادت کیسے ہوئی؟

 

2⃣ *۞دوسری روایت۞* : سید ابن طاوؤسؒ ایک روایت نقل کرتے ہیں جس کی سند یوں ہے:

 

📜 روينا باسنادنا إلى سعد بن عبد الله في كتاب فضل الدعاء قال أبو جعفر محمد بن إسماعيل بن بزيع عن الرضا عليه السلام وبكير بن صالح ، عن سليمان بن جعفر ، عن الرضا عليه السلام .

 

📃 اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے، سید ابن طاوؤس کی سند سعد بن عبداللہ الاشعری کی کتاب فضل الدعا تک صحیح ہے اور سعد الاشعری سے لے کر امام رضا ع تک کی سند بھی نظیف اور صحیح ہے۔ 

 

اس روایت میں ایک جملہ ہے کہ جب امام رضا ع سجدہ شکر میں کہتے ہیں:

 

📜 اللهم العن اللذين بدلا دينك ، وغير أنعمتك ، واتهما رسولك صلى الله عليه وآله ، وخالفا ملتك ، وصدا عن سبيلك ، وكفرا آلاءك ، وردا عليك كلامك ، واستهزأ برسولك ، و قتلا ابن نبيك

 

📝 اے اللہ ان دونوں پر لعنت کر جنہوں نے تیرا دین بدلا، تیری نعمتوں کو بگاڑا، تیرے رسول ﷺ پر تہمت لگائی، تیری ملت کی مخالفت کی، تیرے راستہ سے روکا، تیری نعمتوں کو جھٹلایا، تیرا کلام کا تیرے اوپر ہی انکار کیا، تیرے رسول ﷺ کے ساتھ مذاق کا برتاؤ کیا، اور تیرے نبی زادے (محسن شہید) کو ان دونوں نے قتل کیا۔

 

📚 مھج الدعوات ص ٣٠٧

 

تبصرہ: ادھر حضرت محسن ع شہید کے قتل کی طرف اشارہ ہے وہ قتل کیسے ہوسکتے ہیں اگر ابوبکر اور عمر نے سیدہ زھرا ع کے اوپر حملہ نہیں کیا کیونکہ ان کا اسقاط ہوا ہے۔ 

 

3⃣ *۞تیسری روایت۞* : دلائل الامامة میں طبریؒ نقل کرتے ہیں امام صادق ع کے حوالے سے:

 

📜 وكان سبب وفاتها أن قنفذا مولى عمر لكزها بنعل السيف بأمره، فأسقطت محسنا، ومرضت من ذلك مرضا شديدا، 

 

📝 سیدہ زھرا ع کی شہادت کا سبب یہ تھا کہ قنفذ جو عمر کا آزاد کردہ غلام تھا اس نے تلوار کی میاں سے سیدہ زھرا سلام اللہ علیہا کو بحکم عمر مارا، جس سے محسن ع ساقط ہوگئے، اور سیدہ زھرا سلام اللہ علیہا شدید زخمی ہوگئی۔ 

 

📚 دلائل الامامة ص ١٣٤-١٣٥ طبع مؤسستہ البعثتہ قم

 

✔ علامہ جواد تبریزیؒ نے روایت کی سند کو معتبر گردانا ہے

📚 صراط النجاتہ جلد ٣ ص ٤٤١

 

✔ شیخ عباس قمیؒ نے روایت کی سند کو معتبر کہا ہے

 

📚 بیت الاحزان ص ١٨٩ طبع دار زینب الکبری

 

✔ آقائے جعفر مرتضیٰ عاملیؒ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے : 

 

📚 ماساة الزھراء علیہا السلام جلد ٢ ص ٦٥،٦٦

 

4⃣ *۞چوتھی روایت۞* : شیخ کراجکیؒ نقل کرتے ہیں جس کی سند بایں ہے:

 

📜 ومما حدثنا به الشيخ الفقيه أبو الحسن بن شاذان رحمه الله قال حدثني أبي رضي الله عنه قال حدثنا ابن الوليد محمد بن الحسن قال حدثنا الصفار محمد بن الحسين قال حدثنا محمد بن زياد عن مفضل بن عمر عن يونس بن يعقوب رضي الله عنه قال سمعت الصادق جعفر بن محمد عليهما السلام 

 

اور اس کے محلہ شاہد جملہ یوں:

 

يا يونس قال جدي رسول الله صلى الله عليه وآله ملعون ملعون من يظلم بعدي فاطمة ابنتي ويغصبها حقها ويقتلــــها

 

📝 امام صادق ع کہتے ہیں کہ میرے جد رسول ﷺ نے فرمایا وہ معلون ہے معلون ہے جو میرے بعد میری بیٹی سیدہ فاطمہ ع پر ظلم کرے، اور ان کا حق غصب کرے اور ان کو قتل کرے

 

📚 کنز الفوائد ص ١٤٩-١٥٠ طبع دار الاضواء بیروت]

 

✔ اس روایت کی سند بھی معتبر ہے۔

 

5⃣ *۞پانچویں روایت۞* : شیخ ابن قولویؒ کامل الزیارات میں نقل کرتے ہے اس سند کے ساتھ:

 

📜 حدثني : محمد بن عبد الله بن جعفر الحميري ، عن أبيه ، عن علي بن محمد بن سالم ، عن محمد بن خالد ، عن عبد الله بن حماد البصري ، عن عبد الله بن عبد الرحمان الأصم ، عن حماد بن عثمان ، عن أبي عبد الله (ع)

 

اور اس میں محلہ شاہد جملہ:

 

وأما ابنتك فتظلم وتحرم ويؤخذ حقها غصبا الذي تجعله لها ، وتضرب وهي حامل ، ويدخل عليها وعلى حريمها ومنزلها بغير إذن ، ثم يمسها هوان وذل ثم لا تجد مانعا ، وتطرح ما في بطنها من الضرب وتموت من ذلك الضرب.

 

📝 (خدا ﷻ سوال کررہا ہے رسالت مآب ﷺ سے کہ) اور آپ کی بیٹیؑ ان پر ظلم کیا جائے گا، ان کو محروم رکھا جائے گا اور ان کا حق غصب کردیا جائے گا اور ان کو اس حالت میں مارا جائے گا جب کہ وہ حاملہ ہوں گی، اور ان کی اجازت کے بغیر ان کے ہاں داخل ہوا جائے گا اور پھر شدید پریشانیاں اور بے مائگی کا سامنا ہوگا جس کا کوئی دفعیہ نہیں ہوگا، اور جو ان کے بطن مبارک میں بچہؑ (محسنؑ ) ہے اس کو بھی حملہ کی وجہ سے ضائع کردیا جائے گا اور ان کی وفات اس حملہ کی وجہ سے ضرب سے ہوگی۔

 

📚 کامل الزیارات ص ٥٤٧-٥٤٨ باب ١٠٨ حدیث نمبر ١٢

 

*تبصرہ:* 

 

قارئین یہ پانچ روایات وہ ہیں جس میں دور دور تک سلیم اور ابان کا تذکرہ ہی نہیں۔ اس کے علاوہ اور بہت ساری روایات میں سیدہ فاطمہ ع پر جو ظلم ہونا ہے اس کی خبر، یا بالفعل جو ظلم ہوا ہے اس کی خبر کا ذکر ہے۔ ان روایات میں سے بعض کی سند بہت صاف اور واضح طور پر معتبر ہے تو اس کے موجود ہوتے ہوئے انجینئیر صاحب کا اس روایت کو ضعیف کہنا غلط ہے۔

 

*🖋️ آقائے خیر طلب (سید جری حیدر زیدی) حفظ اللہ تعالیٰ*

 

ترتیب: عبد اللہ امامی

 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#تعلیمات_اہلبیت 

تعلیماتِ اہلبیتؑ 

#بدر_علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24