ایک اعتراض: کہا گیا کہ عمر کا مقصد صرف ڈرانا تھا۔ ۔۔۔
🔴 کہا گیا ہے کہ جناب حضرت ___ نے جناب سیدہؐ کے گھر جا کر صرف ڈرایا تھا ، آگ لگانے کا ارادہ بلکل نہیں تھا۔
کیا عمر بن خطاب کا جنابِ سیدہ سلام اللہ علیہا کو دھمکی دینا قابلِ مذمت عمل نہیں؟
❌ اعتراض: من لا یحضره الفقیہ میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
📜 "جو شخص مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھے، میں اس کے گھر کو آگ لگا دوں گا"۔
معترضین کہتے ہیں کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھمکی دی مگر عملی اقدام نہ کیا، اسی طرح عمر بن خطاب نے بھی سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر کو جلانے کی دھمکی دی، لیکن عملاً ایسا نہ کیا، تو دونوں صورتیں برابر ہوئیں۔
✅ جواب: قارئینِ کرام! ذرا سوچیے، یہ کیسا قیاس ہے اور کہاں استعمال کیا جا رہا ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جماعت چھوڑنے والوں کو تنبیہ دینا اور کچھ لوگوں کا حکمِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہوئے مسجد سے غیرحاضری اختیار کرنا، یہ ایک الگ معاملہ ہے۔
اور دوسری طرف سیدہ کائنات فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا گھر، جس پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ کر سلام عرض کرتے، ادب و تعظیم سے پیش آتے، وہاں آ کر آگ لگانے کی دھمکی دینا، یہ ایک بالکل جداگانہ، سنگین اور ناپاک جسارت ہے۔
⭕ تو جیسا کہ کہا گیا ہے کہ
👈🏼 *حضرت کا مقصد صرف ڈرانا تھا*
اسلئے رسول اللّه کی چند صحیح احادیث انکی پیش خدمت ہے۔
1⃣ *حدیث نمبر 1*
📜 عن أبي عبد اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ قال أَشْهَدُ على أبي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قال قال أبو الْقَاسِمِ (صلی الله علیه وآله) من أَرَادَ أَهْلَ هذه الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ الله كما يَذُوبُ الْمِلْحُ في الْمَاءِ.
📝 ابوہریرہ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو اس شہر (یعنی مدینہ والوں کی) برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسے پگھلا دے گا جیسے پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔
📚 النيسابوري، مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري (متوفاي261هـ)، صحيح مسلم، ج 2، ص 1007، ح 1386 كتاب الحج، بَاب من أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ الله، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت
2⃣ *حدیث نمبر 2*
📜 قال يزيد بن الهاد، عن أبي بكر بن المنكدر، عن عطاء بن يسار، عن السائب بن خلاد، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من أخاف أهل المدينة أخافه الله، وعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين. رواه مسلم بن أبي مريم، وعبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة، عن عطاء عن السائب، وخالفهم موسى بن عقبة، عن عطاء فقال: عن عبادة بن الصامت، والأول أصح.
📝 جو شخص اہل مدینہ والوں کو ڈرائے گا خدا اسے ڈرائے گا اور اس پر خدا، فرشتوں اور تمام لوگوں کی ل ع نت ہو گی۔
📚 الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 5، ص 26، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمرى، ناشر: دار الكتاب العربي - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1407هـ - 1987م.
🔴 روایت کی سند 🔴
🔵 يزيد بن عبد الله:
📜 يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد الليثي أبو عبد الله المدني ثقة مكثر من الخامسة.
📚 العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ) تقريب التهذيب، ج 1، ص 602، رقم: 7737، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى، 1406هـ – 1986م.
🔵 أبو بكر بن المنكدر:
📜 أبو بكر بن المنكدر بن عبد الله التيمي المدني ثقة.
📚 العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ) تقريب التهذيب، ج 1، ص 624، رقم: 7989، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى، 1406هـ – 1986م.
🔵 عطاء بن يسار:
📜 عطاء بن يسار الهلالي أبو محمد المدني مولى ميمونة ثقة فاضل صاحب مواعظ وعبادة.
📚 العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ) تقريب التهذيب، ج 1، ص 392، رقم: 4605، تحقيق: محمد عوامة، ناشر: دار الرشيد - سوريا، الطبعة: الأولى، 1406هـ – 1986م
👈🏼 ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو اپنی صحیح احادیث میں شمار کیا ہے
📜 اے اللہ! جس نے اہل مدینہ پر ظلم کیا اور انہیں ڈرایا تو بھی اسے ڈرا
📚 الباني، محمد ناصر (متوفاي1420هـ)، السلسلة الصحيحة (مختصره)، ج5، ص382، رقم 2304، ناشر: مكتبة المعارف – الرياض
3⃣ *حدیث نمبر 3*
📝 عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:
اے اللہ! جس نے اہل مدینہ پر ظلم کیا اور انہیں ڈرایا تو بھی اسے ڈرا ، اور *اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی ل ع ن ت ہو،* اس سے فرض و نفل قبول نہیں کیا جائے گا۔
📚 المعجم الکبیر 6497 ، 6498 ، 6499
4⃣ *حدیث نمبر 4*
📝 ہم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے، ان میں سے ایک صاحب سو گئے، کچھ لوگ اس رسی کے پاس گئے، جو اس کے پاس تھی اور اسے لے لیا تو وہ ڈر گیا،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے۔
📚 سنن ابی داؤد ، جلد 4، صفحہ 845، حدیث 5004
اسکی وضاحت میں لکھا ہے کہ کسی کو مزاخ میں بھی ڈرانا مسلمان کیلئے جائز نہیں۔
5⃣ *حدیث نمبر 5*
📜 من أخاف أهل المدينة أخافه الله، وعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين
📝 جو شخص اہل مدینہ والوں کو ڈرائے گا خدا اسے ڈرائے گا اور اس پر خدا، فرشتوں اور تمام لوگوں کی ل ع نت ہو گی۔
سند صحیح
📚 مسند احمد ، حدیث 16559
❓پیغمبر کی یہ حدیثیں جس میں کسی عام مسلمان کو بھی ڈرانے دھمکانے سے الله اور اسکے رسول ناراض ہوتے ہیں تو کیا بیبی فاطمہ کو ڈرانے دھمکانے سے پیغمبر خوش رہیں گے.....؟
#تعلیمات_اہلبیت
Gallery
Tap any image to view full screen