اہل سنت عالم کی گواہی کہ شہادت محسن ع اور شہادتِ سیدہؐ کا عقیدہ دوسری صدی میں موجود تھا
🔴 جناب محسن ع اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کے عقیدے کی تاریخی قِدمت
⭕ یعنی قرنِ دوم ہجری دورِ امام صادق و امام کاظم علیہما السلام
جس کی صراحت اس عالمِ اہلسنّت محمد بن عبدالله بن یزید الفزاری نے اپنی کتاب الردود میں کی ہے۔
❓ اب سوال مکینشینوں، ملحدوں اور آتھیئسٹوں سے یہ ہے:
کیوں جھوٹ بول کر جناب محسن ع اور حضرت صدیقۂ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کے عقیدے کو دورِ جمہوریۂ اسلامی یا عہدِ صفویہ سے منسوب کرتے ہو؟
یہ دستاویز کس دور کی ہے؟؟
آخر کب تک تم ایک خود ساختہ، جعلی اور فَوٹوشاپ شدہ تقویم جو انقلاب کے زمانے کی طرف نسبت دی جاتی ہے، اس پر اعتماد کرو گے؟
اور بے شرمی، جھوٹ اور بے حیائی کے ساتھ اس عقیدے کو ان حالیہ صدیوں کی پیداوار کہتے رہو گے؟؟
یہ اسناد صفوی دور کی ہیں یا اسلامی انقلاب کے دور کی؟؟
مولویوں اور ملحدوں! آخر کب تک جھوٹ؟؟
❌ اہلِ سنت کے ایک عالم کے اعتراف کے مطابق جناب محسن ع اور حضرت فاطمہؑ کی شہادت کا شیعہ عقیدہ (ابوبکر کے ہاتھوں) دوسری صدی ہجری میں موجود تھا
⭕ عبداللہ بن یزید فزاری
جو اباضی مذہب کے ایک بڑے متکلم اور عالم تھے، اور زمانۂ امام صادقؑ و امام کاظمؑ میں زندہ تھے اور هشام بن الحکم (متکلمِ شیعہ) کے ساتھ علمی ہمبحث تھے اپنی کتاب الردود میں شیعہ امامیہ کے عقائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
عبداللہ کہتا ہے:
پھر ایک اور گروہ اپنے سردار کے پاس آیا اور کہا: علی بن ابی طالب کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ کچھ لوگ تو ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں، انہیں کافر کہتے ہیں اور ان سے جنگ بھی کرتے ہیں۔ اس نے کہا: ان سے بچو، یہ اہلِ بدعت ہیں۔ جو میں تمہیں بتاتا ہوں اسے لکھ لو۔
ہمارے پاس یہ روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسلام لانے والوں میں سب سے پہلے اور سب سے بہتر شخص تھے، اور اسلام اور مشرکین کے خلاف جہاد میں سب سے عظیم تھے۔ نبی نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور پھر اپنے اور علی کے درمیان بھی قائم کیا، اور فرمایا:
"تمہاری نسبت میرے ساتھ وہی ہے جو ہارون کی نسبت موسیٰ سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"
اور یہ بھی فرمایا:
"جس کا میں مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں۔ خدایا! جو اسے دوست رکھے تو اسے دوست رکھ، اور جو اسے دشمن رکھے تو اسے دشمن رکھ۔ جو اس کی مدد کرے اس کی مدد کر اور جو اسے رسوا کرے اسے رسوا کر۔"
نبی نے ابو بکر کو سورۂ براءت لے کر بھیجا تاکہ وہ حج کے موقع پر اسے لوگوں کو سنائیں اور ہر صاحبِ عہد کا عہد توڑ دیں۔ لیکن جبرائیل نازل ہوئے اور کہا کہ:
"آپ کی طرف سے یہ پیغام کوئی شخص ہی پہنچا سکتا ہے جو آپ ہی کا حصہ ہو۔"
تو نبیؐ نے وہ سورت علی بن ابی طالب کو دے دی اور انہیں موسمِ حج کی طرف بھیجا۔
اور نبی نے فرمایا کہ:
"تم میں سے ایک شخص قرآن کی تاویل پر اس طرح جنگ کرے گا جیسے میں نے اس کے تنزیل پر جنگ کی۔"
تو ابو بکر، عمر اور دیگر صحابہ یہ آرزو کرنے لگے کہ کاش وہ ہوں۔ اس وقت علی ایک طرف بیٹھے جوتا سی رہے تھے۔ نبی نے فرمایا:
"یہی کرے گا یہ جوتا سیلنے والا (یعنی علی)!"
ایک دن نبی ایک پکی ہوئی چڑیا کھانا چاہتے تھے، اور دعا کی:
"اے اللہ! اپنے مخلوق میں سے سب سے محبوب شخص کو بھیج جو میرے ساتھ یہ کھانا کھائے۔"
پس اللہ نے علی کو بھیجا، اور نبی انہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور پھر دعا دہرائی:
"اللہم والِ من والاه… "
اور علی کی فضیلت میں اس طرح کی اور بہت سی معروف احادیث بھی ہیں۔
چنانچہ ایک گروہ نے ان احادیث کو قبول کیا اور یہ عام لوگ تھے انہوں نے علی سے محبت رکھی اور ان کے مخالفین سے جنگ کی۔ یہی شیعہ، معتزلہ اور عام امت ہیں۔
پھر شیعہ کے ایک گروہ نے غلو کیا اور کہا جیسا کہ ان کے راویوں نے نقل کیا ہے کہ:
• نبی نے فرمایا: علی میری امت کے خلیفہ ہیں اور میرے بعد میرے وصی ہیں
• انہیں لوگوں کے لیے امام مقرر کیا
• انہیں کچھ وہی راز بتائے جو امت کو معلوم نہ تھے
• نبی کی وفات کے بعد اپنی بیویوں کا معاملہ علی کے سپرد کیا
• ان کے لیے سورج پلٹا دیا گیا جب عصر قضا ہو گئی تھی
• وہی دابّۃ الارض ہیں
• ان کے پاس موسیٰؑ کا عصا اور سلیمانؑ کی انگھوٹی ہے
• وہ قیامت کے دن لوگوں کو تقسیم کریں گے، کہ یہ جنتی ہے اور یہ جہنمی
👈 • اور (یہ بھی) کہ ابوبکر اور عمر نے فاطمہ بنت رسول اللہؐ کو مارا یہاں تک کہ انھوں نے اپنا بچہ گرا دیا
• اور یہ کہ ابو بکر نے خالد بن ولید کو حکم دیا کہ اگر علی بیعت کے لیے نہ آئیں تو نماز کے بعد ان کی گردن اڑا دے لیکن جب ابو بکر تشہد میں بیٹھے تو ان پر بات ظاہر ہوئی اور سلام سے پہلے کہا:
"اے خالد! جو میں نے تمہیں حکم دیا تھا، وہ نہ کرنا!"
اور اس طرح کی اور بہت سی "گھڑی ہوئی" احادیث بھی ہیں جو ان غالیوں کو بہکا دیتی ہیں۔ انہوں نے ان کو قبول کیا، ان پر دین بنایا، علی پر سبقت کرنے والوں کو کافر کہا، اور دعویٰ کیا کہ امت سب کی سب نبی کے بعد مرتد ہو گئی جب انہوں نے علی کو مقرر نہ کیا۔ انہوں نے ابو بکر اور عمر سے بیزاری اختیار کی اور جو ان کے جیسا اعتقاد نہ رکھے اس سے بھی یہی رافضی ہیں، اللہ انہیں لعنت کرے۔ یہ سب ان کی روایات اور غلط تاویلوں کی وجہ سے ہوا۔
پیغمبرؐ نے ابو بکر کو سورتِ توبہ پہنچانے کے لیے بھیجا تاکہ وہ اسے مکہ میں لوگوں کو سنائیں اور ہر صاحبِ عہد اپنے عہد و پیمان کو واپس لے لے۔ اسی وقت جبرائیل نازل ہوئے اور پیغمبرؐ سے کہا: یہ کام تمہاری اپنی ذات میں سے کسی کے سوا کوئی انجام نہیں دے سکتا۔ پس پیغمبرؐ نے سورتِ توبہ پہنچانے کی ذمہ داری علی بن ابی طالبؑ کے سپرد کی اور انہیں اس کام کے لیے روانہ کیا۔
اسی طرح پیغمبرؐ نے فرمایا: تم میں سے کچھ لوگ قرآن کی تاویل کے بارے میں جنگ کریں گے، جیسے میں نے اس کے نزول کے بارے میں جنگ کی۔ اس موقع پر ابو بکر، عمر اور دیگر صحابہ کھڑے ہو گئے اور ہر شخص اس بات سے خوش تھا کہ شاید وہی ہو جو رسول خدا کے بعد قرآن کی تاویل کے لیے جنگ کرے گا۔ اس وقت علی بن ابی طالبؑ ایک گوشے میں بیٹھے تھے اور اپنی جوتی سی رہے تھے۔ رسول خدا نے فرمایا: وہ شخص یہی ہے جو اپنی جوتی سی رہا ہے، یعنی علی بن ابی طالب۔
اسی طرح ایک دن جب پیغمبرؐ تیار شدہ پرندے کے گوشت سے کھانا چاہتے تھے تو انہوں نے فرمایا: خدایا! اپنی سب سے محبوب مخلوق کو میرے پاس لا تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کے گوشت سے کھائے۔ اس وقت اللہ نے علی بن ابی طالبؑ کو پیغمبر کے پاس لایا۔ پیغمبرؐ نے انہیں دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا:
خدایا! جو اسے دوست رکھے تو اسے دوست رکھ، جو اسے دشمن رکھے تو اسے دشمن رکھ، جو اسے خوار کرے تو اسے خوار کر، اور جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما۔
اور اسی طرح کی دیگر روایات ان احادیث میں نقل کی گئی ہیں جو علی بن ابی طالبؑ کی فضیلت میں معروف اور مشہور ہیں۔
ایک گروہ نے ان باتوں کو قبول کیا جو عام لوگ تھے اور اسے اپنا عقیدہ اور دین بنایا۔ انہوں نے ولایتِ علیؑ کو اختیار کیا اور اُن سب کے مقابلے میں علیؑ کے ساتھ جنگ کی جو اُن کے مخالف تھے۔ یہی لوگ شیعہ، معتزلہ اور عام امت کہلاتے ہیں۔
اور شیعہ کے ایک گروہ نے علی بن ابی طالبؑ کے بارے میں غلو کیا، جیسا کہ ان کے محدث نے نقل کیا کہ پیغمبر نے فرمایا:
علیؑ میری امت میں میرے خلیفہ اور میرے بعد میرے وصی ہیں۔
پھر پیغمبرؐ نے علیؑ کو لوگوں کے لیے امام مقرر کیا، اور اُنہیں کچھ ایسے رازِ وحی بتائے جو امت کو نہیں بتائے۔ پیغمبرؐ نے اپنے بعد اپنی بیویوں کے امور علیؑ کے سپرد کیے۔
اور [ایک واقعہ میں] جب عصر کا وقت گزر گیا اور سورج غروب ہونے کے قریب تھا، تو سورج علیؑ کے لیے واپس پلٹ آیا۔
اور [یہ بھی کہ] علی بن ابی طالبؑ وہی دابّةُ الله ہیں جو لوگوں پر ظاہر ہوں گے، اور ان کے پاس موسیٰؑ کا عصا اور سلیمانؑ کی مُہر ہے، اور وہ جنت و جہنم تقسیم کرنے والے ہیں۔
👈👈 اور یہ کہ ابو بکر اور عمر بن خطاب نے فاطمہؑ بنتِ رسول اللہ کو مارا پیٹا یہاں تک کہ انہوں نے اپنا جنین گرا دیا۔ 👉🏾👉🏾
اور یہ کہ ابو بکر نے، جب علیؑ نے بیعت سے انکار کیا، خالد بن ولید کو حکم دیا کہ جب ابو بکر نماز سے سلام پھیرے تو وہ علی بن ابی طالبؑ کی گردن مار دے۔ لیکن جب ابو بکر تشہد میں بیٹھا تو اس کی رائے بدل گئی، اور سلام پھیرنے سے پہلے کہا: اے خالد! جو میں نے تمہیں حکم دیا تھا اسے مت کرنا۔
اور اس طرح کی دیگر جھوٹی اور گمراہ کن احادیث جنہیں ماننے والا گمراہ ہو جاتا ہے، اور غالی شیعوں نے انہیں قبول کیا، اپنا دین بنایا، اور انہی بنیادوں پر انہوں نے اُن لوگوں کو کافر کہا جو علیؑ سے پہلے خلافت پر بیٹھے۔ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امت رسول خدا کے بعد مرتد ہو گئی، کیونکہ انہوں نے علیؑ کو خلیفہ نہ بنایا، اور علیؑ پر ظلم ہوا۔ وہ ابو بکر، عمر اور ان لوگوں سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں جو ان کی طرح گواہی نہ دیں اور یہی رافضی ہیں جن پر خدا کی لعنت ہو۔
یہ لوگ انہی روایات اور بری تاویلات پر قائم ہیں۔
📚 الفزاری الإباضی، الردود، ص 9–10
Gallery
Tap any image to view full screen