امامیہ کا شروع سے ہی شہادت محسن بن علی ع کا عقیدہ رہا ہے
سید جعفر مرتضی عاملیؒ لکھتے ہیں کہ:
شیعہ مختلف گروہوں پر مشتمل ہیں، لیکن ان تمام گروہوں میں صرف امامیہ شیعہ (یعنی شیعہ اثنا عشریہ) وہ طائفہ ہیں جو حضرت محسن علیہ السلام کے سقط پر عقیدہ رکھتے ہیں۔
یعنی امامیہ شیعہ ہی وہ واحد گروہ ہے جو اس تاریخی واقعہ کو تسلیم کرتا ہے، باقی شیعہ فرقے اس عقیدے کو نہیں مانتے۔
🔴 شیخ صدوق کے مشائخ کا حضرت محسن کے سقط پر اعتقاد (فاطمی مصائب پر قدیم اور ریشه دار اعتقاد)
ایک باطل اور سخیف شکوک جو خاص طور پر حالیہ سالوں میں شیعہ مخالفین پھیلا رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ حضرت محسن اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے لیے عزاداری نئی اور حالیہ ایجاد ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی شیعہ علما، حتی کہ چوتھی صدی ہجری میں بھی، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو پہنچنے والے ضرب کے نتیجے میں حضرت محسن کے سقط پر یقین رکھتے تھے۔
شیخ صدوق کے ایک مشاہدے کے مطابق:
"میں نے بعض مشائخ سے سنا کہ گنج کا مطلب ان کے فرزند محسن علیہ السلام ہے،
اور یہ وہی فرزند ہے جو جب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا دو دروازوں کے درمیان دبائی گئیں، سقط ہوا۔"
📚 ماخذ: معانی الأخبار، صفحہ 206، دار المعرفة
مشاہدہ کریں کہ شیخ صدوق کے مشائخ (جو پانچویں صدی سے پہلے وفات پا چکے تھے) اس واقعے پر یقین رکھتے تھے،
اور خود شیخ صدوق رحمه اللہ بھی اسے متعلقہ حدیث کی ایک تشریح کے طور پر نقل کرتے ہیں۔
یعنی یہ اعتقاد شیعہ کے درمیان اتنا رائج تھا کہ بعض احادیث کو بھی اسی تناظر میں سمجھا جاتا تھا۔
جو لوگ فاطمی مصائب پر شک کرتے ہیں اور اسے بعد کے زمانے کی ایجاد قرار دیتے ہیں، بہتر ہے کہ وہ خاموش رہیں اور اپنی تحقیق و مطالعہ کو بڑھائیں۔
#بدر_علی
#التماس_دعا
Gallery
Tap any image to view full screen