امام صادق ع شہادتِ محسن ع یاد کرکے روتے تھے
📜 امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اہل بیت علیہم السلام کی حالت کو روزِ قیامت میں بیان کیا۔ جب انہوں نے حضرت محسن (علیہ السلام) کو محشر میں لائے جانے کے طریقے اور حضرت سیدہ صدیقہ کبریٰ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کے دل سوز کلمات کا ذکر کیا تو امام صادق (علیہ السلام) اتنا روئے کہ ان کی مبارک داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی اور فرمایا:
"وہ آنکھ کبھی روشن نہ ہو جو اس مصیبت میں نہ روئے۔"
📚 بحارالانوار، جلد 53، صفحہ 23
🔴 حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر واقعۂ ہجوم کے دوران وارد ہونے والے صدمات:
علامہ محمد باقر مجلسی رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں:
📜 “حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا بیٹا محسن جو چھ ماہ کا حمل تھا، سقط ہوا۔
اس وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال اور پچھتر دن تھی۔
آپ کی شہادت کے سبب خلیفہ دوم عمر بن خطاب تھے،
جنہوں نے دروازے کو آپ کے شکم پر مارا،
اور دروازے کے سوراخ سے خنجر نما چیز آپ کے بدن پر چبھوئی،
نیز قنفذ (عمر کا غلام) نے آپ کو کوڑے مارے اور آپ کا ہاتھ زخمی و ٹوٹ گیا۔
خلافتِ ابوبکر کے جبر و بیعتِ اکراہ کے ایام میں وہ معصومہٴ طاہرہ اللہ کی رحمت کی طرف چلی گئیں۔
چونکہ آپ نے اس امت کے منافقین سے بہت اذیتیں اور بے حرمتی دیکھی تھیں،
جن میں سے ایک یہ تھی کہ فدک چھین لیا گیا اور حضرت کے حق کی تحریر پھاڑ دی گئی،
نیز دشمنوں نے آپ پر جھوٹی تہمتیں لگائیں۔
آپ نے انہیں حلال نہیں کیا اور وصیت فرمائی کہ
“وہ لوگ میری جنازے میں حاضر نہ ہوں،
میری نمازِ جنازہ نہ پڑھیں۔”
📜 یہ تمام واقعات بہت سی مختلف اسناد سے روایت ہوئے ہیں۔
📚 ماخذ: تذکرة الأئمة، علامہ محمد باقر مجلسی، صفحہ 61
🔴 علامہ مجلسی اور کتابِ سلیم بن قیس کی اعتبار کے بارے میں بیان:
علامہ محمد باقر مجلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت اس وقت ہوئی جب عمر (علیہ اللعنہ) نے دروازہ آپ کے شکم پر مارا —
یہ اُس وقت کا واقعہ ہے جب وہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو زبردستی ابوبکر (لعنہ اللہ) کے لیے بیعت پر لے جانا چاہتے تھے۔
قنفذ جو عمر کا غلام تھا، عمر کے حکم سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو تازیانے مارے۔
یہ واقعہ عامہ و خاصہ (تمام فرقوں) کے نزدیک مشہور ہے،
اور اس کی تفصیلات کتابِ سلیم بن قیس ہلالی میں بیان ہوئی ہیں۔
انہی ضربات کے نتیجے میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا بیٹا محسن علیہ السلام سقط ہوا۔”
📚 ماخذ: روضۃ المتقین فی شرح من لا یحضره الفقیه، جلد 9، صفحہ 271
(ناشر: مؤسسۃ دار الکتاب الاسلامی)
🔴 علامہ مجلسی اور اعتبار_کتاب_سلیمبنقیس
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت اس وجہ سے ہوئی کہ عمر علیہاللعنہ نے گھر کا دروازہ اس بانو کے پیٹ پر مارا، جب امیرالمؤمنین علیہالسلام کو بیعت کے لیے ابوبکر لعنهالله کے پاس لے جانے کا ارادہ کیا گیا۔
اور قنفذ، عمر بن الخطاب کا غلام، نے ان کے حکم سے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پر تازیانہ مارا۔
یہ واقعہ عام اور خاص میں مشہور ہے اور مفصل طور پر کتاب سلیم بن قیس ہلالی میں نقل ہوا ہے۔
اس ضرب کے نتیجے میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا بیٹا محسن علیہالسلام ضائع ہو گیا۔
📚 روضة المتقین فی شرح من لایحضره الفقیه، ج9، ص271، ط. مؤسسه دار الکتاب الاسلامی
Invisibleislam.com
#invisible_islam
#بدر_علی
#تعلیمات_اہلبیتؑ
Gallery
Tap any image to view full screen